اکھنڈ بھارت یا اکھنڈ ہندوستان ایک رجوع مکرر سنسکرت اصطلاح ہے جس کے معنی “غیر منقسم ہندوستان” کے ہیں۔اس میں جنوب، مشرق اور وسط ایشیا کی وہ تمام اقوام اور خطے شامل ہیں جو کسی بھی وقت ہندوستانی ریاستوں یا سلطنت کا حصہ رہے تھے یا ہندومت اور بدھ مت کے مذہبی پھیلاؤ کے جغرافیائی دائرے کے زیر اثر رہے تھے۔[1][2][3]

سبز رنگ سے اجاگر کیا گیا اکھنڈ بھارت کا ایک نقشہ جو موجودہ دور کے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، میانمار اور افغانستان کے ممالک پر مشتمل ہے۔
عظیم بھارت یا ان خطوں کا ایک نقشہ جن پر قدیم ہندوستان کے گہرے ثقافتی، سیاسی اور تاریخی اثرات رہے ہیں۔

تاریخ

ترمیم

برصغیر پاک و ہند کا خطہ مختلف ادوار میں بہت سی ریاستی اکائیوں اور سلطنتوں کا مرکز رہا ہے جن میں اشوک کے زیر نگیں بام عروج پر موریہ سلطنت، مغل سلطنت 1526-1700اور برطانوی راج پوری انیسویں صدی ، ان سب نے جنوبی ایشیا کی صورت گری پر بہت گہرے نقوش مرتب کیے۔[4]

تحریک آزادی ہند کے وقت کنہیا لال مانک لال منشی نے اکھنڈ ہندوستان کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی کا ماننا ہے کہ جب تک برطانوی ہندوستان میں ہیں اس وقت تک ہندو مسلم اتحاد کی کوئی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوگی کیونکہ برطانیوں کی یہ پالیسی ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو لہذا یہ ہمیں مجتمع نہ ہونے دیں گے۔اس کے علاوہ مظہر علی خان نے لکھا کہ خان برادر اکھنڈ ہندوستان کے لیے لڑنے کو پرعزم تھے اور انھوں نے لیگ کو صوبائی انتخابات سے پہلے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چیلنج بھی کیا تھا۔ 7-8 اکتوبر 1944 کو رادھا کمد مکھرجی نے دلی میں اکھنڈ ہندوستان کے قائدین کی کانفرس کی صدارت کی۔

معاصرانہ

ترمیم

موجودہ دور میں اکھنڈ بھارت یا اکھنڈ ہندوستان کے قیام کی تحریک ہندو قوم پرست تنظیموں کی طرف سے اٹھائی گئی آواز ہے مثلاً ہندو مہاسبھا، ککبھوسوندی انقلابی فورم، راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد، شیو سینا، ہندو سینا ، ہندو جناجاگرتی سمیتی اور بھارتیا جنتا پارٹی وغیرہ۔[5][6][7][8]اسی مقصد کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم اکھنڈ ہندوستان مورچہ نے تو اپنا تنظیمی نام ہی اس اصطلاح کو بنایا ہوا ہے۔ ہندوستان کی دیگر اہم سیاسی جماعتیں مثلاً بائیں بازو کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس وغیرہ اکھنڈ بھارت کے دوبارہ قیام کی تحریک کی حمایت نہیں کرتی، اگرچہ ہندوستان کشمیر ( ہندوستان، پاکستان اور چین کے درمیان منقسم ریاست) کو سرکاری نقشہ جات میں اپنا اٹوٹ انگ بتاتا رہا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. H. L. Erdman (17 December 2007)۔ The Swatantra Party and Indian Conservatisum۔ Cambridge University Press۔ صفحہ: 55۔ ISBN 9780521049801۔ The ultimate reunification of the subcontinent is a professed goal, as it is for the Mahasabha, but here, too, there is a difference in emphasis which deserves note: for the Sangh, the goal is 'Akhand Bharat', while for the Mahasabha it is 'Akhand Hindustan'. 
  2. M. G. Chitkara (1 January 2004)۔ Rashtriya Swayamsevak Sangh۔ APH Publishing۔ صفحہ: 262۔ ISBN 9788176484657۔ Those who dub Shri L.K. Advani, the Home Minister of India and others as foreigners, must realise that the freedom struggle was a mass movement of all the people of entire Akhanda Hindusthan (United Bharat). 
  3. Sumit Ganguly, Jai Shankar Prasad۔ "India Faces a Looming Disaster"۔ Foreign Policy (بزبان انگریزی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 اگست 2019 
  4. Yaqoob Khan Bangash (2019-08-08)۔ "From India to Bharat"۔ DAWN.COM (بزبان انگریزی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 اگست 2019 
  5. Jyoti Prasad Suda (1953)۔ India, Her Civic Life and Administration۔ Jai Prakash Nath & Co.۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولا‎ئی 2014۔ Its members still swear by the ideal of Akhand Hindusthan. 
  6. Yale H. Ferguson and R. J. Barry Jones, Political space: frontiers of change and governance in a globalizing world, page 155, SUNY Press, 2002, آئی ایس بی این 978-0-7914-5460-2
  7. Sucheta Majumder, "Right Wing Mobilization in India", Feminist Review, issue 49, page 17, Routledge, 1995, آئی ایس بی این 978-0-415-12375-4
  8. Ulrika Mårtensson and Jennifer Bailey, Fundamentalism in the Modern World (Volume 1), page 97, I.B.Tauris, 2011, آئی ایس بی این 978-1-84885-330-0