ایران میں سودی معیشت کے خلاف فتاویٰ

ایران میں انقلاب کے بعد معاشی نظام مغربی علوم پر قائم ہوا ہے اور ملکی معیشت سود پر چلتی ہے۔ اس مسئلے پر ایران کے مطلق العنان رہبر کو بھی اکثر دینی حلقوں کی جانب سے تنبیہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2018ءاور 2019ء کے سالوں میں ایران کے مذہبی مدارس کے شہر قم کے مراجع نے ملک میں سودی معیشت کے خلاف صدائےاحتجاج کو بلند کیا۔[1]

ایرانی مراجع کے بیاناتترميم

آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملیترميم

اپریل 2018ء میں آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے بیان میں کہا:

”قرآن نے شیطان کو مستکبر کہا ہے، لیکن میرے حافظے کے مطابق قرآن میں اس کو محارب نہیں کہا گیا۔ سودی بنک کاری اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ آپ بے شک کسی سال کا نام سالِ اشتغال و تولید رکھتے پھریں، (ایران کے رہبر نے اس سے پچھلے ایرانی سال کا نام سالِ اقتصاد مقاومتی: تولید و اشتغال رکھا تھا)، جب تک سرمایہ سودی ہو گا، اصلاح نہیں ہو گی“۔[2]

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازیترميم

فروری 2019ء میں آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے اپنے بیان میں کہا:

”بنکوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ قرضِ حسنہ پر چار فیصد کی مستقل شرح سود پر لوگوں سے اپنا معاوضہ وصول کریں، ہر سال شرحِ سود میں چار فیصد مزید شامل کرتے کرتے یہاں تک لے جاتے ہیں کہ پانچویں سال قرض کی باقی ماندہ رقم پر واجب الادا سود بیس فیصد تک جا پہنچتا ہے۔ قرضِ حسنہ کے نام پر کھلم کھلا سود خوری جاری ہے“۔[3]

آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانیترميم

ستمبر 2018ء میں آیت الله حسین نوری ہمدانی نے کہا:

”کئی بار کہا ہے کہ ہمارے بنک قرضے دے کر جرمانے کے نام سے جو رقم وصول کرتے ہیں، وہ سود ہے اور حرام ہے۔ لیکن حکمرانوں کو یا تو ہماری آواز سنائی نہیں دیتی یا وہ سنتے تو ہیں مگر عمل نہیں کرتے“۔[4]

آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانیترميم

فروری 2019ء میں آیت الله جعفر سبحانی نے کہا:

”لوگ بنک سے قرضہ لیتے ہیں اور بنک ان سے سود لیتے ہیں۔ اس سود کے ساتھ ساتھ قرضہ واپس کرنے میں تاخیر پر بنک لوگوں کو جرمانہ بھی کر دیتے ہیں۔ سب مراجع نے اس کو حرام کہا ہے۔ علما کی رائے کے مطابق عمل کریں“۔[5]

آیت اللہ العظمیٰ محمد علوی گرگانیترميم

فروری 2019ء میں آیت الله علوی گرگانی نے کہا:

”آج کل اقتصادی حالات برے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگ اپنے دینی فرائض بھی ادا نہیں کر پا رہے۔ ایسے موقع پر (بنکوں کو) عوام سے سود لینے میں جلدی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اسلامی نظام میں ایسے بنک چاہتے ہیں جو لوگوں کے خدمت گزار، مدد گار اور دست و بازو بنیں۔ براہ مہربانی اپنے سود کی شرح کو تھوڑا کم کیجیے تاکہ لوگوں پر دباؤ کم ہو۔ یا کم از کم حالات کے حساب سے سود لیا کریں، مثلاً جب معاشی سرگرمی تیز ہو تو سود لینے میں کوئی ہرج نہیں مگر جب معیشت کا پہیا سست ہو جائے تو لوگوں پر رحم کیا کریں اور کم سود لیا کریں“۔[6]

آیت اللہ العظمیٰ حسین مظاہریترميم

جنوری 2019ء میں آیت الله حسین مظاہری نے کہا:

”افسوس ہے کہ سود لینا اور سود دینا ایک عادت بن چکی ہے۔ بعض لوگ شرعی بہانے لگا کر ایسے سود کھاتے ہیں کہ مثلاً چوہے کو پانی سے دھو کر حلال قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح رشوت لینا اور دینا بھی نظام میں سرایت کر چکا ہے۔ معمولاً کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ کوئی گرہ رشوت کے بغیر نہیں کھلتی اور نہ کوئی  فائل پہیے لگائے بغیر آگے جاتی ہے“۔[7]

حوالہ جاتترميم

  1. "واکنش همزمان ۵ مجتهد و مرجع تقلید به «نظام بانکی ربوی»/گزینه‌های نظامی خدا روی میز است". 
  2. "فعالیت بانک ربوی، محاربه با خدا است". 
  3. "انفاق در شرایط فعلی یک وظیفۀ عمومی است". 
  4. "آیت‌الله نوری همدانی: بارها تأکید کرده‌ایم که اخذ دیرکرد توسط بانک‌ها حرام است ولی مسئولان عمل نمی‌کنند". 
  5. "آیت‌الله سبحانی: اخذ جریمه دیرکرد ‌حرام است؛ بانک‌ها مطابق نظر مراجع عمل کنند". 
  6. "انتقاد شدید آیت الله علوی گرگانی از گرانی های سرسام آور". 
  7. "رباخوردن و ربادادن عادی شده است".