منطقۃ البروج کو اگر 12 مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر 30 درجے پر مشمل حصہ برج کہلاتا ہے۔

عہد قدیم ہی سے تمام تہذیبوں میں ان بروج کے نام شمس کی سماوی گزرگاہ (طریق الشمس) پر موجود تاروں کے جھرمٹ سے منسوب ہے۔ حقیقتاً آسمان پر شیر، ترازو، بچھو، مچھلی وغیرہ نہیں بنے بلکہ پہچان اور سہولت 1کیaa خاطر ہر برج میں تاروں کے جھرمٹ سے بننے والی1 ممکنہ (خیالی) شبہیہ کو اس برج کا نام دے دیا گیا ہے۔

سادہ لفظوں میں اگر کہیں تو برج سے مراد نظرآنے والے آسمان کا مخصوص بارھواں حصہ ہے۔ اس حصہ پر نہ !صرف چاند سورج بلکہ دیگر کواکب حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ تمام کواکب میں سورج کا مشاہدہ سب سے سہل ہے نیز رائج (مغربی) کیلنڈر کی بنیاد اسی سورج کی سالانہ گردش پر ہے لہذا سورج (کم و بیش) مقررہ تاریخوں کو ہر برج میں داخل ہوتا ہے اس لیے شمسی برج کا تعین کرنا نہایت آسان ہے۔ اسی لیے سہولت کی خاطر عام بول چال اور اخباری زبان میں برج سے مراد شمسی برج ہوتا ہے۔ بسا اوقات لفظ ’’اسٹار‘‘ کو ’’برج‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم یہ اصطلاح غلط العوام ہے۔

شمس کی (بظاہر) یومیہ گردش ایک درجہ فی یوم ہے اس لیے سورج ایک برج میں اوسطاً 30 دن قیام کرتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص 14 اگست کو پیدا ہوا ہو تو وہ برج اسد کی پیدائش کہلاتا ہے۔ کیونکہ سورج ہرسال (اوسطاً) 23جولائی سے 23 اگست تک برج اسد میں گردش کرتا ہے۔ تاہم علم نجوم کا مطالعہ شمسی برج تک محدود نہیں، بلکہ طالع معہ بیوت اور تمامی کواکب کی 12 بروج میں حرکات و حالت کے بعد ہی کوئی حکم لگایا جاتا ہے۔

بیرونی روابط

ترمیم