اسے بگٹی تھیریم بھی کہا جاتا ہے، یہ طویل القامت ممالیہ میں سے ایک تھا اور بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پائی جانے والی قدیم نوع تھی، جو 20سے 30ملین سال قبل ہماری زمین پر موجود تھی اور اب معدوم ہو چکی ہے، اس کا وزن 20ٹن تھا، 1910میں برطانوی ماہر حجریات کلور فوسٹر کو اس علاقہ سے کچھ ہڈیاں ملیں مگر مکمل اجزاء نہ ملے تھے، 1999میں فرانسیسی ماہر حجریات جان لوپ ویلکم اپنی ٹیم کے ہمراہ یہاں آئے جائزہ لیا، پھر 1999کو کام شروع کیا 2000ء میں 40 مختلف مقامات سے مکمل ڈھانچہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے، اس کا مکمل ڈھانچہ پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری گارڈن ایونیو شکر پڑیاں، اسلام آباد میں بطور نمائش محفوظ ہیں،

حوالہ جاتترميم

پاکستان کے تاریخی آثار قدیمہ، کامران اعظم سوہدروی