بھگوان (ہندی:भगवान) کے معنی خوش قسمتی اور خوش بختی رکھنے والے کے ہوتے ہیں اور اس سے اس کا مفہوم الہامی، مقدس جلال اور شان و شوکت تک پہنچ کر ہندو مذہب میں خالق یا God کا لیا جاتا ہے اور اسے مطلق کامل طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔

اللہ اور بھگوانترميم

وضاحت: گویا اللہ کا لفظ بھی God کے معنوں میں آتا ہے اور اس وجہ سے یہ دیگر زبانوں میں اس لفظ کا متبادل تو کہا جاسکتا ہے مگر یہاں یہ فرق اور تمیز کرنا لازم ہے کہ اللہ سے مراد وہ خالق ہستی ہے کہ جو واحد ہے اور لاشریک ہے، نہ تو اس کی کوئی جسمانی یا مادی تشریح کی جاسکتی ہے نہ کوئی برقی اور توانائی کی۔ لہذا دیگر مذاہب کے ایسے خالق کے نام جو اپنا شریک رکھتے ہیں یا پھر یہ کو انکی ذاتی تعریف (مادی یا توانائی کے لحاظ سے ) بیان کی جاتی ہو وہ اللہ کا متبادل نہیں کہے جاسکتے، ان کے لیے مناسب اور متبادل لفظ دیوتا ہے یا پھر یہ کہ خالق کہا جاسکتا ہے۔

حبیب

اللہ ،براہمہ کی تفصیل ہندومت اور اسلام می۔ ایک جیسی ہی ہے ذات کے اعتبار سے البتہ صفات کے لحاظ سے ہندومت میں شیو اور شنو کا تصور پایا جاتاہے۔ جو شاہد صوفیانہ غلطی ہوسکتی ہے ورنہ جب براہمہ خالق کائنات مطلق ہے بیٹا رکھے نہ باپ نہ وہ کای سے پیدا ہے اور نہ اس جیسا کوئی ہے نہ اسکی ابتداء ہے اور نہ ڈکی کوئی انتہا ہے نہ وہ وجود کا محتاج ہے۔ اس جیسے کے علاوہ کسی کو اگر کام سپرد کیا وہ براہمہ تو نہیں ہوسکتا ۔ جبکہ سپردگی تو اسلام میں بھی ہے جیسے جبرائیل کو وحی اور عزرائیل کو موت اور اسرافیل قیامت اور میکائیل کو بارش اور ہوا کا کام سپرد ہے ۔ لیکن خالق وہی ہے ۔ باقہ سب مخلوق