بیروٹ [1] مری سے ملحقہ سرکل بکوٹ، ہزارہ کی 100فیصد اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی یونین کونسل ہے۔ اس کے شمال میں مشہور کوہالہ پل (نیا کوہالہ پل تو اسی کی حدود میں ہے)، حضرت مولانا میاں پیر فقیراللہ بکوٹی کی درگاہ و آستانہ عالیہ بکوٹ شریف [2] اور آزاد کشمیر کا دار الحکومت مظفر آباد، مغرب میں خیبر پختونخوا کی سب سے اونچی چوٹی موشپوری، نتھیا گلی اور ایوبیہ، جنوب میں پنجاب کا انٹرنیشنل سیاحتی شہر مری[3][4] اور مشرق میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ واقع ہے۔

  • خوبصورت لوگوں کا خوبصورت بیروٹ*
  • پہلوانوں کی سرزمین بیروٹ*
یونین کونسل
Birote is located in Abbottabad District
Birote is located in Abbottabad District
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
ضلعضلع ایبٹ آباد
تحصیلتحصیل ایبٹ آباد
آبادی
 • کل50,012
  • تحریر و تحقیق
  • اسامه علی عباسی
  • مؤرخ الاسلامیه و علم الانساب

ضلع مری سے ملحقہ تحصیل ایبٹ آباد کے سرکل بکوٹ ہزارہ ریجن کی سو فیصد اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی یونین کونسل بیروٹ، قدرت کا ایک انمول تحفہ و دلفریب مناظر و معتدل موسم کے حسین امتزاج سے سرشار ایک خوبصورت وادی میرا آبائی گاؤں ہے۔ مشرق و مغرب سے پہاڑوں کے بیچ گھری اس خوبصورت وادی میں دلفریب مناظر، معتدل موسم اور قدرت کے حسین نظاروں کی بہترین جھلک دکھائی دیتی ہے جہاں صبح اٹھتے ہی اہلیان بیروٹ کوہ مشک پوری پر پڑتی سورج کی چمکتی شعاعوں کو دیکھتے ہیں تو وہیں مری اور ایوبیہ کے دلفریب مناظر اس وادی میں سموئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جہاں دریائے نیلم جہلم کا گنگناتا پانی تیز موجوں اور طیش و غضب میں کوہالہ میں شور مچاتے ہوئے اس وادی گلزار کے پاس سے گزرتا ہے تو وہیِں مشرق میں جنت نظیر آزاد کشمیر چمنکوٹ کی بلند و بالا چوٹیاں اس وادی کو اپنے دامن میں گھیرے ہوئے نظر آتی ہیں۔ محل و وقوع کے لحاظ سے یونین کونسل بیروٹ کے مشرق میں دھیرکوٹ، آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں کوہ مشک پوری و گلیات کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ واقع ہے جبکہ بیروٹ کے شمال میں بکوٹ اور قدیمی کوہالہ پل سے ملحقہ ضلع مظفرآباد آزاد کشمیر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جبکہ جنوب میں ملکہ کوہسار مری واقع ہے۔ گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیروٹ کا علاقہ قدرت کا وہ واحد جنکشن ہے جو بیک وقت صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبر پختونخوا اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی ارضیات میں رابطہ کا ذریعہ ہے۔ جغرافیائی مسافت کے لحاظ سے بیروٹ کا فاصلہ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد سے قریبا 100 کلومیٹر شمال مشرق اور ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر جبکہ ملکہ کوہسار مری سے قریبا 30 کلومیٹر شاہراہ کشمیر کی جانب بالترتیب 45 منٹ کی مسافت پر موجود ہے۔ بیروٹ کے مضافات میں واقع کوھالہ پل کو خطہ کوہسار مری اور مظفرآباد کشمیر کے مابین ایک جنکشن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے کیونکہ دونوں علاقہ جات سے کوھالہ کا فاصلہ اور مسافت یکساں اور ایک جیسی ہی یے۔

بیروٹ کی تاریخ و رسوم و رواج کے متعلق معروف کالم نگار عبیدالله علوی مرحوم نے اپنی کئی تاریخی آرٹیکلز و مضامین میں بہت ساری چیزوں کو لکھا ہے جس کے مطابق *بیروٹ* قدیمی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معانی *پہلوان* کے ہیں، یونین کونسل بیروٹ "بیروٹ کلاں" اور "بیروٹ خورد" جس کو مغلیہ دور حکومت میں فارسی زبان "کلاں" اور "خورد" کی اصطلاح دی گئی جس کے معانی "بڑے" اور "چھوٹے" کے ہیں، بیروٹ کلاں کے معانی "بڑا پہلوان" جبکہ بیروٹ خورد کا معانی "چھوٹے پہلوان" کے ہیں، یونین کونسل بیروٹ میں بیروٹ کلاں و خورد کے علاوہ کہو شرقی و کہو غربی کا وسیع و عریض رقبہ و اراضیات بھی اس کی حدود میں شامل ہیں اس کے علاوہ بیروٹ کی حدود ضلع مری کے آخری گاؤں دیول سے لے کر یونین کونسل بیروٹ کے آخری گاؤں عباسیاں، کوہالہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تاریخ میں لفظ *بیروٹ* کے متعلق دوسری روایت میں "بیروٹ" کا لفظ دراصل "بی - روٹ" قدیم پہاڑی زبان کے لفظ سے نکلا ہے جس کے معانی "بیس روٹیوں" کے ہیں۔

بیروٹ کی سرزمین، زمانہ قدیم میں ایک اہم تجارتی و لشکری گزرگاہ رہی یے، خطہ کوہسار مری اور ہزارہ سے کشمیر کی جانب تمام راستے اسی قدیم گزرگاہ سے گزرتے تھے۔ زمانہ قدیم میں بیروٹ کے قدیمی قبائل میں یہاں کیٹھوال اور کڑلال قوم سن 1400 عیسوی سے قبل یہاّں آباد تھے جس کو چمنکوٹ سے ڈھونڈ عباسی قبیلے کے بزرگ وزیر ملتان و سردار پونچھ کشمیر عماد الملک سردار طالب خان عباسی المعروف تولک شاہ المتوفی 1491 عیسوی نے کشمیر کے بادشاہ شاہ زین العابدین کے دور حکومت میں گگھڑ حکمران سلطان حمد خان کے والد کے ساتھ معاہدہ کی صورت میں سرکل بکوٹ اور مری کے علاقوں کو کیٹھوال اور کڑلال قبائل کے عمل دخل سے آزاد کروایا جب کیٹھوال اور کڑلال قبائل نے گگھڑوں کے خلاف اعلان بغاوت اور خراج دینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد گگھڑ سلطان کی جانب سے ان علاقوں کی مکمل خود مختاری اور خراج وصولی کی سند عماد الملک طالب خان عباسی المعروف تولک شاہ کو دی گئی جہاں آج بھی ان علاقہ جات میں ڈھونڈ عباسی قبیلے کے بزرگ تولک شاہ کی اولاد ہی آباد ہے۔ عماد الملک سردار طالب خان عباسی المعروف تولک شاہ نے راجگان پونچھ کی دختر نیک سے شادی کی جن سے ان کے تین فرزندان ملک قاسم خان عباسی المعروف چاند خان، ملک عبد الرحمان خان عباسی المعروف رتن خان اور ملک اعظم خان عباسی الشھید المعروف ہلال خان ہوئے جن کے نام والد کیطرف سے اسلامی اور نھنیال راجگان کیطرف سے ہندی رکھے گئے جو آج بھی انھیں ناموں کیساتھ مشہور و معروف ہیں اور انکا تذکرہ عباسیان ہند از مفتی نجم الدین ثمرقندی سن اشاعت 1819ء میں بھی درج ملتا ہے۔ وادی بیروٹ آج سے تقریبا 500 سال پہلے بمطابق 1500 عیسوی کو قدیمی قبائل کی علاقہ بدری کے بعد عماد الملک طالب خان عباسی المعروف تولک خان کے چھوٹے بیٹے ملک عبد الرحمان عباسی المعروف دادا رتن خان عباسی رح نے چمنکوٹ، آزاد کشمیر سے ہجرت فرماکر "عباسیاں، بیروٹ" میں سکونت پزیر ہوکر آباد کیا جو اپنے دور کے ایک بڑے جاگیردار اور عہدہ *ملک* ہونے کے باوجود وقت کے کامل ولی اور درویش صفت شخص بھی تھے اور انکا مزار چمنکوٹ آزاد کشمیر میں ہی مرجع خلائق یے۔ آپ بچپن میں نہایت وجیہہ و خوبصورت تھے جس کی بنا پر نھیال کیطرف سے آپ کا نام *رتن* رکھا گیا جو ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی *ستارے* کے ہیں۔ ملک عبد الرحمان خان عباسی المعروف رتن خان نے چمنکوٹ سے ہجرت کیبعد کوہالہ کے قریب گاؤں دیوان عباسیاں میں ہی مستقل سکونت اختیار کی جس سے آپ کی اولاد کوہ مری و سرکل بکوٹ ہزارہ و گلیات کی طرف آباد ہوتی چلی گئی اور آپ ڈھونڈ عباسی قبیلے کی شاخ رتنال ڈھونڈ کے مورث اعلی ہیں۔

حضرت ملک عبد الرحمان المعروف دادا رتن خان عباسی رح کے والد عمادالملک سردار طالب خان عباسی المعروف تولک خان، شاہ حسین لنگاہ بادشاہ ملتان کے دور حکومت میں ریاست ملتان کے وزیر اعظم بھی رہے اور ملتان میں ہی بغاوت کے پیش نظر آپکو اپنے بیٹے ملک اعظم خان عباسی المعروف ہلال خان کے ساتھ شھید کر دیا گیا تھا۔ کشمیر کے بادشاہ، شاہ زین العابدین کے دور حکومت میں آپ علاقہ پونچھ موجودہ ضلع باغ آزاد کشمیر اور مضافات علاقہ مری و سرکل بکوٹ ہزارہ کے علاقوں کے نگران و سردار اعلی بھی مقرر رہے اسی وجہ سے عماد الملک طالب خان عباسی المعروف تولک خان عباسی کو *سردار پونچھ* کہا جاتا تھا اور آپ چندال اور رتنال ڈھونڈ شاخوں کے حقیقی مورث اعلی ہیں بایں وجہ مستقبل میں آپ کی اولاد ان علاقوں میں بااثر رہی جس کا تفصیلی زکر عباسیان ہند از مفتی نجم الدین ثمرقندی سن اشاعت 1819ء میں درج ملتا ہے۔ عماد الملک سردار طالب خان عباسی  مشہور زمانہ سپہ سالار الجیش العرب محمود غزنوی و شمالی پاکستان کے عباسیوں کے جد امجد غازی الھند سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ المعروف سردار ضراب خان عباسی رح المتوفی 1072ء کی نسل سے ولی کامل اور ڈھونڈ عباسی قبیلے کے مورث اعلی حضرت شاہ ولی خان عباسی المعروف دادا ڈھونڈ خان عباسی رح جو امام الاولیاء حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رح کے مرید خاص تھے، ان کی پشت سے سلسلہ چشتیہ قلندریہ کے عظیم بزرگ ولی کامل و مرد قلندر اعلی حضرت پیر نعمت شاہ عباسی، لقب دائمت بابا المعروف پیر دادا ڈھمٹ خان عباسی رح المتوفی 1400ء مزار بمقام دناہ شریف، گھوڑا گلی مری کے پڑپوتے تھے۔ 

یونین کونسل بیروٹ میں آبادی و اقوام کے لحاظ سے سنہ 1450ء میں ڈھونڈ عباسی کے عمل دخل کے بعد یہاں کا قدیمی و جاگیردار قبیلہ ڈھونڈ عباسی ہی ہے اور قریبا 90% سے زیادہ آبادی کا تعلق ڈھونڈ عباسی قبیلے سے ہی ہے۔ یونین کونسل بیروٹ میں ملک عبد الرحمان خان عباسی المعروف دادا رتن خان عباسی کے سب سے چھوٹے بیٹے ملک لہراسب خان عباسی کی اولاد آباد ہے جو رتنال ڈھونڈ شاخ کے زیلی لہرآل قبیلے کے مورث اعلی ہیں۔ اسی نسبت سے سرکل بکوٹ ہزارہ کو لہرآل قبیلے کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ یونین کونسل بیروٹ میں ملک لہراسب خان عباسی کے بیٹے پہلوان خان کے چار فرزندان کی اولاد ہی آباد ہے اسی نسبت سے بیروٹ کو چار بھائیوں کی اولاد کا گھر کہا جاتا ہے جن میں سردار چنگیز خان عباسی المعروف دادا چنگس خان، معظم خان عباسی المعروف مویو خان، نکودر خان اور خان محمد خان تھے جو چنگسال، موہیوال، نکودرال اور خانال برداریوں کے مورث اعلی ہیں جو یونین کونسل بیروٹ میں بیروٹ کلاں، بیروٹ خورد، کہو شرقی اور کہو غربی کے تمام علاقہ جات و ارضیات پر مالکانہ حقوق کیساتھ قدیمی آباد ہیں۔ مرکزی بیروٹ کلاں اور عباسیاں میں حاکم بیروٹ کلاں سردار چنگیز خان عباسی المعروف دادا چنگس خان کی اولاد آباد ہے جو عباسیاں سے آکر سنگرلالاں بیروٹ کلاں میں آباد ہوئے اور ڈھونڈ عباسی قبیلے کی چنگسال لہرآل شاخ کے مورث اعلی ہیں جس کی زیلی تین بڑی برادریاں سالم آل ، سیچوال اور سیدال ہیں جو مرکزی بیروٹ کلاں سے لے کر بکوٹ تک آباد ہیں۔ علاقائی و تاریخی حوالے سے ڈھونڈ عباسی قبیلہ اس علاقے کا وارث ہے باقی تمام اقوام و قبائل ماضی قدیم میں بسلسلہ روزگار اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ان علاقوں میں بحیثیت مہاجر اقوام آباد ہوتی رہے جنکو ارضیات و رقبہ جات ماضی میں ڈھونڈ عباسی قبیلے کے سرداروں نے عنایت کیے۔

موجودہ دور کے لحاظ سے یونین کونسل بیروٹ کی آبادی 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جو تحصیل مری سے ملحقہ ضلع ایبٹ آباد کے سرکل بکوٹ ہزارہ کی سب سے گنجان آباد یونین کونسل ہے جو تاریخی، مذہبی، تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے خطہ سرکل بکوٹ ہزارہ میں بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بیروٹ میں پہلا انگریزی اسکول سنہ 1904ء میں کھولا گیا جبکہ موجودہ یہاں پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں، کالجز، مساجد اور دینی درسگاہوں کی بہتات اس قدر یے کہ پورے سرکل بکوٹ میں سب سے زیادہ تعلیمی و دینی ادارہ جات وادی بیروٹ کلاں میں موجود ہیں۔ بیروٹ کلاں میں موجود بازار اس پورے خطہ کوہسار میں دیول بازار کے بعد گنجان ترین بازار ہے جس کی وجہ سے اہلیان بیروٹ بسلسلہ روزگار زیادہ تر کاروبار سے ہی منسلک ہیں اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ جات میں بیروٹ کلاں کا نام مکمل طور پر نمایاں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے مری سے راولپنڈی ٹرانسپورٹ سروس کا مرکزی اڈا ہوتریڑی چوک، بیروٹ کلاں میں ہی واقع ہے جس میں قریبا 70 سے زائد ٹیوٹا بسز اور کوسٹرز روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچاتی ہیں۔

1857ء میں ملکہ کوہسار مری میں انگریز سامراج کے خلاف لڑی جانے والی جنگ آزادی میں، بیروٹ کلاں کے سردار لالی خان عباسی کا شمار، حریت پسندوں کے قائد سردار شیر باز خان عباسی کے قریبی رفقا و حامیان میں ہوتا تھا، جس کی پاداش میں 1857ء میں انگریز حکومت نے سردار شیر باز خان عباسی کو ان کے 8 بیٹوں اور بیشمار رفقا کے ہمراہ ایجنسی گراؤنڈ، مری میں توپ کے آگے باندھ کر اڑایا اور اس طرح حریت پسندوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ خطہ بیروٹ کو اس خصوصی بغاوت اور روش کے پیش نظر ہی انگریز حکومت نے مری سے علاحدہ کیا حالانکہ قدرتی اور جغرافیائی لحاظ سے بیروٹ کلاں کا علاقہ خطہ کوہسار مری کا ہی ایک حصہ ہے۔ 1914ء سے 1919ء میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم میں بیروٹ سے 42 افراد نے شرکت کی جن میں سے 5 شہید بھی ہوئے جس کے اعتراف میں انگریز حکومت برطانیہ کیطرف سے سنگ مرمر کا فریم شدہ کتبہ ڈیوڈ اسٹارز کیساتھ بیروٹ کے سرکاری اسکول میں نصب کیا گیا تھا۔ بیروٹ کی سرزمین ہمیشہ حریت پسندوں اور جنگجوؤں کی آماہ جگاہ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 1948ء میں ڈوگرہ ریاست پونچھ کشمیر کے خلاف مجاہد اول و سابق صدر آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان عباسی کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کشمیر میں مجاہدین کا بیس کیمپ "عباسیاں، کوہالہ" رہا ہے اور جہاد کا پہلا تحریری و دستاویزی عہدنامہ جامع مسجد عباسیاں میں ہی بدست مجاہد اول سردار عبد القیوم خان عباسی لکھا گیا جس کا زکر بارہا مجاہد اول نے اپنی تصانیف و ویڈیو بیانات میں کیا ہے۔ اس زمرے میں اہلیان عباسیاں و بیروٹ کلاں نے سردار عبد القیوم خان عباسی کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے شانہ بشانہ ڈوگرہ سکھ ریاست کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان روس کی جنگ میں مجاہدین کے کئی قافلے سرزمین بیروٹ سے بسلسلہ جہاد روانہ کیے گئے تاکہ دشمنان اسلام کو ناکوں چنے چبوائے جاسکیں۔ سرزمین بیروٹ دنیاوی اور دینی علوم کی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے سرزمین بیروٹ میں سیاسی، مذہبی، سماجی، کاروباری، دنیاوی و دینی رنگ دیکھنے کا سلسلہ ملتا ہے گویا سرزمین سرزمین بیروٹ قوس و قزح کیطرح مختلف رنگ و روپ دھارے ہوئے ہے۔ بفضل تعالی بہادروں اور غیرت مندوں کی سرزمین ہے اور اس سرزمین بیروٹ نے ملک کے نامور صحافی، سیاست دان، بیوروکریٹس، فوجی افسران، پروفیسرز، وکلا،  ڈاکٹرز و انجینئرز پیدا کیے جن کا تذکرہ اگر شخصیات کے تعارف کے طور پر کیا جائے تو اس پر ایک علاحدہ کتابچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ دور حاضر میں اس پرفتن دور اور نفسا نفسی کے عالم کے باوجود سرزمین بیروٹ غیر ضروری تعمیرات، شور و غل ہنگاموں اور کنکریٹ کا ڈھیر بننے سے محفوظ ہی ہے جہاں آج بھی موسم بہار میں پرندے چہچہاتے، فصل لہلہاتی اور میٹھے پانی کے چشمے بہتے ہیں، یہاں کے لوگ قدیمی رسوم و رواج اور ثقافت کے آج بھی امین ہیں، شادی بیاہ اور وفات کے موقع پر علاقائی رسوم رائج ہیں، جرگے اور نمبرداری کا انتِظام تاحال موجود ہے۔ ماضی قدیم میں یونین کونسل بیروٹ کو زرعی لحاظ سے زرخیر اور آبشاروں کی سرزمین کے نام سے بھی میں جانا اور پہچانا جاتا تھا۔

[ عباسی الخراسانی از اسامہ علی عباسی سے ماخوذ ]

Birote

حوالہ جات

ترمیم
  1. Birote - Wikipedia
  2. Bakot / Bakot, North-West Frontier, Pakistan, Asia
  3. "آرکائیو کاپی"۔ 05 اگست 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2013 
  4. عباسی،نور الہٰی، تاریخ مری

زمرہ: عباسی الخراسانی از اسامہ علی عباسی