بین نسلی شادی ایک قسم کی ماورائے زمرہ شادی ہے جس میں زوجین کا تعلق دو مختلف نسلوں سے ہوتا ہے۔ یہ تاریخی طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا میں مکروہ سمجھا جاتا تھا، جب کہ یہ جنوبی افریقا میں ممنوع تھا۔ اسے 1967ء میں ریاستہائے متحدہ میں قانونی حیثیت حاصل ہوئی جب ریاستہائے متحدہ کے سپریم کورٹ نے لوینگ بمقابلہ ورجینیا مقدمے میں یہ فیصلہ سنایا کہ نسل پر مبنی حد بندیاں جو یہ طے کرتی ہیں کہ افراد کن اشخاص سے شادی کریں ملک کے دستور کی مساوی تحفظ کی دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

بین نسل شادی کی ہمہ نسلی سماج میں اہمیتترميم

سیاسی، مذہبی اورسماجی شخصیات نے بین نسل شادی کی ہمہ نسلی سماجوں میں اہمیت پر زور دیا ہے۔ 2016ء میں بھارت کی مرکزی کابینہ میں شامل کیے گئے دلت لیڈر رام داس اٹھاولے نے گجرات میں دلتوں پر حملوں جیسے واقعات نہیں دہرائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ گائے کا تحفظ ضروری ہے لیکن انسانوں مزید ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قانون سے اس بات کی یقینی نہیں بنایا جاسکے گا کہ دلتوں کے خلاف جرائم نہ ہوں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشورہ دیا کہ بین نسلی شادیوں کو فروغ دینے سے معاشرے میں ذات پات کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔[1]

حوالہ جاتترميم

==بیرونی روابط==*