تاریخ یمینی جو تاریخ عتبی کے نام سے بھی معروف ہے، عربی کی ایک کتاب جو ابو منصور ناصر الدین سبکتگین اور محمود غزنوی کے احوال و ادوار حکومت کی تاریخ اور وقائع پر مشتمل ہے۔ نیز اس میں پانچویں صدی ہجری تک ایران کی تاریخ بھی ذکر کی گئی ہے۔ یہ کتاب ابو نصر محمد بن عبد الجبار عتبی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب دور دور غزنوی کا اہم ترین اور تاریخ ایران کا قدیم و مستند ماخذ سمجھی جاتی ہے۔[1]

یہ کتاب محمود غزنوی کے دور حکومت میں لکھی گئی ہے، چنانچہ محمود غزنوی کے لقب یمین الدولہ کی مناسبت سے اس کتاب کا نام تاریخی یمینی رکھا گیا ہے۔ اس کتاب کا طرز کتابت و انشاء خاصا مشکل اور تکلف سے پر ہے، جس کی وجہ سے مضامین کتاب کو سمجھنے میں انتہائی دشواری پیش آتی ہے۔ چنانچہ ساتویں صدی ہجری میں ابو الشرف ناصح جرفادقانی (گلپائگانی) نے تاریخی یمینی کی شرح لکھی، اسی دور میں اس کتاب کا فارسی ترجمہ بنام ترجمہ تاریخی یمینی بھی سامنے آیا۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. انسائیکلوپیڈیا عالم اسلام، مضمون: تاریخ یمینی (یا تاریخ عُتبی)
  2. ﻭﺭﻫﺮﺍﻡ، ﻏﻼﻣﺮﺿﺎ. ﻣﻨﺎﺑﻊ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺩﺭ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺳﻼﻣﯽ. اشاعت اول۔ ﺗﻬﺮﺍﻥ : ﺍﻣﯿﺮ ﮐﺒﯿﺮ، 1371 . ﺹ33