محمود غزنوی

سلطان محمود غزنوی ایک بہت ہی اچھا اور بہادر حکمران گزرا ہے۔ جس کی حکومت ہندوستان پر 999 سے 1030 تک قائم رہی ہے۔اور سلطان محمود غزنوی اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والا اور انصاف پسند حاکم تھا جس نے ہندوستان میں انصاف کے ساتھ حکومت قائم کی۔

یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین المعروف محمود غزنوی (2 نومبر 971 ء - 30 اپریل 1030) سلطنت غزنویہ کا پہلا آزاد حکمران تھا ، اس نے 999 سے 1030 تک حکومت کی۔ ان کی موت کے وقت ، اس کی سلطنت ایک وسیع فوجی سلطنت میں تبدیل ہوچکی تھی ، جو شمال مغربی ایران سے لے کر برصغیر میں پنجاب تک ، ماوراء النہر میں خوارزم اور مکران تک پھیلی ہوئی تھی۔

محمود غزنوی
(فارسی میں: ابوالقاسم محمود غزنوی‎ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Sultan-Mahmud-of-Ghazni.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 نومبر 971  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غزنی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 اپریل 1030 (59 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غزنی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد غزنوی

مسعود غزنوی

عزالدولہ عبدالرشید [2]
والد سبکتگین  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مناصب
سلطان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
اپریل 998  – 30 اپریل 1030 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اسماعیل غزنوی 
محمد غزنوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سومنات کی فتح مشہور مصور آفتاب ظفر کی نظر میں

محمود نے اپنے پیش رو سامانیوں کے بیوروکریٹک ، سیاسی اور ثقافتی رواج کو جاری رکھا ، جس نے شمالی ہندوستان میں ایک فارسی ریاست کے لیے بنیاد قائم کرنے کا ثبوت دیا۔ اس کا دار الحکومت غزنی اسلامی دنیا کے ایک اہم ثقافتی ، تجارتی اور فکری مرکز کی حیثیت سے تیار ہوا ، اس نے بغداد کے اہم شہر کا تقریبا مقابلہ کیا۔ دار الحکومت میں بہت سی ممتاز شخصیات ، جیسے البیرونی اور فردوسی سے اپیل کی گئی۔

وہ پہلا حکمران تھا جس نے سلطان ("اتھارٹی") کا لقب اختیار کیا تھا ، جس نے اس کی طاقت کی حد کی نشان دہی کرتے ہوئے خلافت عباسیہ کے سرغنہ کے نظریاتی رابطے کا تحفظ کیا تھا۔ اپنے اقتدار کے دوران ، اس نے سترہ بار برصغیر پاک و ہند (دریائے سندھ کے مشرق) کے کچھ حصوں پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی۔

ابتداٸی زندگیترميم

محمود زابلستان (موجودہ افغانستان) کے علاقے غزنی میں 2 نومبر 971 کو پیدا ہوا تھا۔ اس کے والد ، سبکتگین ، ایک ترک غلام کمانڈر (غلمان) تھے جنہوں نے 977 میں غزنوی سلطنت کی بنیاد رکھی ، جس پر انہوں نے سامانیوں کے ماتحت کی حیثیت سے خراسان اور ماوراء النہر پر حکمرانی کی۔ محمود کی والدہ الپتگین کی بیٹی تھی۔ محمود کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہے ، وہ احمد میماندی کا اسکول کا ساتھی تھا ، جو فارسی کا دار الحکومت زابلستان کا رہائشی تھا اور اس کا رضاعی بھائی تھا۔

خاندانترميم

محمود نے کوساری جہاں نامی ایک عورت سے شادی کی اور ان کے جڑواں بیٹے محمد غزنوی اور مسعود غزنوی تھے ، جو ایک کے بعد ایک اس کا جانشین ہوا۔ مسعود کے ذریعہ اس کے پوتے ، مودود غزنوی ، بھی بعد میں سلطنت کے حکمران بنے۔ اس کی بہن ، ستارِ مُعلّٰی کی شادی داؤد بن عطاء اللہ علوی سے ہوئی ، جسے غازی سالار ساہو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، جس کا بیٹا غازی صیاد سالار مسعود تھا۔

محمود کا ساتھی جارجیائی غلام ملک ایاز تھا اور اس سے ان کی محبت نے نظموں اور کہانیوں کو متاثر کیا۔

ابتدائی کیریئرترميم

994 میں محمود نے سامانی امیر ، نوح دوم کی مدد سے باغی فایق سے خراسان کو قبضہ کرنے میں اپنے والد سبکتگین کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ اس عرصے کے دوران ، سامانی سلطنت انتہائی غیر مستحکم ہو گئی ، داخلی سیاسی لہروں میں تبدیلی کے ساتھ ہی مختلف گروہوں نے قابو پانے کے لیے جدوجہد کی ، ان میں سب سے اہم ابوالقاسم سمجوری ، فائق ، ابو علی ، جنرل بختوزین نیز ہمسایہ آل بویہ اور قراخانیان شامل تھے۔

حکمرانیترميم

سبکتگین کا انتقال 997 میں ہوا اور اس کے بعد ان کے بیٹے اسماعیل غزنوی سلطنت غزنویہ کا حکمران بنا۔ سبکتگین کے زیادہ تجربہ کار اور بڑے محمود پر وارث کی حیثیت سے اسماعیل کی تقرری کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں۔ اس کی وجہ شایہ اسماعیل کی والدہ سبکتگین کے بوڑھے مالک الپتگین کی بیٹی ہیں۔ محمود نے جلد ہی بغاوت کر دی اور اپنے دوسرے بھائی ابوالظفر ، لشکر گاہ کے گورنر کی مدد سے ، اس نے اگلے سال غزنی کی لڑائی میں اسماعیل کو شکست دی اور غزنوی سلطنت پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس سال ، 998 میں ، اس کے بعد محمود نے بلخ کا سفر کیا اور امیر ابو الحارث منصور بی. نور دوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد اس نے ابوالحسن اصفرینی کو اپنا وزیر مقرر کیا اور اس کے بعد مغرب سے غزنی سے قندھار کا علاقہ لینے کے لیے روانہ ہوا جس کے بعد لشکر گاہ گیا ، جہاں اس نے اسے ایک عسکری شہر میں تبدیل کر دیا۔

ہندوستان پر حملےترميم

جب سبکتگین کی وفات اگست 997ء میں ہوئی تو اس وقت سلطان محمود اپنے باپ کی طرح سے نیشاپور کا حاکم مقرر تھا اور سلطان کا بھائی اسماعیل جو باپ کی وفات کے موقع پر غزنی میں موجود تھا، نے اپنے تاج پوشی کا اعلان کردیا۔ سلطان محمود نے پہلے خط کتابت کے ذریعے بھائی اسماعیل سے بات کرنے کی کوشش کی جب کوئی حل نہ نکلا تو 998ء میں غزنی پر حملہ کردیا۔ اسماعیل کی حکومت ختم کرکے خود غزنی کی سلطنت سنبھال لی۔

سلطان محمود جن کو اسلامی تاریخ کے چند عظیم جرنیلوں میں شامل کیاجاتا ہے،کی فوج کم و بیش ایک لاکھ تھی اور فوج میں عرب، غوری، سلجوق، افغان، مغل کے علاوہ دس سے پندرہ ہزار ہندو سپاہی بھی شامل تھے۔ ہندوستان سے جتنے بھی فوجی بھرتی کئے جاتے تھے۔ وہ بیشتر ہندو ہوتے تھے۔ ان کا کمانڈر بھی ہندوستانی ہوتا تھا جس کو سپہ سالار ہندوان کہا جاتا تھا ہندو فوجی افسروں میں چند ایک قابل زکر نام بیرپال، چک ناتھ، زناش،بجے راؤ اور سوھنی راؤ شامل تھے۔ عباسی خلیفہ نے 999ء میں سلطان محمود کو یمین الدولہ کا خطاب عطا کیا جس کی مناسبت سے سلطان محمود کے خاندان کی حکومت کو یمینی سلطنت بھی کہا جاتا ہے۔ محمود غزنوی نے ہرات کے قریب صحرا کنارے ایک خاص شہر ، ہاتھی نگر، تعمیر کیا کہ ان خطوں کی گرم آب و ہوا ہندوستان کے موسموں سے مطابقت رکھتی تھی۔ پھر اس نے ہندوستان سے لائے ہوئے سینکڑوں ہاتھیوں کی پرورش اس شہر میں کی۔ ہاتھیوں کے ساتھ انہیں سدھارنے والے بھی ہندستان سے منگوائے گئے اور یوں ہاتھی اس شہر میں خوش وخرم ہوگئے۔ محمود ہربرس ان ہاتھیوں کی مدد سے ہندوستان پر حملہ آور ہوتا اور واپسی پر انہیں غزنی کی بجائے ہرات کے قریب اس ہاتھی نگرمیں واپس بھیج دیتا تھا۔

سلطان محمود غزنوی جس کی سب سے بڑی وجہ شہرت ہندوستان پر سترہ حملے ہیں، کی بنیادی وجہ جان لینا انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ پاکستان کے علاقے لاہور سے پشاور تک کا علاقہ ایک ہندو راجہ جے پال کے زیر سلطنت تھا۔ جے پال اور سلطان محمود کے باپ سبکتگین کی ایک جنگ پشاور اور جلال آباد کے علاقوں میں 986ء میں ہوئی تھی، جس میں جے پال کو شکست ہوئی اور سبکتگین کی سلطنت دریائے سندھ کے ساتھ اٹک تک پھیل گئی تھی ۔سلطان محمود نے حکومت سنبھالتے ہی پشاور تک کے علاقوں میں چھوٹی چھوٹی مہمات کرکے اپنی سلطنت کو مضبوط کیا تو راجہ جے پال جو کہ پہلے ہی اپنی شکست کا بدلہ لینے کو بے تاب تھا، نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور غزنی پر حملے کے لئے نکل پڑا۔ 1001ء میں پشاور کے قریب راجہ جے پال اور سلطان محمود کی فوجوں کا ٹکراؤ ہوا۔ راجہ جے پال کو شکست ہوئی اور پورے خاندان سمیت گرفتار ہوگیا۔ مذاکرات اور ایک بھاری تاوان کے عوض رہائی کے بعد جے پال واپس لاہور آیا، چونکہ لڑائی سے پہلے جے پال اپنے اردگرد کے راجاؤں سے مدد لے کرگیا تھا اس لئے شکست کے بعد نہایت شرمندگی کی حالت میں اپنی حکومت بیٹے انندپال کے حوالے کرکے خود لاہور کے ایک دروازے کے پرانے برگد کے درخت کے پاس ایک بہت بڑی چتا جلائی اور جل مرا۔

سلطان محمود غزنوی نے دوسرا حملہ جو کہ 1004ء کو ہوا۔ بھنڈا یا بھیرہ جو کہ دریائے ستلج کے قریبی علاقوں پر مشتمل ریاست پر کیا جس کا راجہ بجی راؤ تھا۔ تیسرا حملہ ملتان کے حاکم ابوالفتح کے خلاف 1006ء میں کیا لیکن راستے میں ہی دریائے سندھ کے کنارے جے پال کے بیٹے انند پال کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی ۔سخت جنگ کے بعد انند پال کو شکست ہوئی اور بعض روایات کے مطابق وہ کشمیر پناہ لینے کے لئے بھاگ گیا۔ انند پال کو شکست دینے کے بعد سلطان محمود نے ملتان کا رخ کیا اور ملتان کو فتح کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ ملتان کا حاکم جے پال کے پوتے سکھ پال کو مقرر کیا جو اسلام قبول کرچکا تھا۔ جلد ہی سلطان محمود کو پھر ملتان جانا پڑا جہاں پر سکھ پال نے بغاوت کردی تھی۔ 1008ء میں سلطان نے سکھ پال کو شکست دے کر معزول کردیا۔ اسی دوران انند پال جو کہ شکست کھا کر کشمیر بھاگ گیا تھا، نے واپس آ کر ایک بار پھر سلطان کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انند پال نے اردگرد کے راجاؤں سے مدد لے کر ایک بہت بڑا لشکر اکٹھا کردیا۔ 1008ء کے آخری دنوں میں ایک بار پھر دریائے سندھ کے قریب اٹک کے علاقے میں جنگ کا آغاز ہوا۔ خونریز جنگ کے بعد انند پال کو ایک بار پھر شکست ہوئی۔

1009ء کے آخری مہینوں میں ایک بار پھر سلطان محمود نے ہندوستان پر حملہ کرکے پہلے نرائن پور کی ریاست کو فتح کیا اور پھر 1010ء میں ملتان کے گردونواح کے علاقے اپنی سلطنت میں شامل کرلئے۔ 1014ء میں سلطان نے انند پال کے بیٹے لوجن پال کو موجودہ کوہستان کے علاقے میں شکست دی اور مزید لوجن پال کی مدد کے لئے کشمیر سے آئے ہوئے ایک بڑے لشکر کو بھی شکست فاش سے دوچار کیا۔ 1015ء میں سلطان محمود نے کشمیر پر حملہ کیا اور لیکن برف باری کے باعث راستے بند ہونے پر بغیر جنگ کے ہی واپس آنا پڑا۔ 1018ء میں سلطان محمود نے پہلی بار پنجاب کے پار دریائے جمنا کے علاقے میں اپنی فوج کو اُتارا اور ہندوؤں کے مذہبی مقام متھرا کو فتح کرنے کے بعد ایک مشہور ریاست قنوج کا محاصرہ کرلیا۔ قنوج کے راجے نے سلطان سے صلح کا پیغام بھیجا اور سلطان کا باجگزار بننا قبول کرلیا۔ 1019ء میں قنوج کی ملحقہ ریاست کالنجر کے راجہ گنڈا نے قنوج پر حملہ کرکے راجہ کو قتل کردیا اس کی خبر جب سلطان محمود تک پہنچی تو وہ اپنے مطیع راجے کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے نکلا اور کالنجر پر حملہ کرکے اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔ راجہ لوجن پال اور راجہ گنڈا جو کہ سلطان محمود سے شکست خوردہ تھے۔ دونوں نے مشترکہ طورپر ایک بڑے حملے کی تیاری کی اور ایک بار پھر 1019ء میں ہی سلطان کو دوبارہ ان دونوں کی سرکوبی کے لئے ہندستان کا سفر کرنا پڑا۔ نتیجتاً دونوں راجاؤں کو شکست ہوئی اور ہندوستان سے ہندو شاہی راجہ کا خاتمہ ہوگیا۔

سلطان محمود غزنوی 1020ء سے 1025ء کے درمیانی عرصے میں سلطنت کے شمالی مغربی حصے اور دریائے فرات کی وادیوں میں فتوحات میں مشغول رہا۔ اسی عرصہ میں سلطان محمود کو اپنے مخبروں سے یہ اطلاعات متواتر مل رہی تھیں کہ شمالی اور وسطی ہندوستان کی تمام ریاستیں سلطان سے شکست کھانے کے بعد بدلہ لینے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی ہیں اور اب کے بار ایک مشترکہ حملہ کی تیاری ہے اس کے لئے گجرات کے علاقے کاٹھیاوار میں ایک بہت ہی مشہور مندر سومنات کو مرکز بنایا گیا ہے۔ سومنات سمندر کے کنارے ایک عظیم الشان مندر تھا، جسے پورے ہندوستان میں ہندوؤں کے درمیان ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ مندر میں موجود شیوا کے بت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شیوا بت کو غسل دینے کے لئے تازہ پانی روزانہ کی بنیاد پر دریائے گنگا سے لایا جاتا تھا۔ جنگ کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ سلطان نے پیشگی حملے کی تیاری کردی۔ غزنی سے سومنات تک فاصلہ تقریباً 2600 کلومیٹر بنتا ہے جس میں سے 500 کلومیٹر طویل مشکل ترین صحرائے چولستان اور راجستھان بھی پڑتا تھا۔

اکتوبر 1025ء میں سلطان کی فوج تیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ غزنی سے روانہ ہوئی۔ تین مہینوں کی مسافت کے بعد جنوری 1026ء میں سومنات مندر کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ ہندوستان کے طول و عرض سے مہاراجے اور راجواڑے اپنی اپنی فوج کے ساتھ مندر کی حفاظت کے لئے موجود تھے۔ جنگ کا آغاز ہوا اور ایک سخت مقابلے کے بعد سلطان محمود فتح یاب ہوا۔ مندر کو توڑ ڈالا گیا۔ یہی وہ مشہور جنگ ہے جس کی بنا پر بعض مورخین نے سلطان محمود کی ذات کو ایک لٹیرا مشہور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سومنات کے بعد سلطان محمود کی ہندوستان پر آخری لڑائی 1027ء میں ہوئی جو کہ دریائے سندھ سے دریائے بیاس کے درمیانی علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔

آخری دو تین سال سلطان محمود غزنوی بیمار بھی رہا اپنی آخری جنگی مہم 1029ء میں ایرانی علاقے رے میں انجام دی اور رے کے حاکم آل بویہ کو شکست دی

وفاتترميم

کہا جاتا ہے کہ دق اور سل کے مرض میں مبتلا ہوکر 30 اپریل 1030ء میں 59 سال کی عمر میں غزنی میں وفات پائی

حوالہ جاتترميم

  1. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/mahmud-von-ghazni — بنام: Mahmud von Ghazni — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ہندوستان کا تاریخی خاکہ مولف کارل مارکس فریڈرک اینگلز ترتیب و تعارف احمد سلیم صفحہ 15