تبادلۂ خیال:معتزلہ

پیغام لکھیں
جاری گفتگو

معتزلہ پر اردو زبان میں زیادہ معلومات موجود نہیں ہے۔ میرے خیال میں اس موضوع پرلکھنے کی ضرورت ہے۔

--Kumail89 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:37, 4 ستمبر 2015 (م ع و) kumail89


کچھ معلوماتترميم

معتزلہ موومنٹ – ایک فکری تحریک

جون ایلیا ١٩٥٩ میں انشا میں شائع ایک مضمون میں رقمطراز ہیں کہ اگر مجھ سے اسلامی مشرق کی فکری تنظیموں کے بارے میں سوال کیا جائے تو میں بلاتوقف معتزلہ کا نام لونگا معتزلہ کا یہ امتیاز باقی رہےگا کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کے خالص سیاسی دور میں اس قدیم ترین فکری ورثے کی حفاظت اور احیا کا فرض انجام دیا جو اسرائیلی دانشوروں نے چھوڑا تھا۔

متعزلہ موومنٹ کی ابتدا آٹھویں صدی کے آغاز میں ہوئی, بصرہ اور بغداد اس کا مرکز تھے اور تیس سال تک خلافت بغداد کا سرکاری نظریہ (official doctrine) رہا. عباسی خلیفہ مامون الرشید خود بھی متعزلہ نظریئے کا پیروکار تھا ‏مامون الرشید کے زمانے میں اس تحریک کو بامِ عروج حاصل ہوا. یہ موومنٹ آٹھویں صدی سے دسویں صدی تک جاری رہی سنہ ٨۴٨ میں خلیفہ متوکل باللہ نے اسے سرکاری نظریئے کے طور پر فارغ کردیا لیکن اس موومنٹ کے اثرات ختم نہ کرسکا. ‏عطاس ابن واصل متعزلہ موومنٹ کا بانی تھا. متعزلہ کا لفظی مطلب ہے "وہ جو الگ ہوگئے". عطاس ابن واصل اس زمانے کے مشہور دینی عالم حسن البصری کے تعلیمی حلقہ میں شامل تھا. ایک دینی اختلاف کی وجہ سے الگ ہوگیا, جو اس بات پر شروع ہوا کہ... ‏"کیا ایسا شخص جس سے کسی سنگین گناہ کا ارتکاب ہو وہ مومن ہے یا کافر", حسن البصری کے مطابق ایسا شخص مسلمان ہی رہے گا. واصل کا اختلاف یہ تھا کہ ایسا شخص نہ ہی مومن رہے گا نہ کافر. اس اختلاف کی وجہ سے عطاس ابن واصل اور اسکے ماننے والوں نے اپنا ایک الگ تعلیمی حلقہ بنا لیا. ‏متعزلہ کے تعلیمی حلقے میں مامون الرشید کے علاوہ الجاہز, الزماخشری اور قاضی عبدل الجبار بھی شامل تھے. علی عباس جلالپوری اقبال کا علم الکلام میں اس تحریکی رویے کی تشریح کچھ یوں فرماتے ہیں۔ معتزلہ کی رائے میں فعل کی استطاعت فعل کے ارتکاب سے قبل انسان میں موجود ہوتی ہے جبکہ اشاعرہ کے مطابق ہر فعل کے ارتکاب کے وقت خدا استطاعت پیدا کرتا ہے جسے انسان کسب کر لیتا ہے لیکن کسب کرنے سے وہ مختار نہیں سمجھا جاتا۔ کسب کا یہ نظریہ اس قدر خندہ آور ہے کہ مؤرخین اسے اشاعرہ کے عجائبات میں شمار کرتے ہیں :)

متعزلہ موومنٹ کی فکری سوچ کے بنیادی عناصر یونانی فلسفے سے لئے گئے تھے. جس میں منطتق اور استدلال (logic & reasoning) کے ذریعے اسلام کو سمجھنا تھا. ‏متعزلہ موومنٹ کا ماننا تھا کہ صرف بیان کردہ اسلامی اصول ہی آفاقی, روحانی اور مادی سچائیوں کو جانچنے کا پیمانہ نہیں بلکہ انسان اپنے عقل و شعور اور مشاہدات و تجربات کی روشنی میں انہیں جانچ سکتا ہے. انکے مطابق بہت سے دنیاوی معاملات میں انسانی عقل و شعور کا مقام الہامات سے بھی مقدم ہے, ‏کیونکہ انسان کے پاس Free will ہے جس کے شعوری استعمال پر پابندی یا سزا نہیں ہوسکتی. متعزلہ موومنٹ کے پانچ بنیادی اصول یہ ہیں.

١. خدا کی صفات جو قرآن میں ملتی ہیں جیسا کہ بصیر (دیکھنے والا) اسے خدا کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے.... ان کا استدلال یہ تھا کہ خدا کا جوہر (essence) نہ اسکے ناموں یا اسکی صفات سے وابستہ ہونا چاہیے. کیونکہ خدا کی صفات انسانی صفات سے مختلف ہیں.

٢. انصاف: متعزلہ انسان کی مکمل خود مختاری (free will) پر یقین رکھتے تھے جیسا کہ قدیم یونانی....‏...انکا استدلال یہ تھا کہ انسانوں کو خودمختارانہ فیصلے کرنے کا حق خود خدا نے انسانوں کو دیا ہوا ہے. ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عقلی طور پر خدا کا رحم یا فضل کا استعمال کرنا انصاف کی خلاف ورزی ہے جو خدا کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا. ‏

٣. وعدہ اور انتباہ: متعزلہ اس بارے میں بھی ایک عقلی رائے اور یقین رکھتے تھے کہ خدا انصاف کرنے کا پابند ہے.

۴. درمیانی حیثیت: متعزلہ اس بات یقین رکھتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان کسی گناہ کبیرہ کے بعد بغیر توبہ کئے مر گیا, تو وہ درمیانی حیثیت میں آگیا, یعنی اس کی حیثیت... ‏...نہ مسلمان کی ہےنہ کافر کی, لہذا خدا ان کو الگ طریقےسے انصاف دے گا.(یہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس پر اختلاف کی وجہ سے حسن البصری اور عطاس ابن واصل اور انکے ماننے والے دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے)

۵. حق کی پابندی اور غلط کاموں کی ممانعت: اسلام کے تقریبا تمام فرقوں میں یہ نقطہ...‏...تسلیم شدہ ہے جو کہ پیغبر اسلام کے اقوال و افکار سے براہ راست لیا گیا ہے, کہ برائیوں کو طاقت کے استعمال سے روکنا جائز عمل ہے.

سنہ ٨٣٣ میں خلیفہ مامون الرشید متعزلہ نظریئے کو سرکاری درجہ دے دیا۔ متعزلہ نظریئے کو سرکاری حیثیت ملنے کے بعد متعزلی عقیدے کے لوگوں نے عباسی خلافت میں زبردست طاقت حاصل کرلی اور متعزلی علماء ریاست میں اعلی عہدوں پر فائز ہوگئے. ‏متعزلہ سرکاری عقیدہ بننے کے باعث اس سے اختلاف کرنے والوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جانے لگا. اس وقت کے بہت سارے علماء نے متعزلہ عقیدے کی سرکاری حیثیت کو قبول کرلیا یا خاموشی اختیار کرلی جس کا سبب محنہ خلق القران (Mihnah) تھا. ‏محنہ خلق القران لاگو کرنے کے باعث متعزلہ ڈاکٹرائن سے انکار کرنے والوں کو ظلم و ستم, قید و بند, اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا حتی کے انہیں قتل بھی کیا گیا. امام حنبل جو کہ قدامت پسند تھے اور متعزلہ نظریئے کی کھلی مخالفت کرتے تھے... ‏ان کے ساتھ ریاست نےانتہائی ظالمانہ رویہ رکھا.محنہ کاسلسلہ خلیفہ مامون کے بعد بھی خلیفہ معتصم اور خلیفہ الواثق کے زمانے میں بھی جاری رہا.بالآخر سنہ ٨۴٨ میں خلیفہ متوکل باللہ نے امام حنبل کو رہا کیا اورمتعزلہ ڈاکٹرائن کو سرکاری طور پرختم کرکے پرانا religious dogma بحال کردیا.

یہ ایک علمی جنگ تھی جسے مخالفین نے مذہبی رنگ دے دیا۔ اس وقت تک اسلام روداری، برداشت اور وسیع المشربی والا دین تھا۔ فقہ کا سنہری دور جس میں اسلام کے چاروں بڑے فقہا موجود تھے وہ ابھی کچھ دیر پہلے تمام ہوا تھا۔ مگر ترقی کے اس عروج پر ایسے لوگ ابھر کو سامنے آئے جنہوں نے خوف کی تبیلغ شروع کی۔ ان لوگوں نے یہ سوچ پھیلانی شروع کی کہ اسلام میں اجتہاد کی نہیں تقلید کی ضرورت ہے۔ ہمیں فقہی ارتقا کو ختم کرکے ایسے مجموعے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو صحیح اسناد کے ساتھ روایت ہوں اور فقہی معاملات میں صرف انہیں سے استفادہ کیا جائے۔ اور اس علمی اور سائنسی ترقی کو ختم کرکے جمود کی کوشش کرنا چاہیے۔ دین کے ایک ارتقا پذیر فہم کی بجائے ایک جامد عقیدہ پرستی کی ضرورت ہے۔

مامون جیسا آفتاب غروب ہوا تو پتہ چلا کہ عباسیوں کے پاس اس علمی ارتقا کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ معتصم باللہ اور واثق محض اپنے عظیم بزرگ مامون کے احترام میں ان علمی کاوشوں کی معاونت کرتے رہے وگرنہ وہ دلی طور پر عقیدہ پرستوں سے مغلوب ہو چکے تھے۔ دربار میں ان ترک جنگجوئوں کا قبضہ ہو چکا تھا جن کو اس علمی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے متوکل کے لئے یہ ایک آسان فیصلہ تھا کہ ملک میں ایک عقیدہ پرستی کا دین رائج کیا جائے۔ بیت الحکمت کو دریائے دجلہ کے کنارے عقیدہ پرستوں نے آگ لگا دی۔ بعض مسیحی اور یہودی فتنہ گروں نے کچھ علمی کتب کو اپنے لبادوں میں چھپا لیا۔ خدا کی قدرت دیکھیے انھیں پوشیدہ کتب نے مستقبل کی نسلوں کو مسلمانوں کی علمی اور سائنسی ترقی کے بارے بتلانا تھا۔ معتزلہ کی تمام کتب کو آگ لگا دی گئی۔ ان کے عقائد کو باطل قرار دیا گیا۔ جامد عقیدہ پرستی کو فتح حاصل ہوئی۔ اجتہاد ختم ہوگیا، تقلید محض رہ گئی۔ فقہ کے اماموں کی بجائے احادیث کے اماموں کا دور آیا اور سائنس اور علم کی بجائے شدت پسندی اور انتہا پرستی کی شروعات ہوئی یوں یہ تاریخ اسلام کا ایک گمشدہ باب ٹھہرا۔

عالم اسلام میں اجتہاد کی بجائے تقلید جامد، عقل کی بجائے نقل اور علم کی بجائے روایت کا دور کب شروع ہوا تو اس کے لئے ہم کو اس دور میں جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جب معتزلہ کے زوال کا آغاز ہوا۔ یہ بات نہیں کہ معتزلہ کے تمام عقائد درست تھے یا تمام فقہی آئمہ اور تمام مسلم سائنسدان اور فلسفی معتزلی تھے۔ مگر یہ بات محض اتفاق نہیں کہ یہ تمام لوگ معتزلہ کے دور عروج سے تعلق رکھتے ہیں۔ معتزلہ نے عقل سلیم کو ہدایت کا ایک اہم ذریعہ تسلیم کیا تھا۔ معتزلہ نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ انسانی عقل ہدایت تک پہنچنے کا اتنا ہی اہم ذریعہ ہے جتنا کہ وحی خداوندی۔ چنانچہ ان کے اس تصور نے دوسرے فرقوں اور دوسری شخصیتوں کو بھی متاثر بھی کیا۔ معتزلہ کے زوال کے ساتھ ہی دوسرے فرقوں میں بھی اجتہاد کی جگہ تقلید جامد نے لے لی۔ مسلم سائنس کا سنہری دور ختم ہوگیا اور فقہ کے آئمہ کی جگہ احادیث کے آئمہ نے لے لی علم کی تحقیق کی جگہ راویوں کی پرکھ کے معیار طے کرنے اور ان کی تحقیق کے کام نے لے لی۔ اب کسی نئی بات کی کھوج کی بجائے یہ کھوج لگانے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ اس روایت کی اسناد درست ہیں اور ان کا کوئی راوی مجہول تو نہیں۔

اس سارے واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ معتزلہ حق کا واحد معیار تھے یا ان کے عقائد درست تھے۔ نہ ہی روایت کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ مگر یہ بتلانے کی کوشش ہے کہ معتزلہ نہ صرف عالم اسلام کی تاریخ کا ایک اہم باب تھے بلکہ انسانیت کی تاریخ میں بھی ایک اہم واقعہ کی حیثیث رکھتے ہیں۔ اگر معتزلہ اس طرح زوال کا شکار نہ ہوتے تو شاید اس سائنسی اور عقلی دور کی ابتدا یورپ کی بجائے عرب سے ہوتی۔ اور مسلمان واقعی ایک علمی اور سائنسی دور کی ابتدا کا سبب بنتے۔

اگر آپ معتزلہ اور ان کے مخالفین کے مباحث کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ حالانکہ یہ تمام مباحث معتزلہ کے مخالفین کے توسط سے ہم تک پہنچے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے فرقوں کی بڑی بڑی شخصیتیں مباحث میں معتزلہ کے علما کے سامنے دلیل نہیں دے پاتی تھیں۔ وہ ان کی مخالفت اس دلیل پر کرتی تھیں کہ انسانی عقل گمراہی کا باعث بنتی ہے اور صرف وحی خداوندی ہی ہدایت کا واحد اور حقیقی ذریعہ ہے۔ حتٰی کہ اشاعرہ نے اس میں کچھ ترمیم کی اور کہا کہ عقل انسانی کو وحی کا پابند ہونا چاہیے۔

بہت سے مورخین معتزلہ کا کردار علم کلام تک محدود رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معتزلہ کا حوالہ صرف علم کلام تک محدود ہے وہ مسلمانوں میں علم کلام کی ابتدا کرنے والے تھے۔ جب اشاعرہ کا مکتبہ فکر وجود میں آیا تو ان کی ضرورت ختم ہوگئی۔ حالانکہ معتزلہ کا اصل کردار ان کی علم اور سائنس میں دلچسپی کی وجہ سے تھا انھوں نے فلسفہ یونانی کو نہ صرف پڑھا اور سمجھا بلکہ اس میں بہت سا اضافہ بھی کیا اور نئی سائنسی ایجادوں میں بھی دلچسپی لی۔ معتزلہ کا عروج و زوال ہی دراصل اسلامی تاریخ میں سائنس و فلسفے کا عروج و زوال ہے۔فقہا کے مقابلے میں محدثین نے روایت پرستی اور نصوص کی ظاہری تشریح کو ہی مذہب قرار دیا جس میں عقل کا استعمال صفر تھا معتزلہ نے انہیں پس منظر میں دھکیلا لیکن بدقسمتی سے متوکل کے دور میں امام احمد بن حنبل نے روایت پرستی کو دوبارہ مین سٹریم کر دیا اور اسکے بعد مذہب کی یہی تشریح حتمی بن گئی۔۔

اس مضمون کو ترتیب میں لانے کیلئے مندرجہ ذیل مضامین سے استفادہ کیا گیا۔ ابن حسن : Mu'tazila Movement ہم سب آن لائن میگزین معتزلہ ایک فکری تحریک: جون ایلیا اقبال کا علم الکلام : علی عباس جلالپوری

جاوید احمد جمعہ ١٠ اپریل ٢٠٢٠ --امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 22:27، 11 اپریل 2020ء (م ع و)

فرقہ معتزلہ کی ابتداءترميم

فرقہ معتزلہ کی ابتداء کے بارے میں متفرق آراء تاریخ سے ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔ جن میں سے کچھ نمائندہ آراء درج ذیل ہیں۔ ۔ 1۔ اس رائے کے مطابق جب حضرت حسن رض نے جب خلافت سے دستبرداری قبول کرلی تو لوگوں میں سے ایک جماعت نے خود کو حضرت حسن اور حضرت امیر معاویہ دونوں سے الگ کرکے عبادت و حصول علم میں مشغول کرلیا۔ یہی سیاسی اعتزال یعنی چھوڑ دینا ان کیلئے معتزلہ کے لقب میں ڈھل گیا۔ اس کا ظہور حسن بصری کے مدرسے میں ہوا تھا اور انہوں نے اس دور میں ہونے والی جنگوں سے خود کو الگ تھلگ رکھا۔ ۔ 2۔ اس رائے کے مطابق اعتزال کی ابتداء حضرت علی رض کے غیر فاطمی بیٹے محمد بن حنفیہ کی اولاد ابو ہاشم عبداللہ اور حسن سے ہوئی۔ حسن کی خوارج سے ایمان کے مسئلے پر مباحث ہوئے۔ ان کی جماعت مرجئہ بھی کہلائی۔ ۔ 3۔ اس رائے کے مطابق حضرت حسن بصری رح کے علمی حلقے میں شامل واصل بن عطاء دراصل فرقہ معتزلہ کا بانی ہے۔ دراصل کسی نے حضرت حسن بصری رح سے سوال پوچھا کہ ایک گروہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر نہیں قرار دیا جاسکتا۔ آپ کے نزدیک ان میں سے کون درست ہے؟ حضرت حسن بصری رح کے جواب دینے سے قبل ہی واصل بن عطاء بول پڑے کہ میری رائے میں نہ ایسا شخص کافر ہے اور نہ ہی مومن بلکہ اسکے بین بین ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ واصل بن عطاء نے اس کی پرزور تلقین بھی دیگر حاضرین میں شروع کردی۔ اس پر حسن بصری رح نے کہا کہ ھذا الرجل اعتزال عنا یعنی یہ شخص اعتزال کر گیا (ہم سے الگ ہوگیا)۔ یہی لفظ اعتزال پھر واصل کے فکری گروہ کی شناخت بن گیا۔ ۔ 4۔ اس رائے کے نزدیک معتزلہ کا یہ نام بابینا جلیل القدر تابعی قتادہ بن دعامہ سروسی نے دیا۔ عمرو بن عبید اور ان کے ساتھی حضرت حسن بصری رح سے اختلاف کے بعد اپنا الگ حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ جہاں یہ نابینا تابعی اسے حسن بصری رح کا حلقہ سمجھ کر بیٹھ گئے۔ جلد ہی ان پر حقیقت واضح ہوئی تو اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا یہ تو معتزلہ ہیں۔ بس یہاں سے اس گروہ کو معتزلہ پکارا جانے لگا۔ ۔ 5۔ اس رائے کے مطابق ان لوگوں کو معتزلہ پکارنے کا سبب ان کا خود کو اجماع امت سے الگ کرنا ہے۔ گو معتزلہ اس الزام کو سختی سے رد کرتے ہیں۔ ۔ 6۔ اس رائے کے مطابق یہ اسلئے معتزلہ کہلائے کیونکہ ان کے ابتدائی اکابر جیسے واصل بن عطاء، عمرو بن عبید، جعفر بن مبشر یا جعفر بن حرب وغیرہ دنیا سے الگ تھلگ زہد و قناعت کی زندگی گزارتے تھے۔ ۔ 7۔ اس رائے کے مطابق یہودیوں میں ایک گروہ فروشیم تھا جس کے معنی معتزلہ کے ہیں۔ ان کے عقائد اسلامی فرقہ معتزلہ سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہود میں سے جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے عقائد میں مماثلت کے سبب معتزلہ کو یہ نام دیا۔ ۔ 8۔ اس رائے کے مطابق معتزلہ کا نام مخالفین کا دیا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ اس لقب کو انہوں نے خود اختیار کیا۔ یہ کہہ کر کہ ہم نے خود کو بدعات سے الگ کیا ہے۔ گویا بدعات سے اعتزال ہی معتزلہ کی وجہ تسمیہ ہے۔ 73 فرقوں میں اعتزال کرنے والا جو ایک گروہ جنتی ہوگا ، معتزلہ اس لقب کے ذریعے اپنی نسبت اس کی جانب کرتے ہیں۔ گو کہ تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ معتزلہ اپنے لئے "اہل العدل والتوحید" کا نام پسند کرتے تھے۔ اہل سنت کے کئی مورخین نے ان کا زکر اسی نام سے کیا ہے۔ معتزلہ نے اپنی تصانیف میں خود کو معتزلہ بھی کہا، اہل حق بھی، فرقہ ناجیہ بھی اور اہل العدل التوحید بھی۔ ۔ 9۔ اس رائے کے مطابق معتزلہ کا آغاز واصل بن عطاء سے بہت پہلے ہوچکا تھا اور خود حسن بصری رح بھی اسی کا حصہ تھے۔ کچھ کے مطابق یہ شیعان علی رض ہی تھے، کچھ کے مطابق یہ فرقہ قدریہ کی ہی ایک بگڑی صورت تھے۔ کچھ خوارج کچھ جہمیہ کچھ ثنویہ سے ان کا تعلق جوڑتے ہیں۔ گو ان میں سے ہر ایک کی پیش کردہ دلیل ناقص معلوم ہوتی ہے۔ ۔ جو بات مجھے قرین قیاس لگی وہ پہلی اور تیسری رائے کو بیک وقت اپنانے سے حاصل ہوتی ہے۔ گویا ایک سیاسی اعتزال تھا جو آگے بڑھ کر فکری اعتزال میں ڈھلتا چلا گیا۔ ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ --امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:16، 30 جنوری 2022ء (م ع و)

معتزلہ کے نظریاتترميم

معلومات درکارہے 182.185.11.123 14:04، 9 فروری 2022ء (م ع و)

واپس "معتزلہ" پر