تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبد العزیز دہلوی کی کتاب ہے جو اہل تشیع کے عقائد کی رد میں لکھی گئی ہے۔[1]

تحفۂ اثنا عشریہ
کتاب تحفہ اثناعشریہ.gif

مصنف شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع اثنا عشری شیعیت پر تنقید  ویکی ڈیٹا پر (P921) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کتاب کی زبانترميم

اصل کتاب فارسی زبان میں تصنیف کی جو بڑے سائز کے تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے یہ کتاب پہلی مرتبہ 1204ھ میں مطبع ثمر ہند لکھنوء سے شائع ہوئی اور پھر نولکشور مطابع وغیرہ میں بھی طبع ہوتی رہی پہلی مرتبہ یہ کتاب شاہ عبد العزیز کے تاریخی نام غلام حلیم سے طبع ہوئی [2]

اردو ترجمہترميم

تحفہ اثنا عشریہ اصل کتاب تو فارسی میں ہے متعدد اہل علم نے اس کا اردو میں ترجمہ کیاہے زیرنظر ترجمہ مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی مظاہری کا ہے۔

انسائیکلوپیڈیاترميم

تحفہ اثنا عشریہ فی الحقیقت ایک عہد آفرین کتاب ہے جس کی تالیف میں شاہ صاحب نے بے حد محنت و جانفشانی سے کام لیا قوت بیان اور ندرت کلام اور ایجاز و اختصار کے ساتھ مطالب و معانی اور بے شمار ناقابل تردید دلائل ایسے دلنشین اورمتین انداز میں تحریر کئے گئے ہیں کہ اس سے قبل ایسی جامع و مانع کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی اس کتاب میں شیعہ سنی مسائل و مباحث کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کر دیا گیا ہے کہ جس کے بعد اس موضوع پر کسی اور کتاب کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور بحث و مناظرہ میں اکثر علماء اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ شیعہ سنی معاملات کے تمام مباحث اس کتاب میں نہایت جامعیت کے ساتھ آگئے ہیں اگر تحفہ اثنا عشریہ کو ان مسائل کی انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو وہ بالکل درست ہوگا۔

طرز تحریرترميم

اس کتاب میں شاہ صاحب نے شیعہ مذہب کی ابتداء ، ان کے بے شمار فرقے شیعوں کےاسلاف وعلماء اور ان کی کتب واحادیث اور ان کے راویوں کے حالات، ان کے مکروفریب کے طریقے جن سے وہ سادہ لوگوں کواپنے مذہب کی طرف لاتے ہیں ۔الوہیت ، نبوت ، معاد اور امامت کے بارے میں شیعہ کے عقائد،صحابہ کرام اور ازواج مطہرات اور اہل بیت کے متعلق ان کے عقائد اور اس موضوع کے متعلق تمام مباحث اس میں کتاب میں جمع کردئیے گئے ہیں۔ [3]۔

وجہ تسمیہترميم

شاہ عبدالعزیز نے کتاب کے دیباچہ میں تحریر کیا ہے کہ اس کتاب کا نام تحفہ اثنا عشریہ اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ بارہویں صدی ہجری کے اختتام پر یہ کتاب جلوہ گر ہورہی ہے اور دیباچہ کے آخر میں فرماتے ہیں کہ اس کتاب کو بارہ اماموں کی تعداد کے مطابق بارہ ابواب پر مرتب کیا گیا ہے۔

تحفہ اثنا عشریہ کی تصنیف اور اس کے ابوابترميم

اس کتاب میں شاہ عبد العزیز نے درج ذیل بارہ ابواب قائم کیے:۔

  1. در کیفیت حدوث مذہب تشیع و انشعاب آن بہ فِرَق مختلف
  2. در مکائد شیعہ و طرق اضلال و تلبیس
  3. در ذکر أسلاف شیعہ و علما و کتب ایشان
  4. در احوال اخبار شیعہ و ذکر روات آنہا
  5. در الہیات
  6. در نبوّت و ایمان انبیا(ع)
  7. در امامت
  8. در معاد و بیان مخالفت شیعہ با ثقلین
  9. در مسائل فقہیہ کہ شیعہ در آن خلاف ثقلین عمل کردہ است۔
  10. در مطاعن خلفاء ثلاثہ و عایشہ و دیگر صحابہ
  11. در خواص مذہب شیعہ مشتمل بر 3 فصل (اوہام، تعصبات، ہفوات)
  12. در تولاّ و تبرّی (مشتمل بر مقدّمات عشرہ)

خصوصیاتترميم

تحفہ اثنا عشریہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ روایات اور بیان کے انتخاب میں اصول حق کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے اور شیعہ مذہب و خیالات کے بیان میں صرف مستند و معتبر شیعہ کتب پر انحصارکیا گیا ہے اور تواریخ و تفسیر وحدیث میں سے صرف انہی چیزوں کو منتخب کیا ہے جن پر شیعہ سنی دونوں متفق ہیں اور طرز بیان بھی نہایت متین اور مہذبانہ ہے۔

تحفۂ اثنا عشریہ کے جواباتترميم

شیعہ علما نے موقف اختیار کیا کہ شاہ عبد العزیز نے شیعہ مسلک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے علم مناظرہ اور نقل حدیث کے آداب و رسوم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اکثر شیعہ علما نے اس کتاب کے ہر باب کا الگ الگ کتاب کی صورت میں رد کیا۔ آیت الله سید دلدار علی نقوی ؒ نے شیعہ عقیدہ توحید ، نبوت ، امامت و آخرت کے خلاف لکھے گئے ابواب پنجم ،ششم، ہفتم و ہشتم  کے رد میں "الصَّوارمُ الإلهیّات فی قَطْع شُبَهات عابدی العُزّی و اللّات" ، "حِسامُ الاسلام و سَهامُ المَلام" خاتِمَةُ الصَّوارم" ،"ذو الفقار"اور "اِحْیاءُ السُّنّة و اماتَةُ الْبِدْعَة بِطَعْنِ الأسِنَّة"  لکھیں۔ علامہ سید محمد قلی موسوی ؒنے تحفہ اثنا عشریہ کے پہلے، دوسرے، ساتویں، دسویں اور گیارہویں ابواب کا الگ الگ جواب دیا اور ان کتب کا مجموعہ  "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ" کے عنوان سے شائع ہوا۔ مولانا خیر الدین محمد الہ آبادی ؒ نے باب چہارم کے جواب میں "هدایة العزیز " لکھی۔ ان کے علاوہ بھی کئی علما نے  تحفہ اثنا عشریہ کے ابواب کے رد میں کتب تصنیف کیں جن میں شیعہ مکتب فکر کا موقف واضح کیا گیا- البتہ بعض علما نے اس کے تمام ابواب کے جواب میں ایک ہی کتاب لکھی جن میں سے  علامہ سید محمّد کمال دہلوی ؒنے" نزھۃ اثنا عشریۃ"[4] اور مرزا محمد ہادی رسواؒ نے اردو میں "تحفۃ السنۃ " لکھیں۔ نزھہ  اثنا عشریہکی اشاعت تو تحفہ اثنا عشریہ کی پہلی اشاعت کے تین سال بعد ہی ہو گئی تھی اور اس وجہ سے ریاست جھاجھڑ کے سنی راجا نے علامہ سید محمّد کامل دہلویؒ کو بطور طبیب علاج کروانے کے بہانے سے بلوایا اور دھوکے سے زہر پلا کر قتل کر دیا۔ ان جوابات کی اشاعت کے نتیجے میں شاہ عبد العزیز کے شاگرد سید قمر الدین حسینی، جن کے لیے انہوں نے" اجالہ نافعہ "کے عنوان سے علم حدیث کا ایک رسالہ لکھا تھا، نے شیعہ مسلک اختیار کر لیا[5]۔ تحفہ اثنا عشریہ کی رد میں لکھی گئی کتب میں سب سے زیادہ شہرت جس کتاب کو نصیب  ہوئی وہ  آیت اللہ میر سید حامد حسینؒ  اور ان کی اولاد کی لکھی گئی  بیس جلدوں پر مشتمل   کتاب  "عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار" ہے[6]  جو تحفہ اثنا عشریہ کے ساتویں باب کے رد میں لکھی گئی تھی، یہ کتاب آج تک شیعہ عقیدہ امامت پر لکھی گئی جامع ترین کتاب ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. محمد رحیم بخش: حیات ولی، اشاعت افضل المطابع، دہلی، صفحہ 339۔
  2. حدائق الحنفیہ: صفحہ 487 مولوی فقیر محمد جہلمی : مکتبہ حسن سہیل لاہور
  3. تحفہ اثنا عشریہ اردو دار الاشاعت اردو بازار کراچی
  4. "نزھہ اثنا عشریہ". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  5. علامہ عبد الحئی بن فخر الدین،"نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر"، جلد 7، شمارہ 713، "الشیخ قمر الدین دہلوی"- دار ابن حزم، بیروت، لبنان، 1999.
  6. "عبقات الانوار". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ.