AcharonimRishonimGeonimSavoraimAmoraimZugot

تنائیم (تلفظ:تا-نا-عیم) (عبرانی: תנאים [tanaˈʔim]، واحد תנא [taˈna]، تانا "دوہرانے والے"، "معلمین"[1]) ربیوں کا وہ طبقہ جس کی تورات پر کی گئی گفتگو کو لکھا، زبانی یاد کیا اور حوالہ کے طور پر مشنا میں شامل کیا جاتا رہا۔ اس طبقہ کا عہد اندازہً 10 سے 220 عیسوی کے درمیان تھا۔ اس دور کو عہد تنائیم اور مشنائی دور کہتے ہیں۔ یہ عہد 210 برسوں پر محیط تھا۔ یہ زوگٹ دور (جوڑنے والوں کا دور) کے بعد آیا اور اس کے بعد اوریم دور (مفسرین یا ترجمانوں کا دور) شروع ہوا۔[2]

ربانی زمانے

انھیں دوہرانے والے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تورات زبانی سناتے تھے اور اس طرح انھوں نے تفسیر بذریعہ گفتگو کو ترقی دے کر معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔[3]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Sol Scharfstein Torah and Commentary: The Five Books of Moses: Translation 2008 p523 "The rabbis educated at Yavneh would be links in the great unbroken chain of teachers of the Torah. Yohanan and those who followed him were called tannaim, meaning "repeaters" or "teachers."
  2. Sol Scharfstein, Dorcas Gelabert Understanding Jewish History: From the patriarchs to the expulsion 1996 p116 "... both in Palestine and in Babylonia, were called amoraim, meaning "speakers" or "interpreters."."
  3. کیرن آرم سٹرانگ، ترجمہ محمد یحیی خان، دی بائبل دی بائیوگرافی؛ نگارشات، لاہور۔ صفحہ 97