توقع (انگریزی: Anticipation) ایک جذبہ ہے جس کی وجہ سے خوش نما احساس یا تجسس کی کیفیت رو نما ہوتی ہے۔ اس کی وجہ کچھ اجھائی کے ہونے کی امید ہے یا پھر متوقع واقعہ ہو سکتا ہے۔ انسانی ضروریات عمومًا وہ توقعات ہیں جو قدرتی گرد و نواحی صورت حال سے متصادم نہیں ہوسکتیں۔ انسان کی اختیار کاری اور ماحولیات کی نگہداشت دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جانا سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔[1] انسان ہر دور میں کسی ضرورت کا طلب گار ہوتا ہے، جو کبھی مؤقت اور کبھی دیر پا اور دور رس بھی ہو سکتی ہے۔ بھوک ایک عام ضرورت ہے۔ عند الموقع اس کی تکمیل کے لیے روٹی بھی کافی ہو سکتی ہے اور بریانی بھی، مگر اس ضرورت کے لیے فی الفور پہل کی ضرورت ہے۔ لوگ مہنگے سامان خریدنے کی توقع کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ برسوں محنت کرتے ہیں اور کافی جد و جہد کے بعد ہی وہ اپنے سپنوں کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے لیے لمبی بچت اور / یا قرض کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح انسان کی ضرورت دوسرے انسان سے ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ شادی کی ضرورت کسی لڑکے یا لڑکی کو ہو سکتی ہے۔ اس میں پھر دو فریق ہو سکتے ہیں جو وہ لڑکا یا لڑکی ہی ہوں۔ اس میں ان کے ماں باپ اور اہل خانہ ہو سکتے ہیں۔ ہر فریق کی کچھ توقع ہوتی ہے۔ مثلًا لڑکا ممکن ہے کہ لڑکی میں خوب صورتی تلاش کرے۔ یا وہ لڑکی کے گھریلو خوش اسلوبی کا دلدادہ ہو، جیسے کہ پکوان میں مہارت یا لڑکی کی ملنساری اور اس کی خوش طبعی۔ دوسری جانب لڑکی یا اس کے اہل خانہ ممکن ہے کہ لڑکے کی اعلیٰ تعلیم، اچھے عہدے، آمدنی، سماج میں مقام وغیرہ سے متاثر ہوں اور توقع کریں کہ اس ممکنہ شادی کے رشتے سے لڑکی سکھی رہے گی۔ جب ان دونوں یا اصل اور اس سے منسلک ذیلی فریقوں کی توقعات پر معاملہ کھرا اترے اور سب کی یا معاملے کے اصل فیصلہ سازوں کی توقعات رو بہ تکمیل لگیں، تبھی معاملہ بنے گا، یعنی شادی ممکن ہو سکے گی۔ اس طرح توقعات کبھی سادہ اور ہر روز مکرر دکھنے والی ہوتی تو کوئی توقع دیر طلب تکمیل کی حامل ہوتی ہیں۔ کسی کی توقع کبھی فرد واحد کا معاملہ ہو سکتا ہے تو کبھی یہ کئی افراد اور فریقوں کی رضا مندی کے بعد ہی رو بہ حقیقت ہو سکتی ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم