براڈکاسٹر ، افسانہ نگار ،ناول نگار ، شاعره

1945ء کو پیدا ہوئیں، انہوں نے صحافت اور پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ وہ پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی بھی کررہی تھی تاہم کینسر کی تشخیص کے بعد انہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ ثریا نے اپنے طویل نشریاتی سفر کا آغاز 1960 کی دہائی ریڈیو پاکستان کراچی میں ڈراموں میں صدا کاری سے کیا،

بعد ازاں ریڈیو تہران کے ایک میگزین پروگرام میں سلیکشن ہو گئی، یہی پروگرام اُن کی کامیابی کا سبب بنا۔ ان کا یہ پروگرام عوام بالخصوص نوجوانوں میں بہت مقبول تھا۔

نوجوان اس پروگرام کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوا کرتا تھا، آواز کی دنیا کے دوستوں یہ ریڈیو ایران، زاہدان ہے۔

بعد ازاں ثریا شہاب نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور نیوز ریڈر ملازمت کا آغاز کیا، انہوں نے اس شعبے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کی سلیبریٹی بن گئیں۔

دس برس زاہدان میں گزار کر 1973ء میں وہ ملک واپس آ کر پاکستان ٹیلی ویژن کے خبرنامے سے وابستہ ہو گئیں اور بی بی سی اردو سروس کے لیے منتخب ہونے تک پی ٹی وی سے وابستہ رہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ملک بھر میں صرف ایک ٹی وی چینل یعنی پاکستان ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا، لوگ آغاز سے اختتام تک نشریات سن کر اور دیکھ کر ہی اٹھتے تھے۔

ایسے وقت میں ثریا شہاب صدا کاری کا برانڈ نیم یا ہاؤس ہولڈ نیم تھیں، یا یوں کہہ لیجیے وہ عوام الناس کے دلوں پر راج کرتی تھیں۔

ساٹھ کے عشرے میں جب انھوں نے صدا کاری کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہو گا اس وقت یقینا یہ کچھ آسان نہ تھا، اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے ذکر بھی کیا تھا کہ جب انھیں گھر سے اجازت نہیں مل رہی تھی تو انھوں نے یہ تک سوچا کہ نام بدل کر ریڈیو پروگراموں میں شرکت کیا کروں۔

ریڈیو پاکستان کی وہ پہلی نیوز اینکر تھیں جو 1984ء میں بی بی سی اردو سروس کے لیے منتخب ہوئیں۔ اور لندن منتقل ہو گئی تھیں،

ان کے شوہر بنگالی تھے اور رضی رضوی کو بنگالی زبان آتی تھی۔ دونوں خاندانوں میں مراسم پیدا ہوئے۔ اتفاق سے دونوں کو بیرون ملک ملازمت ایک ساتھ ملی۔ 1985ء میں رضی رضوی وائس آف امریکہ میں شمولیت کے لیے واشنگٹن آئے اور ادھر ثریا شہاب بی بی سی لندن کے لیے روانہ ہوئیں۔

90 کی دہائی میں انہوں نے جرمن نشریاتی ادارے کے لیے بھی کام کیا،

ان کے دو ناول، ایک افسانوی مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ’’ خود سے ایک سوال‘‘ چھپ چکے ہیں۔ یہ ساری کتابیں ان کے جرمنی میں طویل قیام کے دوران شائع ہوئیں۔ ان کے شعری مجموعہ میں ان کی غزلوں، نظموں کے ساتھ ماہیے بھی شامل ہیں،

یوتھ لیگ‘‘(Youth Lieague) نامی فلاحی تنظیم کے پلیٹ فارم سے انھوں نے خدمت خلق کے بے شمار کام انجام دیے،

معروف براڈکاسٹر ثریا شہاب 13 ستمبر 2019ء جمعہ کی صبح بوجہ الزائمر بعمر 75 برس انتقال کر گئیں، اُنہیں سہ پہر میں اسلام آباد کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا[1]۔ ان کے لواحقین میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں

حوالہ جاتترميم