جنسی دخول (انگریزی: Sexual penetration) سے مراد کسی جسم کے کھلے حصے میں کسی اور شخص کے جسم کے حصے کو جگہ دینا ہے۔ جس حصے میں یہ دخول ممکن ہے، وہ کسی عورت کی فرج، دبر، منہ، وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ یہ انسانی جنسی مباشرت کے حصے کے طور پر ممکن ہے۔ یہ کیفیت حیوانات میں بھی ممکن ہے۔ داخل ہونے والی شے میں کسی نَر کا عضو تناسل، ہاتھ کی انگلیاں، انگوٹھے، پاؤں کی انگلیاں، پاؤں کے انگوٹھے، زبان، دانت وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قلم، پنسل، جنسی کھلونا، کوئی ترکاری جیسے کہ گاجر اور بینگن اور پھل جیسے کہ آم کی ڈالی، انگور کے خوشے کے گچھے کی کاڑیاں وغیرہ بھی دخول کے کام میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہ استعمال کوئی عورت یا مادہ از خود کر سکتی ہے یا پھر کوئی نَر یا مرد استعمال کر سکتا ہے۔

ایک جنسی دخول کی کیفیت کی تصویر جس میں ایک مرد عورت کو لٹاکر اس کے مخصوص حصے میں اپنا عضو تناسل داخل کر رہا ہے۔

مگر جدید دنیا میں ہم جنسیت کے نام سے جو چیز پائی جاتی ہے وہ اس سے قطعاً مختلف ہے۔ اس میں ایک فرد جس کی عمر کچھ بھی ہوسکتی ہے اپنے ہی ہم جنسوں میں کشش محسوس کرتا ہے اور اس کے ساتھ بالکل دوستوں کی طرح رہتا ہے۔ یہ صرف جسمانی کشش ہی نہیں ہوتی بلکہ اس میں جذباتی لگاؤ بھی پایا جاتا ہے، بلکہ محدود پیمانے پر محبت اور وفا کی داستانیں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ جنس مخالف میں کسی قسم کا جنسی لگاؤ محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ جنس مخالف سے جنسی تعلق کے بارے میں ان کا احساس بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے ایک عام فرد کا ہم جنسی کے بارے میں۔ان کی اس جنسیت میں دبر سے دخول بھی شامل ہوسکتا ہے لیکن یہ موجودہ دور کی ہم جنسیت کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ہم جنس مردوں کے لئے انگریزی میں ایک اور لفظ بھی پایا جاتا ہے جسے “گے” (Gay)کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ لفظ ہم جنس عورتوں کے لئے بھی مستعمل ہے لیکن عام طور پر اس سے مرد مراد لئے جاتے ہیں۔عورتوں کے لئے ایک مخصوص لفظ اور لیسبئن ہے۔[1] جسے عام اردو زبان میں چپٹی کہتے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "غیر فطری جنسیت کا چیلنج۔۔ابو زید". 06 نومبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2020.