جوڈو، جس کے لفظی معنی “نفیس طریقے سے “ کے ہیں، جدید جاپانی مارشل آرٹ کی قسم ہے جو 1882ء میں ڈاکٹر کانو جیگورو نے جاپان میں تخلیق کی۔[1] اس کھیل کا سب سے اہم پہلو مقابلے کا ہے؛ جہاں ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کو مقابلے میں زمین پر چت کرنا، مقابل کی حرکت موقوف کر دینا یا پھر مارشل آرٹ کی تکنیک کا استعمال،(جیسے جوڑوں کا لاک، سانس کی نالی میں رکاوٹ وغیرہ) کی مدد سے مقابل کو شکست قبول کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ہاتھوں اور پاؤں کی مدد سے حملہ کرنا، ضرب لگانا اور ان اعضاء کو ہی بچاؤ کے لیے استعمال کرنا اس کھیل کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ اس کھیل میں سنجیدہ حملہ کرنا اور ضرب لگانا سیکھنے اور کاتا یعنی بطور کھیل ممنوع ہوتا ہے۔ کسی بھی لڑائی، جھگڑے میں بچاؤ کے دوران تمام تکنیکوں کا استعمال جائز تصور کیا جاتا ہے۔
جوڈو کے کھیل کا فلسفہ اور اس کھیل میں جدت دہائیوں سے جدید جاپانی مارشل آرٹ میں ترقی اور نئی تکنیکوں کی دریافت کا سبب بنی ہے اور روایتی مارشل آرٹ اسکولوں میں بھی اب جدید مارشل آرٹ کی بنیاد جوڈو کے کھیل کو ہی دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں مارشل آرٹ کی مقبولیت کے نتیجے میں جاپان سے باہر اس کھیل میں جدت آئی ہے اور کئی نئی تکنیکیں جیسے سیمبو، بارتیستو اور برازیلین جیو-جستو جیسی تکنیکیں ایجاد ہوئی ہیں۔ جوڈو کے ماہر کھلاڑیوں کو جوڈاکا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

جوڈو

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ۔ bstkd.com http://www.bstkd.com/JudoHistory/HistoryOne.htm  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)