وان جھیل

(جھیل وان سے رجوع مکرر)

جھیل وان (ترک: Van Gölü، آرمینیائی: Վանա լիճ، کرد: Gola Wanê) ترکی کی سب سے بڑی جھیل ہے جو مشرقی اناطولیہ میں واقع ہے۔

ٹرین فیری جھیل وان کے درمیان میں سے گزر رہی ہے

یہ جھیل 120 کلومیٹر طویل، 80 کلومیٹر چوڑی اور 457 میٹر گہری ہے۔ یہ مجموعی طور پر 3،755 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور سطح سمندر سے 1719 میٹر بلند ہے۔

ترکی سے ایران جانے والے ریل گاڑی اس جھیل کے درمیان میں سے فیری کے ذریعے گذرتی ہے۔ اس ٹرین فیری سروس کا آغاز 1970ء کی دہائی میں ہوا۔

اس جھیل کے شمال میں واقع شہر ملازکرد میں 26 اگست 1071ء کو سلجوقی اور بازنطینی سلطنتوں کے درمیان مشہور جنگ لڑی گئی جس میں سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے بازنطینی حکمران رومانوس چہارم کو شکست دے کر رومیوں کو ہمیشہ کے لیے اناطولیہ سے نکال دیا۔ یہ جنگ تاریخ عالم میں جنگ ملازکرد کے نام سے مشہور ہے اور تاریخ کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔

آب و ہواترميم

وان جھیل ترکی کے مشرقی اناطولیہ علاقہ کے سب سے اونچی جگہ پر واقع ہے۔ جولائی میں اوسط درجہ حرارت 22 اور 25 °C کے درمیان میں رہتا ہے اور جنوری میں −3 °C تا −12 °C رہتا ہے۔ عموما سردی −30 °C. تک پہونچ جاتی ہے۔[1][2]

تاریخترميم

 
پہلی جنگ عظیم سے قبل وان جھیل کا ایک نقشہ

اوراتو کا شہر تشبہ وان جھیل کے کنارے آباد تھا اور ابھی اس جگہ وان شہر کے مغربی حصہ میں وان کا کیسل آباد ہے۔[3] قدیم شہر وان کے باقیات اب بھی موجود ہیں اور وان کیسل کے نیچے دیکھے جاسکتے ہیں۔ 2017ء میں آثار قدیمہ اور ایک آزاد ٹیم نے وان جھیل پر تحقیق کرتے ہوئے گہرے پانی میں ایک کلومیٹر تک پھیلے ہوئے متعدد قلعوں کا پتہ لگایا ہے۔[4] ٹیم کا اندازہ ہے کہ یہ قلعے اوراتو کے وقت تعمیر کیے گئے ہوں گے۔[5]

آرمینیائی سلطنتترميم

 
وان جھیل کے نزدیک آرمینیا سلطنت کے باقیات

1000 ق م میں وان جھیل آرمینیائی سلطنت کا مرکز تھی۔ اس کے بعد یہ مملکت آرمینیا کا بھی مرکز رہی۔ سیوان جھیل اور بحیرہ ارومیہ کے ساتھ وان جھیل سلطنت آرمینیا کی تین اہم جھیلیں تھیں۔[6] [7] and Տոսպայ լիճ (Lake of Tosp)}}۔[7]

متعلقہ مضامینترميم

اناطولیہ

جنگ ملازکرد

حوالہ جاتترميم

  1. Матвеев: Турция [что значительно ниже установленной позже корректной цифры в 161,2 метра] (روسی میں)
  2. Warren 2006.
  3. Cottrell 1960، صفحہ 488.
  4. Gibbens 2017.
  5. Ancient castle studied.۔۔ 2017.
  6. Ebeling & Meissner 1997، صفحہ 2.
  7. ^ ا ب Hewsen 1997، صفحہ 9.