حضرت حارث ؓبن ہشام
معلومات شخصیت

نام ونسبترميم

حارث نام، ابو عبدالرحمن کنیت، نسب نامہ یہ ہے، حارث بن ہشام بن مغیرہ ابن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم قرشی مخزومی حارث مشہور دشمن اسلام ابو جہل کے حقیقی بھائی تھے۔

قبل از اسلامترميم

حارث مکہ کے رئیس اوربڑے مخیر اور فیاض آدمی تھے، صد ہا غریبوں کی روٹی ان کی ذات سے چلتی تھی، آنحضرتﷺ کو ان کے اسلام کی بڑی خواہش تھی، ایک مرتبہ ان کا ذکر آیا تو فرمایاحارث سردار ہیں، کیوں نہ ہو ان کے باپ بھی سردار تھے، کاش خدا انہیں اسلام کی ہدایت دیتا، [1]بدر میں ابو جہل کے ساتھ تھے، لیکن میدان جنگ سے بھاگ نکلے اور ابو جہل مارا گیا، ان کی اس بزدلی پر حسان بن ثابت نے اشعار میں غیرت دلائی،انہوں نے اشعار ہی میں اس کی توجیہ آمیز وقدرت کی،احد میں بھی مشرکین کے ہمراہ تھے۔ [2]

اسلام اورغزواتترميم

فتح مکہ میں دوسرے سردارانِ قریش کی طرح مشرف باسلام ہوئے،اسلام کے بعد سب سے پہلے غزوہ حنین میں شریک ہوئے، آنحضرتﷺ نے اس غزوہ کے مال غنیمت میں سے سو اونٹ مرحمت فرمائے۔ [3]

سقیفہ بنی ساعدہترميم

حنین کے بعد مکہ لوٹ گئے،لیکن آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت مدینہ ہی میں موجود تھے ؛چنانچہ جب سقیفۂ بنی ساعدہ میں مہاجرین اورانصار میں خلافت کے بارہ میں اختلاف ہوا تو حارث نے یہ صائب رائے ظاہر کی کہ خدا کی قسم اگر رسو ل اللہ ﷺ نے الأیمۃ من قریش نہ فرمایا ہوتا تو ہم انصار کو بے تعلق نہ کرتے،کیونکہ وہ اس کے اہل ہیں، لیکن رسول اللہﷺ کے فرمان میں کوئی شک و شبہ نہیں، اگر قریش میں صرف ایک شخص باقی ہوتا تو بھی خدا اس کو خلیفہ بناتا۔ [4]

شام کی فوج کشی کے لیے تیاری اوراہل مکہ کا ماتمترميم

حضرت ابوبکرؓ نے جب شام پر فوج کشی کا عزم کیا اور تمام بڑے بڑے رؤساء کو اس میں شرکت کی دعوت دی تو حارث کو بھی ایک خط لکھا، حارث حصولِ سعادت کے بہت سے مواقع کھوچکے تھے، اس لیے تلافی مافات کے لیے فوراً آمادہ ہو گئے ؛لیکن ان کی ذات تنہا نہ تھی، وہ صدہا غریبوں کا سہارا تھے،اس لیے مکہ ماتم کدہ بن گیا، پروردگار کی اس نعمت کے جانے پر زار زارروتے تھے، سب بادیدۂ پرنم رخصت کرنے کو نکلے، جب بطحا کے بلند حصے پر پہنچے تو رونے والوں کی گریۂ وزاری پر ان کا دل بھر آیا اور ان الفاظ میں ان کی تشفی کی کوشش کی ،لوگو! خدا کی قسم میں اس لیے تم لوگوں سے نہیں جدا ہورہا ہوں کہ مجھ کو تمہارے مقابلہ میں کوئی ذات منفعت مقصود ہے یا تمہارے شہر کے مقابلہ میں دوسرا شہر پسند ہے؛بلکہ ایک اہم معاملہ پیش آگیا ہے، اس میں قریش کے بہت سے اشخاص شریک ہوچکے ہیں، جو تجربہ اورخاندانی اعزاز کے اعتبار سے کوئی امتیاز نہیں رکھتے اگر ہم نے اس زریں موقع کو چھوڑدیا تو اگر مکہ کے تمام پہاڑ سونے کے ہوجائیں اوران سب کو ہم خدا کی راہ میں لٹادیں تب بھی اس کے ایک دن کے برابر اجر نہیں پاسکتے اُن لوگوں کے مقابلہ میں اگر ہم کو دنیا نہ ملی تو کم از کم آخرت کے اجر میں تو شریک ہوجائیں ،ہمارا یہ نقلِ مکان خدا کے لیے اور شام کی طرف ہے۔ [5]

جہاد اور شہادتترميم

غرض اس ولولہ اور جوش کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلے اور مخل اور اجنادین کے معرکوں میں دادِ شجاعت دی[6] اس سلسلہ کی مشہور جنگ یرموک میں جب ابتدا میں مسلمانوں کے پاؤں اکھڑے تو بہت سے مسلمان شہید ہو گئے،حارث بھی سخت زخمی ہو گئے دم واپسیں پیاس کا غلبہ ہوا، پانی مانگا، فوراً پانی لایا گیا، پاس ہی ایک دوسرے زخمی مجاہد تشنہ لب پڑے تھے ،فطری فیاضی نے گوارا نہ کیا کہ ان کو پیاسا چھوڑ کر خود سیراب ہوں؛ چنانچہ پانی ان کی طرف بڑھا دیا،ان کے پاس ایک تیسرے زخمی اسی حالت میں تھے، اس لیے انہوں نے ان کی طرف بڑھا دیا، ان کے پاس پانی پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ دم توڑ دیا، غرض تینوں تشنہ کامانِ حق تشتہ حوض کوثر پر پہنچ گئے۔ [7]

اولادترميم

شہادت کے وقت ایک لڑکا عبدالرحمن یاد گار چھوڑا، خدانے اس کی نسل میں بڑی ترقی دی اورخوب پھلی پھولی۔ [8]

عام حالاتترميم

فیاضی،سیر چشمی اورغرباپروری کے مناظر اوپر دیکھ چکے، دوسرے فضائل ابن عبدالبر کی زبان سے سنیے، وہ لکھتے ہیں کہ حارث فضلا اورخیار صحابہ میں تھے، عموما ًمولفۃ القلوب مسلمانوں کے دلوں میں اسلام راسخ نہ تھا، لیکن حضرت حارث اس سے مستنیٰ تھے وہ ان مؤلفۃ القلوب میں تھے جو سچے مسلمان تھےاور قبول اسلام کے بعد ان میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہ دیکھی گئی۔ [9]

حوالہ جاتترميم

  1. (استیعاب:1/117)
  2. (استیعاب:1/117)
  3. (اسد الغابہ:1/351)
  4. (اصابہ:1/307)
  5. (اسد الغابہ:1/353،واستیعاب:1/11)
  6. (ابن سعد،جلد7،ق2،126)
  7. (اسد الغابہ:1/351)
  8. (اصابہ:1/307)
  9. (استیعاب:1/117)