حافظ دوست محمد للّٰہی للہ شریف کے بزرگ اور روحانی پیشوا ہیں۔ یہ ثانی حضرت سے معروف ہیں۔

ولادت

ترمیم

حافظ دوست محمد18 جمادی الثانی 1266ھ بمطابق3 مئی 1850ء 21 بیساکھ 1907ب للہ شریف ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خواجہ غلام نبی للّٰہی تھے۔۔اعوان خاندان سے تعلق رکھتے تھے

تعلیم

ترمیم

1280ھ میں حافظ محمد دین بیرہ (ٹھٹھہ بیرہ مڈگ رانجھا ) سے مکمل حافظ ہوئے مروجہ علوم ظاہری کا زیادہ حصہ مولوی اللہ جوایا سے حاصل کیاعلم تفسیر ،حدیث اور تصوف کی دینی تعلیم کی تکمیل والد سے کی۔[1] ان کی اس تکمیل کی طرف اشارہ عارف یگانہ خواجہ غلام محی الدین قصوری نے بچپن میں ہی فرما دیا تھا۔ جنھوں نے آپ کو ایک مکتوب میں تحریر فرمایا : ’’مولوی حافظ دوست محمد کو دعا‘‘ للہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ حافظ بھی ہوئے اور مولوی بھی ۔

باطنی تعلیم

ترمیم

ظاہری تعلیم کی تکمیل کے بعد تین سال تک والد صاحب سے کسب سلوک کیا اور سلسلہ نقشبندیہ کی تکمیل کی اور بھر سرہند شریف سے مجدد پاک کی ایماء پر خلافت و اجازت سے نوازے گئے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد مسند نشین ہوئے اور خلق خدا کی راہنمائی فرمائی۔

سیرت و خصائل

ترمیم

والد ماجدحضرت خواجہ غلام نبی للہی کے وصال کے بعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے اور حق و صداقت کی جانب خلق خدا کی رہنمائی فرمائی ، غرباء اور مساکین کو الطاف خسروانہ سے نواز تے اور اہل دنیا سے کچھ غرض نہ رکھتے ، صاحب حال ہوتے ہوئے کمال اخفا سے کام لیتے ، اہل حاجت حاضر ہوتے اور آپ کی نگاہ التفات سے کامیاب ہو کر لوٹتے۔اہل دنیا سے متنفر تھے اگر کوئی دنیا کی غرض سے ملنے آتا تومنقبض ہو جاتے اور اگر کسی وجہ سے نہ آسکتا تو خوش ہوتے ابتدائی عمر سے ہی غریب مسکین لوگوں سے عجیب موانست رکھتے اور ایسے لوگوں سے عجیب موانست رکھتے [2]

وفات

ترمیم

18 ذوالحجہ 1318ھ بمطابق 8 اپریل 1901ء کو وفات پائی للہ شریف میں والد کے پہلو مین مدفون ہیں۔[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تاریخ مشائخ نقشبند ،محمد عبد الرسول للہی صفحہ 591،زاویہ پبلشر لاہور
  2. مشائخ نقشبندیہ مجددیہ صفحہ 532محمد حسن نقشبندی قادری رضوی کتب خانہ لاہور
  3. تذکرہ اکابرِ اہلسنت،محمد عبد الحکیم شرف قادری،ص139،نوری کتب خانہ لاہور