مرکزی مینیو کھولیں

ولادتترميم

وفاتترميم

١٣ ھ - حضرت ابو بکر صدیق نے ٢١ جمادی الثانی کو وفات پائی۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

ابو بکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ تیمی قریشی رضی اللہ عنہ (پیدائش: 573ء— وفات: 22 اگست 634ء) پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، پیغمبر اسلام کے وزیر، صحابی و خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے بعد پیغمبر اسلام کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کی کنیت "ابو بکر" کے ساتھ صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب لگایا جاتا جسے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام نے دیا تھا۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عام الفیل کے دو برس اور چھ ماہ بعد سنہ 573ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام ﷺنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ قبول اسلام کے بعد تیرہ برس مکہ میں گزارے جو سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کا دور تھا۔ بعد ازاں پیغمبر اسلام ﷺ کی رفاقت میں مکہ سے یثرب ہجرت کی، نیز غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں پیغمبر اسلام ﷺکے ہم رکاب رہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ مرض الوفات میں گرفتار ہوئے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مسجد نبوی میں امامت کریں۔ پیر 12 ربیع الاول سنہ 11ھ کو حضرت محمد ﷺ نے وفات پائی اور اسی دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مسلمانوں نے بیعت خلافت کی۔ منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی قلمرو میں والیوں، عاملوں اور قاضیوں کو مقرر کیا، جا بجا لشکر روانہ کیے، اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی یہاں تک کہ تمام جزیرہ عرب اسلامی حکومت کا مطیع ہو گیا۔ فتنہ ارتداد فرو ہو جانے کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عراق اور شام کو فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا۔ ان کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ پیر 22 جمادی الاخری سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے جانشین ہوئے۔

تعطیلات و تہوارترميم

حوالہ جاتترميم


  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔