حافظ صاحب نانوتوی کے فرزند رشید تھے، 1279ھ مطابق 1862ء میں نانوتہ میں پیدا ہوئے، قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد والد ماجد نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گلاؤٹھی (ضلع بلندشہر) بھیج دیا، گلاؤٹھی میں نانوتوی کا قائم کیا ہوا مدرسہ منبع العلوم تھا۔ مولانا عبد اللہ انبہٹوی اس مدرسہ میں مدرس تھے، بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے مراداباد کے مدرسہ شاہی میں بھیجے گئے، یہاں نانوتوی کے شاگرد احمد حسن امروہی پڑھاتے تھے، ان سے مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھنے کے بعد دیوبند تشریف لائے اور شیخ الہند کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، مولانا محمد یعقوب سے ترمذی شریف کے چند سبق پڑھے، دوروۂ حدیث گنگوہ پہنچ کر گنگوہی کے حلقۂ درس میں پورا کیا اور وہیں جلالین اور بیضاوی پڑھی۔

حافظ محمد احمد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1862  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نانوتہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1930 (67–68 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نظام آباد ریلوے اسٹیشن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد طیب قاسمی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد قاسم نانوتوی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

دار العلوم میں آپ کی خدماتترميم

1303ھ مطابق 1885ء میں بحیثیت مدرس دار العلوم میں تقررہوا اور مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھانے کی نوبت آئی، 1310ھ مطابق 1892ء میں جب حاجی محمد عابدؒ اہتمام سے مستعفی ہوئے تو یکے بعد دیگرے دو مہتمم مقرر ہوئے(حاجی فضل حق دیوبندی اور مولانا محمد منیر نانوتوی)، مگر ایک ایک سال سے زیادہ اہتمام نہ کرسکے، ہر سال کے تغیرات کی وجہ سے دار العلوم کے نظام میں اختلال پیدا ہونے لگاتو 1313ھ مطابق 1895ء میں گنگوہی نے اہتمام کے لیے مولانا حافظ احمد صاحب کا انتخاب فرمایا، حافظ صاحب نہایت منتظم اور صاحبِ اثرووجاہت تھے، چنانچہ وہ بہت جلد دار العلوم کے انتظام پر قابو یافتہ ہو گئے اور تقرر کے وقت ان سے جو توقعات قائم کی گئی تھیں بدرجۂ اتم ان کے اہل ثابت ہوئے۔ مولانا حافظ احمد صاحبؒ کے زمانۂ اہتمام میں دار العلوم نے غیر معمولی ترقی کی، جب انہوں نے عنانِ اہتمام اپنے ہاتھ میں لی تھی تو دار العلوم کی آمدنی کا اوسط 5 – 6 ہزار روپئے سالانہ تھا،آپ کے عہد میں یہ اوسط 90 ہزار تک ترقی کرگیا، اسی طرح طلبہ کا اوسط دوڈھائی سو سے ترقی کرکے تقریباً نو سو تک پہنچ گیا، اس وقت کتب خانے میں پانچ ہزار کتابیں تھی، آپ کے زمانے میں کتابوں کی تعداد 40/ہزار تک پہنچ گئی، 1313ھ مطابق 1895ء تک عمارت دار العلوم کی مالیت 36/ہزار روپئے تھی، آپ کے عہد میں یہ مالیت 4/لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ دارالحدیث کی عظیم الشان عمارت جو اپنی نوعیت کی ہندوستان بھر میں پہلی عمارت ہے آپ ہی کے عہد میں تیار ہوئی، جدید دارالاقامہ کا آغاز اور مسجد و کتب خانے کی تعمیر بھی حافظ صاحب کے زمانے کی یادگاریں ہیں، 1328ھ مطابق 1910ء کے اس عظیم الشان جلسۂ دستاربندی کی یاد اب تک لوگوں کے قلوب میں تازہ ہے، جس میں ایک ہزار سے زائد فضلاء کی دستار بندی ہوئی تھی۔ شروع سے درس و تدریس کا جو مشغلہ قائم ہو گیا تھا وہ زمانۂ اہتمام میں بھی کبھی بند نہ ہوا، مشکوٰۃ المصابیح، جلالین شریف، صحیح مسلم، ابن ماجہ، مختصرالمعانی، رسالہ میرزاہد وغیرہ کتابیں نہایت شوق سے پڑھاتے تھے، تقریر نہایت صاف و مربوط اور سُلجھی ہوئی ہوتی تھی، اپنے والد ماجد کے خاص علوم اور مضامین پر کافی عبور تھا۔

وفاتترميم

نظام دکن نے حافظ صاحب کو ریاست حیدراباد میں مفتئ اعظم کے عہدے پر مقرر فرمایا تھا، حکومت آصفیہ کے اس سب سے بڑے دینی منصب پر آپ 1341ھ مطابق 1922ء سے 1344ھ مطابق 1925ء تک فائز رہے، حیدراباد کے زمانۂ قیام میں آپ نے نظام حیدراباد کو دار العلوم میں آنے کی دعوت دی تھی، جو منظور کرلی گئی تھی، پروگرام یہ تھا کہ نظام جب دہلی جائیں گے تو دار العلوم کو بھی دیکھیں گے، 1347ھ مطابق 1928ء میں نظام کے دہلی آنے کی توقع تھی، وعدے کی یاددہانی کے لیے آپ حیدرآباد تشریف لے گئے، جس وقت آپ حیدرآباد کا قصد فرما رہے تھے، تو طبیعت ناسازتھی، ضعف پیری اورمسلسل علالت نے بہت کمزور کر دیا تھا، مگر دار العلوم کے مفاد کے لیے اپنی صحت کی پروا نہ کرتے ہوئے حیدرآباد روانہ ہو گئے، وہاں پہنچ کر طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، پہلے تو انتظار رہا کہ طبیعت سنبھلے تو نظام سے ملاقات کی جائے، مگر جب مرض دن بدن بڑھتا ہوا معلوم ہوا تو متوسلین اور رفقا سفر کی رائے قرار پائی کہ دیوبند واپس لے جایا جائے، چنانچہ واپسی کے قصد سے آپ حیدرآباد سے روانہ ہو گئے، مگر ابھی ٹرین حیدرآباد کی حدود میں ہی تھی کہ نظام آباد اسٹیشن پر حافظ صاحب جان جان آفریں کے سپرد کرکے'من مات فی السفر فھو شہید' میں داخل ہو گئے، یہ 3/جمادی الاولی 1347ھ مطابق 1928ء کا واقعہ ہے، وفات سے قبل زبان پر ذکراللہ جاری تھا، 29/کے عدد پر عقد انامل تھا کہ اللہ کے لفظ کے ساتھ روح پرواز کرگئی۔ نظام آباد اسٹیشن پر نعش اتارکر جنازہ تیارکیا گیا، متعلقین اور نظام دکن کو تار کے ذریعہ اطلاع دی گئی، نظام کا جواب آیا کہ حافظ صاحب کا جنازہ حیدرآباد لایاجائے، نظام آباد اور حیدرآباد میں متعدد مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی، اگلے دن 4/جمادی الاولی کو سرکاری مصارف پر ایک مخصوص قبرستان میں جو خطۂ صالحین کے نام سے موسوم ہے ان کو سپرد خاک کیا گیا، نظام دکن نے تعزیت کرتے ہوئے نہایت تأسف کے ساتھ یہ پُراثر جملہ فرمایا: 'افسوس وہ مجھے لینے آئے تھے مگر خود یہیں رہ گئے۔ مولانا حافظ احمد صاحب نے اسلام اور مسلمانوں کی دار العلوم کے ذریعہ جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کے پیش نظر ان کی وفات کو دار العلوم اور مسلمانوں کا زبردست نقصان تصور کیا گیا اور ہندوستان کے طول و عرض میں دیوبندی اور غیر دیوبندی جماعتوں میں بے شمار تعزیتی جلسے اور ایصال ثواب کے اجتماعات کیے گئے۔ حافظ نے 45/سال دار العلوم کی خدمات انجام دیں، ابتدائی 10/سال تعلیم و تدریس میں گزرے اور 35/سال اہتمام کے فرائض انجام دیے۔

حوالہ جاتترميم