واقعہ غدیر کچھ اس طرح سے ہے کہ حضرت محمد علیہ سلام جب حج کر کے اپنے ساتھوں کے ھمراہ واپس مدینہ تشرہف لا رھے تھے تو حضرت جبراعیل ع۔س غدیر کے مقام پر تشریف لاے اور اللہ کا سلام پیش کیا اور اللہ کئی وحئ آپ ع۔س کو پہنچائ جس کا زکر قران شریف کئی سورہ ماعدہ میں موجود ہے " اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمھارے رب کئی طرف سے اور ایسا نہ ھوا تو تم نے اس کا کوی پیغام نہ پہنچایا "اس کے بعد آپ ع۔س نے وھاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اس کے بعد جو لوگ آگے جا چکے تھے انکو واپس وھاں بلانے کے لیے کہا اور جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان کے وھاں پر پہنچنے تک کا انتظار کیا گیا اس کے بعد جب سب لوگ وھاں جمع ھو گئے تو اونٹ کے پالانوں ( اونٹ کئی کاٹھئ ) کا رکن بنوایا تاکے انکئ بات سب لوگ سن سکھیں اور دیکھ لیں اس کے بعد آپ ع۔س نے ان پلانوں پر چڑھ کر حضرت علی ع۔س کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے بلند کیا اور فرمایا "من کنتم مولا فا ھذا علئ مولا " یعنئ میں جس جس کا مولا ھوں علئ بھئ اسئ طرح اس اس کا مولا ہیں " اس موقع پر حضرت عمر نے حضرت کو مبارکباد دیتے ھوے کہا " اے علئ مبارک ھو آپ ہمارے آج سے ہمارے مولا ھو گئے ہیں۔