مرکزی مینیو کھولیں

یہ وہ حدیث ہے جس کے تمام راوی عادل وضابط توہوں؛ لیکن کوئی راوی خفیف الضبط ہواور سند میں کسی جگہ سے کوئی راوی جھوٹا نہ ہو اور حدیث معلل اور شاذ نہ ہو۔.... جیساحدیث صحیح لغیرہ اور حسن لذاتہ کی تعریفوں میں ہے کہ اگرحدیث حسن لذاتہ میں ضبط کی کمی دیگرسندوں کی تائید سے پوری کردی جائے تووہی حدیث جوحسن لذاتہ تھی صحیح لغیرہ ہو جائے گی، بعض حدیثوں کی کتابوں میں ہے کہ ایک ہی حدیث کوحسن صحیح لکھا ہے تواس کا یہی مطلب ہے کہ یہ حدیث اگرچہ حسن لذاتہ ہے؛ لیکن دوسری سندوں کی تائید سے یہ صحیح لغیرہ کے درجہ کوپہنچ گئی ہے، حدیث حسن کی اصطلاح امام ترمذیؒ کے ہاں بہت ملتی ہے؛ سو اسے مستقل طور پر جاننا چاہیے کہ ان کے ہاں اس کا کیا مطلب ہے، آپ لکھتے ہیں: "وَمَاذَكَرْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ فَإِنَّمَا أَرَدْنَا بِهِ حُسْنَ إِسْنَادِهِ عِنْدَنَا كُلُّ حَدِيثٍ يُرْوَى لَايَكُونُ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ يُتَّهَمُ بِالْكَذِبِ وَلَايَكُونُ الْحَدِيثُ شَاذًا وَيُرْوَى مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوَ ذَاكَ فَهُوَ عِنْدَنَا حَدِيثٌ حَسَنٌ"۔[1] ترجمہ: ہم نے اس کتاب میں جہاں کسی حدیث کوحسن کہا ہے تواس سے ہماری مراد اس کا سند کے اعتبار سے حسن ہونا ہے۔... اور ہرحدیث جومروی ہو اور اس کی سند میں کوئی راوی ایسا نہ ہوجومہتم بالکذب ہے (جس پر جھوٹ کا الزام نہ ہو) اور نہ وہ حدیث شاذ ہوکہ (دوسرے راوی اس شیخ سے اسے روایت نہ کرتے ہوں) اور وہ صرف ایک طریق سے مروی نہ ہو (کئی طریقوں سے اس کی روایت ہوئی ہو) توہمارے ہاں اسے حسن کہیں گے۔

حوالہ جاتترميم

  1. ترمذی، كِتَاب الْعِلَلِ:2/626