اصطلاحی معنی

(اصطلاح سے رجوع مکرر)

اصطلاحی معنی اس سے اس وقت رائج معنی اور فقہ میں اس سے شرعی معنی لیے جاتے ہیں۔

"جب کوئی قوم یا فرقہ کسی لفظ کے معنی موضوع کے علاوہ یا اس سے ملتے جلتے کوئی اور معنی ٹھہرا لیتا ہے تو اسے اصطلاح یا محاورہ کہتے ہیں۔ کیونکہ اصطلاح کے لغوی معنی باہم مصلحت کر کے کچھ معنی مقرر کر لینے کے ہیں اسی طرح وہ الفاظ جن کے معنی بعض علوم کے واسطے مختص کر لیے ہیں اصطلاح علوم میں داخل ہیں۔ خیال رہے کہ اصطلاحی و لغوی معنوں میں کچھ نہ کچھ نسبت ضرور ہوتی ہے "۔[1] علامہ اسید الحق صاحب فرماتے ہیں

"اصطلاح میں ایک گروہ کا متفق ہو کر کسی لفظ کے معنی موضوع کے علاوہ اور معنی مقرر کر لینا کہ ہم اپنی قوم کی اصطلاح میں اس لفظ سے یہ مراد لیں گے اور اس میں وجہ اور غیر وجہ کی قید نہیں۔

اردو میں جیسے کہ چال چلنا بمعنی فریب میں لانا، دغا دینا اور دال گلنا بمعنی مقصد حاصل ہونا اور مراد کو پہنچنا رائج ہے "۔[2]

وہ لفظ جو کسی شعبۂِ علم میں کچھ خاص اور جداگانہ معانی کے ساتھ مروج ہو۔

اصطلاحات عموماً وہی الفاظ ہوتے ہیں جو روزمرہ زندگی میں بھی بولے جاتے ہیں۔ تاہم کسی خاص علمی یا تکنیکی میدان کے لوگ اس کے معانی کچھ مختلف طے کر لیتے ہیں تاکہ نئے الفاظ گھڑنے کی ضرورت نہ پڑے۔

مثال کے طور پر عوام وزن سے مراد مادے کی مقدار لیتے ہیں۔ اہل عروض کے ہاں وزن ایک اصطلاح ہے جس کے معانی حرکات و سکنات کی ترتیب اور تکرار کے ہیں۔ ماہرینِ طبیعیات کے ہاں یہی اصطلاح اس قوت کا مفہوم رکھتی ہے جس سے زمین مادے کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. فرہنگ آصفیہ، سید احمد دہلوی،صفحہ 92
  2. عربی محاورات، اسید الحق قادری، صفحہ 24، تاج الفحول اکیڈمی بدایوں انڈیا
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔