"راجہ عزیز بھٹی" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
1 مآخذ کو بحال کرکے 1 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.8
سطر 3:
 
== سوانح ==
آپ [[16 اگست]] [[1928ء]] کو [[ہانگ کانگ]] میں پیدا ہوئے۔<ref>{{Cite web |url=http://www.ouchh.com/Special/Nishan-e-Haider/razizbhatti3.php |title=آرکائیو کاپی |access-date=2009-01-20 |archive-date=2009-12-07 |archive-url=https://web.archive.org/web/20091207090711/http://www.ouchh.com/Special/Nishan-e-Haider/razizbhatti3.php |url-status=dead }}</ref><ref>[http://www.shaheedfoundation.org/NishaneHaider.asp Shaheed Foundation Pakistan<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> پاکستان بننے سے پہلے آپ پاکستا منتقل ہوئے اور [[ضلع گجرات]] کے گاؤں [[لادیاں]] میں رہائش پزیر ہوئے۔ آپ نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور [[1950]]ء میں پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔
پاکستان کے نامور سپوت راجا عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر) 6 -اگست 1923ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد راجا عبد اللہ بھٹی اپنی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ دوسری [[جنگ عظیم]] کے خاتمے کے بعد یہ گھرانہ واپس لادیاں گجرات چلا آیا جو ان کا آبائی گاؤں تھا۔
راجا عزیز بھٹی قیام پاکستان کے بعد 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے۔ 1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں انہیں شہید ملت خان [[لیاقت علی خان]] نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا پھر انہوں نے پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور 1956ء میں ترقی کرتے کرتے میجر بن گئے۔
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔ 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔
میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دبائو کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ ان پر آن لگا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس دن 12 ستمبر 1965ء کی تاریخ تھی۔
26 ستمبر 1965ء کو صدر مملکت فیلڈ مارشل [[ایوب خان]] نے پاک فوج کے 94 افسروں اور فوجیوں کو جنگ ستمبر میں بہادری کے نمایاں کارنامے انجام دینے پر مختلف تمغوں اور اعزازات سے نوازا۔ ان اعزازات میں سب سے بڑا تمغا نشان حیدر تھا جو میجر راجا عزیز بھٹی شہید کو عطا کیا گیاتھا۔ راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔<ref>http://www.pakistanconnections.com/history/index/2014-09-12/1599{{مردہ ربط|date=January 2021 |bot=InternetArchiveBot }}</ref>
 
== مزید دیکھیے ==