"کفر" کے نسخوں کے درمیان فرق

28 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
م
خودکار: درستی املا ← ہیں، ہم، دراصل، پروا، ہمارے، اور، جس، تماشا، ہے، ہوتا، گئی، کئی، لیے، ہی؛ تزئینی تبدیلیاں
م (خودکار: درستی املا ← ہیں، ہم، دراصل، پروا، ہمارے، اور، جس، تماشا، ہے، ہوتا، گئی، کئی، لیے، ہی؛ تزئینی تبدیلیاں)
 
== قران و حدیث ==
کفر قرآن و حدیث میں کئکئی معنوں میں استعمال ھوا ھے ،ہے اور اس کے معنے کو اس کی ضد کے سامنے رکھ کر ھیہی متعین کیا جاتا ھےہے ،
مثلاً،،
کفر بمقابلہ شکر ،
کفر کا معنی دبانا ھوتاہوتا ھےہے ، دبانے والے کو کفار کہا جاتا ھےہے اور قرآن حکیم نے کسان کو کفار کہا ھےہے جو دانے یا بیج کو زمین میں دباتا یا چھپاتا ھےہے ،،
شکر وہ جذبہ ھےہے جو انسان کے اندر خود بخود پھٹتا ھےہے امڈتا ھےہے جس طرح مشقت سے پسینہ پھوٹتا ھےہے یا تکلیف سے آنسو پھوٹتے ھیںہیں ، اسی طرح جب کوئی کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرتا ھےہے تو اس شخص کے اندر بھلائی کرنے والے کے بارے میں جو اچھے جذبات پیدا ھوتے ھیںہیں ان کو شکر کے جذبات کہتے ھیںہیں ،جن کو الفاظ کا روپ ھر بندہ اپنی استعداد کے مطابق دیتا ھے،ہے، عربی میں اس چشمے کو جس کو انسان نے خود کوشش کر کے نہ کھودا ھو ، اور جسے ھمارےہمارے علاقے میں ” چوآ ” کہا جاتا ھےہے یعنی چوآ سیدن شاہ ،، عربی میں اس کو” عیناً شکرا” کہا جاتا ھےہے ، وہ چشمہ جو خود بخود پھوٹ نکلا ،، اس چشمے کو دبانے والے چھپا لینے والے کو کافر اور اس کے فعل کو کفر کہا جاتا ھےہے ،،
1- وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراھیم-7)
اور یاد کرو وہ وقت جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمہیں زیادہ دونگا ، اور اگر تم نے ناشکری کی ( کفر کیا ) تو میری گرفت بھی یقیناً بڑی شدید ھو گی ،، یہاں کفر سے مراد ناشکری ھےہے ،،
2- إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ( الزمر-7)
اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ تم سے غنی ھےہے ( تمہاری ناشکری سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ھوتاہوتا ) اگرچہ وہ بندوں سے ناشکری کو پسند نہیں کرتا ، اور اگر تم شکر کرو تو اللہ تمہاری اس روش سے راضی ھوتاہوتا ھےہے ،،
یہاں بھی کفر سے مراد ناشکری ھےہے کیونکہ اس کو شکر کے بالمقابل لایا گیا ھےہے ،،
3- وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ( لقمان -12)
اور تحقیق ھمہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر کرو،کرو اور جو اللہ کا شکر کرتا ھےہے وہ اپنے ھیہی بھلے کے لئےلیے کرتا ھےہے اور جو کفر( ناشکری) کرتا ھےہے تو بے شک اللہ بےپرواہ اور ستودہ صفات ھےہے
4- وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (النمل-40)
اور جس نے شکر کیا اس نے شکر کیا اپنی ذات کے نفع کے لئےلیے اور جس نے کفرکیا ( ناشکری کی) تو بے شک میرا رب بے پرواہپروا بڑا کرم کرنے والا ھےہے
5- قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (18) وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ (الشعراء- 19)
فرعون نے کہا کہ کیا ھمہم نے تمہیں چھوٹے بچے کی حیثیت سے گھر میں نہیں پالا تھا ؟ پھر تو نے وہ کارنامہ کیا جو تُو نے کیا اور تو ناشکروں ( کافروں ) میں سے تھا ،،
یہاں کفر بمعنی ناشکری استعمال ھوا ھےہے ،،
6- اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ( الحدید-20)
جان لو کہ در اصلدراصل دنیا کی زندگی کھیل تماشہتماشا ھےہے اور زیب وزینت اور آپس میں تفاخر اور مال و اولاد کی کثرت کی جستجو ھےہے جیسے مثال بارش کی کہ اس کے نتیجے میں اگنے والی روئیدگی ” کسانوں ” کو بہت خوش کن لگتی ھےہے ، پھر وہ کھیتی پک جاتی ھےہے چنانچہ تو اس کو دیکھتا ھےہے زرد رنگ کی پھر گاہ کر بھس بنا لی جاتی ( کھیتی کا انجام تو یہیں پر ھو گیا جبکہ ) انسان کوآخرت میں شدید عذاب یا اللہ کی جانب سے مغفرت و رضا کا معاملہ درپیش ھے ،ہے اور دنیا کہ زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ،،
اس میں کسان کوکافر کہا گیا ھےہے اس کے بیج دبانے کے فعل کی نسبت سے ،،، اور یہ شکر کے متضاد استعمال ھوا ھےہے ،،
7- وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ( الکہف- 29)
اور کہہ دیجئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق پیش کر دیا گیا ھےہے سو جو چاھے وہ ایمان لے آئے لے اور جو چاھے وہ کفر کر دے ،، یہاں کفر ایمان کے بالمقابل آیا ھےہے ، اس میں بھی کفر کرنے والے کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ھےہے دنیا میں کسی سزا کا ذکر نہیں
8- مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿النحل- 106﴾
جس نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد سوائے اس کے کہ جس کو مجبور کیا گیا کفر کرنے کے لئےلیے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن رہا( اور کلمہ کفر مجرد زبان تک رھا، لیکن جس نے سینہ کھول دیا کفر کے لئےلیے ( اس کو دل میں جانے دیا ) تو ان پر غضب ھےہے اللہ کا اور ان کے لئےلیے بڑا عذاب ھےہے ،،
اس آیت میں کفر ارتداد کے معنوں میں استعمال ھوا ھےہے اور اس کی سزا بھی آخرت پر رکھی گئگئی ھےہے ،کیونکہ دلوں کا حال حشر میں ھیہی کھولا جائے گا –
9- كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (آلعمران -86)
اللہ کیسے ھدایت دے ان لوگوں کو جو کافر ھو گئے اپنے ایمان لانے کے بعد اور گواھی دی کہ رسول ﷺ برحق ھیںہیں اور ان کے پاس براھین ودلائل آ چکے، اللہ بے انصاف قوم کو ھدایت نہیں دیتا ،، یہاں بھی کفر سے مراد ارتداد ھےہے ، اس میں بھی آخرت کی سزا سے ھیہی ڈرایا گیا ھےہے ، اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیں
10-أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (87) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ (88) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (89) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ (90) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ (91)
یہ وہ لوگ ھیںہیں جن پر اللہ کی لعنت ھےہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی ملا کر ، وہ ھمیشہ اس میں رہیں گے، نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ، سوائے ان لوگوں کے کہ جو بعد میں پلٹ آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بخشنے والا رحیم ھےہے ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے ھیہی چلے گئے کفر میں ، مرتے وقت ان کی توبہ ھر گز قبول نہیں کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ھیںہیں ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں ھیہی مر گئے ان میں سے کسی سے بھی زمین بھر کر سونا بھی بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اتنا دے سکیں ۔ یہ وہ لوگ ھیںہیں جن کے لئےلیے دردناک عذاب ھو گا اور کوئی ان کا مددگار نہ ھو گا
آل عمران کی یہ ساری آیات مرتدین کومخاطب کر کے آخرت کے عذاب کو بیان کر رھی ھیںہیں اور کفر بمعنی ارتداد استعمال ھوا ھےہے ۔
 
== حقیقتِ کفر ==
 
جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا۔ اس نے سب کچھ مان لیا۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار، ان کی شان اعلیٰ کا انکار، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔ اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنٰی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
# وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿150﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًا
 
104,153

ترامیم