کفر کے معنی چھپانا اور مٹا نا ہے اسی لیے جرم کی شرعی سز اکو کفارہ کہتے ہیں کہ وہ گناہ کو مٹادیتا ہے ایک دوا کانام کافور ہے کہ وہ اپنی تیز خوشبو سے دوسری خوشبوؤ ں کو چھپالیتا ہے۔

رب تعالیٰ فرماتا ہے : اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا

اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے تو ہم تمھارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تم کو اچھی جگہ میں داخل کر یں گے [1]

قرآن شریف میں یہ لفظ چندمعنوں میں استعمال ہواہے ناشکری،انکار، اسلام سے نکل جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿7﴾

اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیں گے اور اگر تم ناشکری کرو گے تو ہمارا عذاب سخت ہے[2]

  1. وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ ﴿152﴾

میرا شکر کرونا شکری نہ کرو[3]

  1. وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلْتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿19﴾

فرعون نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ تم نے اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکر ے تھے[4]

ان آیات میں کفر بمعنی ناشکری ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:

  1. فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی

پس جوکوئی شیطان کا انکا ر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط گرہ پکڑلی۔[5]

  1. یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا

اس دن تمھارے بعض بعض کا انکار کریں گے اور بعض بعض پر لعنت کریں گے ۔[6]

  1. وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿6﴾

یہ معبود ان باطلہ ان کی عبادت کے انکاری ہوجاویں گے۔[7]

ان تمام آیات میں کفر بمعنی انکار ہے نہ کہ اسلام سے پھر جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾

فرمادو کافر و میں تمھارے معبودوں کو نہیں پوجتا۔[8]

  1. فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ

پس وہ کافر (نمرود )حیران رہ گیا۔[9]

  1. وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿254﴾

اور کافر لوگ ظالم ہیں ۔[10]

  1. لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ

وہ لوگ کافر ہو گئے جنھوں نے کہا، اللہ عیسی ابن مریم ہیں۔[11]

  1. لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ

بہانے نہ بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے[12]

  1. فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ

ان میں سے بعض ایمان لے آئے بعض کافر رہے ۔[13]

ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر، نماز، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرض کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔

قران و حدیث

ترمیم

کفر قرآن و حدیث میں کئی معنوں میں استعمال ھوا ہے اور اس کے معنے کو اس کی ضد کے سامنے رکھ کر ہی متعین کیا جاتا ہے ، مثلاً،، کفر بمقابلہ شکر ، کفر کا معنی دبانا ہوتا ہے ، دبانے والے کو کفار کہا جاتا ہے اور قرآن حکیم نے کسان کو کفار کہا ہے جو دانے یا بیج کو زمین میں دباتا یا چھپاتا ہے ،، شکر وہ جذبہ ہے جو انسان کے اندر خود بخود پھٹتا ہے امڈتا ہے جس طرح مشقت سے پسینہ پھوٹتا ہے یا تکلیف سے آنسو پھوٹتے ہیں ، اسی طرح جب کوئی کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرتا ہے تو اس شخص کے اندر بھلائی کرنے والے کے بارے میں جو اچھے جذبات پیدا ھوتے ہیں ان کو شکر کے جذبات کہتے ہیں،جن کو الفاظ کا روپ ھر بندہ اپنی استعداد کے مطابق دیتا ہے، عربی میں اس چشمے کو جس کو انسان نے خود کوشش کر کے نہ کھودا ھو اور جسے ہمارے علاقے میں ” چوآ ” کہا جاتا ہے یعنی چوآ سیدن شاہ ،، عربی میں اس کو” عیناً شکرا” کہا جاتا ہے ، وہ چشمہ جو خود بخود پھوٹ نکلا ،، اس چشمے کو دبانے والے چھپا لینے والے کو کافر اور اس کے فعل کو کفر کہا جاتا ہے ،، 1- وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراھیم-7) اور یاد کرو وہ وقت جب تمھارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمھیں زیادہ دونگا اور اگر تم نے ناشکری کی ( کفر کیا ) تو میری گرفت بھی یقیناً بڑی شدید ھو گی ،، یہاں کفر سے مراد ناشکری ہے ،، 2- إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ( الزمر-7) اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ تم سے غنی ہے ( تمھاری ناشکری سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ) اگرچہ وہ بندوں سے ناشکری کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو اللہ تمھاری اس روش سے راضی ہوتا ہے ،، یہاں بھی کفر سے مراد ناشکری ہے کیونکہ اس کو شکر کے بالمقابل لایا گیا ہے ،، 3- وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ( لقمان -12) اور تحقیق ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر کرو اور جو اللہ کا شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے اور جو کفر( ناشکری) کرتا ہے تو بے شک اللہ بے پروا اور ستودہ صفات ہے 4- وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (النمل-40) اور جس نے شکر کیا اس نے شکر کیا اپنی ذات کے نفع کے لیے اور جس نے کفرکیا ( ناشکری کی) تو بے شک میرا رب بے پروا بڑا کرم کرنے والا ہے 5- قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (18) وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ (الشعراء- 19) فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تمھیں چھوٹے بچے کی حیثیت سے گھر میں نہیں پالا تھا ؟ پھر تو نے وہ کارنامہ کیا جو تُو نے کیا اور تو ناشکروں ( کافروں ) میں سے تھا ،، یہاں کفر بمعنی ناشکری استعمال ھوا ہے ،، 6- اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ( الحدید-20) جان لو کہ دراصل دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے اور زیب وزینت اور آپس میں تفاخر اور مال و اولاد کی کثرت کی جستجو ہے جیسے مثال بارش کی کہ اس کے نتیجے میں اگنے والی روئیدگی ” کسانوں ” کو بہت خوش کن لگتی ہے ، پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے چنانچہ تو اس کو دیکھتا ہے زرد رنگ کی پھر گاہ کر بھس بنا لی جاتی ( کھیتی کا انجام تو یہیں پر ھو گیا جبکہ ) انسان کوآخرت میں شدید عذاب یا اللہ کی جانب سے مغفرت و رضا کا معاملہ درپیش ہے اور دنیا کہ زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ،، اس میں کسان کوکافر کہا گیا ہے اس کے بیج دبانے کے فعل کی نسبت سے اور یہ شکر کے متضاد استعمال ھوا ہے ،، 7- وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ( الکہف- 29) اور کہہ دیجئے کہ تمھارے رب کی طرف سے حق پیش کر دیا گیا ہے سو جو چاھے وہ ایمان لے آئے لے اور جو چاھے وہ کفر کر دے ،، یہاں کفر ایمان کے بالمقابل آیا ہے ، اس میں بھی کفر کرنے والے کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے دنیا میں کسی سزا کا ذکر نہیں 8- مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿النحل- 106﴾ جس نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد سوائے اس کے جس کو مجبور کیا گیا کفر کرنے کے لیے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن رہا( اور کلمہ کفر مجرد زبان تک رھا، لیکن جس نے سینہ کھول دیا کفر کے لیے ( اس کو دل میں جانے دیا ) تو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے ،، اس آیت میں کفر ارتداد کے معنوں میں استعمال ھوا ہے اور اس کی سزا بھی آخرت پر رکھی گئی ہے ،کیونکہ دلوں کا حال حشر میں ہی کھولا جائے گا – 9- كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (آلعمران -86) اللہ کیسے ھدایت دے ان لوگوں کو جو کافر ھو گئے اپنے ایمان لانے کے بعد اور گواھی دی کہ رسول ﷺ برحق ہیں اور ان کے پاس براھین ودلائل آ چکے، اللہ بے انصاف قوم کو ھدایت نہیں دیتا ،، یہاں بھی کفر سے مراد ارتداد ہے ، اس میں بھی آخرت کی سزا سے ہی ڈرایا گیا ہے ، اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیں 10-أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (87) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ (88) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (89) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ (90) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ (91) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی ملا کر ، وہ ھمیشہ اس میں رہیں گے، نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ، سوائے ان لوگوں کے کہ جو بعد میں پلٹ آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بخشنے والا رحیم ہے ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے ہی چلے گئے کفر میں ، مرتے وقت ان کی توبہ ھر گز قبول نہیں کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں ہی مر گئے ان میں سے کسی سے بھی زمین بھر کر سونا بھی بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اتنا دے سکیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ھو گا اور کوئی ان کا مددگار نہ ھو گا آل عمران کی یہ ساری آیات مرتدین کومخاطب کر کے آخرت کے عذاب کو بیان کر رھی ہیں اور کفر بمعنی ارتداد استعمال ھوا ہے ۔

کفر کی حقیقت اور اس کے اقسام

ترمیم

کفر ایمان کا مقابل اور ضد ہے اس لیے اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ وبضدھا تبین الاشیاء چنانچہ کفر لغوی اعتبار سے ستر اور چھپانے کے معنی میں ہے اور شریعت میں کفر کی حقیقت کو امام غزالی نے ایمان کی تعریف میں بیان فرمایا ہے۔ والکفر تکذیب النبیؐ فی شیئ مما جآء بہ ایک مختصر تعریف کفار کی یہ بھی ہےالذین ستروالحق عنادا یعنی جنھوں نے عناد کی وجہ سے حق کو چھپایا۔ لیکن وہ کافر ہو جانے کے لیے صرف اتنا کافی ہے۔ ضروریات دین میں سے ایک کا انکار کریں۔

جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا۔ اس نے سب کچھ مان لیا۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار، ان کی شان اعلیٰ کا انکار، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے یا اگر نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو مانتا ہے لیکن آخری نبی نہیں مانتے ہو، تو وہ بھی کافر ہے۔ جیسے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں وغیرہ۔ اسی طرح نماز، روزہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنٰی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿150﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًا

اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر وں پر ایمان لائینگے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں یہی لوگ یقینا کا فر ہیں([14]

  1. وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿104﴾

کافروں ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے۔[15]

  1. وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿61﴾

اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان ہی کے لیے دردناک عذاب ہے ۔[16]

یعنی صرف کافر کو دردناک عذاب ہے اور صرف اسے درد ناک عذاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دے۔ لہٰذا پتا لگا کہ صرف وہ ہی کافر ہے جو رسول کو ایذادے اور جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت واحترام، خدمت، اطاعت کرے وہ سچا مومن ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِی سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًا ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿74﴾

اورجوایمان لائے اورانہوں نے ہجرت کی اوراللہ کی راہ میں جہادکیااوروہ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ سچے مسلمان ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔[17]

رب تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیۡمُ ﴿63﴾

کیا انھیں خبر نہیں کہ جو مخالفت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے ۔

بلکہ جس اچھے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطا عت کا لحاظ نہ ہو بلکہ ان کی مخالفت ہو وہ کفر بن جاتا ہے اور جس برے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہو وہ ایمان بن جاتا ہے مسجد بنانا اچھا کام ہے لیکن منافقین نے جب مسجد ضرار حضور کی مخالفت کرنے کی نیت سے بنائی توقرآن نے اسے کفر قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیۡقًۢا بَیۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبْل ؕ

اور وہ لوگ جنھوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچا نے اور کفر کے لیے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے۔[18]

نماز توڑنا گناہ ہے لیکن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بلانے پر نماز توڑنا گناہ نہیں ہے بلکہ عبادت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیۡبُوۡا لِلہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحْیِیۡکُمْ

اے ایمان والو اللہ رسول کا بلاوا قبول کروجب وہ تمھیں بلائیں اس لیے کہ وہ تمھیں زندگی بخشتے ہیں۔[19]

اسی لیے حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر اونچی آواز کرنے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادنیٰ گستاخی کرنے کو قرآن نے کفر قرار دیا جس کی آیات ایمان کی بحث میں گز ر چکیں۔ شیطان کے پاس عبادات کافی تھیں مگر جب اس نے آدم علیہ السلام کے متعلق کہا کہ

قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿76﴾قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿77﴾

میں ان سے اچھا ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور انھیں مٹی سے پیدا کیا رب نے فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہو گیا۔ [20] تو فورا کافر ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کے جادو گر وں نے موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا کہ جادو کرنے سے پہلے عرض کیا

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحْنُ الْمُلْقِیۡنَ ﴿115﴾

عرض کیا کہ اے موسی یا پہلے آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں ۔[21]

اس اجازت لینے کے ادب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں ایک دن میں ایمان ،کلیم اللہ کی صحابیت، تقویٰ، صبر، شہادت نصیب ہوئی۔ رب نے فرمایا :

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ46﴾

جادو گر سجدے میں گرادیئے گئے ۔[22]

یعنی خود سجدے میں نہیں گرے بلکہ رب کی طر ف سے ڈال دیے گئے۔ کافر کے دل میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب آجائے توان شاء اللہ مومن ہو جائے گا۔ اگر مومن کو بے ادبی کی بیماری ہو جائے تو اس کے ایمان چھوٹ جانے کاخطرہ ہے۔

یوسف علیہ السلام کے بھائی قصور مند تھے مگر بے ادب نہ تھے آخر بخش دیے گئے۔ قابیل یعنی آدم علیہ السلام کا بیٹا جرم کے ساتھ نبی کا گستاخ بھی تھالہٰذا خاتمہ خراب ہو ا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. (پ5،النسآء:31)
  2. (پ13،ابرٰہیم:7)
  3. (پ2،البقرۃ:152)
  4. (پ19،الشعرآء:19)
  5. (پ3،البقرۃ:256)
  6. (پ20،عنکبوت:25)
  7. (پ26،الاحقاف:6)
  8. (پ30الکٰفرون:1۔2)
  9. (پ3،البقرۃ:258)
  10. (پ3،البقرۃ:254)
  11. (پ6،المآئدۃ:17)
  12. (پ10،التوبۃ:66)
  13. (پ3،البقرۃ:253)
  14. پ6،النسآء:150۔151)
  15. (پ1،البقرۃ:104)
  16. (پ10،التوبۃ:61)
  17. (پ10،الانفال:74)
  18. (پ11،التوبۃ:107)
  19. (پ9،الانفال:24)
  20. (پ23،ص:76۔77)
  21. (پ9،الاعراف:115)
  22. (پ19،الشعرآء:46)