"اسرائیل زینگوئیل" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: درستی املا ← لیے، یا، امریکا، ہو سکے، طلبہ، چاہیے، اور، کے لیے، ڈراما، کر دیا، جس کا، بعد ازاں؛ تزئینی تبدیلیاں
Israel Zangwill» کے ترجمے پر مشتمل نیا مضمون تحریر کیا)
 
م (خودکار: درستی املا ← لیے، یا، امریکا، ہو سکے، طلبہ، چاہیے، اور، کے لیے، ڈراما، کر دیا، جس کا، بعد ازاں؛ تزئینی تبدیلیاں)
{{خانہ معلومات مصنف|image=Israel Zangwill.jpg|imagesize=180px|caption=|birth_date={{birth date|df=yes|1864|1|21}}|birth_place=[[لندن]], انگلستان, مملکت متحدہ|death_date={{death date and age|df=yes|1926|8|1|1864|1|21}}|death_place=[[میڈ ہرسٹ]], [[مغربی سسیکس]], انگلستان, مملکت متحدہ|notableworks=(1892) <br> ''[[پگھلاتی ہنڈیا (کھیل)|پگھلاتی ہنڈیا]]'' (1908 بڑے جھکاؤ کی رمز)|spouse=ایڈیتھ آئرٹن}} '''اسرائیل زینگوئیل''' (21 جنوری 1864ء{{snd}}1 اگست 1926ء) 19 ویں صدی میں [[ثقافتی صہیونیت|ثقافتی صیہونیت]] کا صف اول کا ایک برطانوی مصنف تھا ، اور [[تھیوڈور ہرتزل]] کا قریبی ساتھی تھا۔ بعدازاںبعد ازاں اس نے [[فلسطین]] میں یہودی وطن کی تلاش کو مسترد کردیاکر دیا اور [[یہودی اقلیمی تنظیم|علاقائی تحریک]] کا سب سے پہلا مفکر بنا۔
 
== ابتدائی زندگی اور تعلیم ==
زینگوئیل 21 جنوری 1864ء لندن میں [[سلطنت روس|روسی سلطنت]] سے تعلق رکھنے والے [[یہود|یہودی]]ی تارکین وطن کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے ۔ اس کے والد ، موسی زینگوئیل کا تعلق موجودہ [[لٹویا]] سے تھا،تھا اور والدہ ایلن ہننا مارکس زینگوئیل،موجودہ [[پولستان]] سے تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی، ان لوگوں کے لئےلیے وقف کی جنھیں وہ مظلوم سمجھتے تھے اور [[ یہودی سے نجات |یہودی آزادی]]، [[یہودی انجذاب]]، [[یہودیوں کا وطن|یہودی وطنیت]]، [[صہیونیت|صیہونیت]] اور [[خواتین کا حق رائے دہی|خواتین کی حق رائےدہی]] جیسے موضوعات میں متحرک رہے- ان کا بھائی لوئس زینگول ناول نگار تھے۔ <ref>[http://www.jewishencyclopedia.com/view.jsp?artid=27&letter=Z Louis Zangwill] in Jewish Encyclopedia</ref>
 
زینگوئیل نے ابتدائی اسکول کی تعلیم پلائماوتھ اور برسٹل میں حاصل کی۔ جب ان کی عمر نو سال تھی، زینگوئیل نے مشرقی لندن [[سپٹل فیلڈز، لندن|اسپیٹل فیلڈز]] میں یہودی تارکین وطن بچوں کے مفت یہودی اسکول میں داخلہ لیا تھا۔ اسکول میں سیکولر اور دینی دونوں ہی علوم کا سخت کورس پڑھایا جاتا تھا جبکہ طلباءطلبہ کے لئےلیے لباس، کھانا،کھانا اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ اس کے اعزاز میں اسکول کے چار ہاؤس میں سے ایک کا نام زینگوئیل رکھا گیا ہے۔ اس اسکول میں اس نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یہاں تک کہ جز وقتی تعلیم بھی دی، بالآخر ایک مکمل استاد بنا ۔ تدریس کے دوران، اس نے [[لندن یونیورسٹی]] سے ڈگری کے لئےلیے تعلیم حاصل کی، 1884ء میں ٹرپل آنرز کے ساتھ بی اے کیا۔
[[فائل:TheMeltingpot1.jpg|بائیں|تصغیر| پگھلاتی ہنڈیا (1916) کے ڈرامے کا تھیٹر پروگرام۔ ]]
زینگوئیل اپنے کام کی بدولت " [[پاڑہ]] کا [[چارلس ڈکنز|ڈکنز]] " کے نام سے مشہور ہوا۔ <ref>[http://chroniclingamerica.loc.gov/lccn/sn85066387/1895-08-25/ed-1/seq-16.pdf Israel Zangwill – A Sketch], by Emanuel Elzas; in the ''[[San Francisco Call]]''; published 25 August 1895; retrieved 14 May 2013; archived at the [[Library of Congress]]</ref> انہوں نے ایک بہت ہی متاثر کن ناول "پاڑے کے بچے" '': انوکھے لوگوں'' کا ایک مطالعہ (1892ء) لکھا ، جسے انیسویں صدی کے آخر میں انگریزی ناول نگار [[ جارج گیسنگ |جارج گیسنگ]] نے "طاقتور کتاب" کہا۔ <ref>Coustillas, Pierre ed. London and the Life of Literature in Late Victorian England: the Diary of George Gissing, Novelist. Brighton: Harvester Press, 1978, p.364.</ref>
 
تارکین وطن کے امریکی انجذاب کو استعاراتی جملہ " [[پگھلاتی ہنڈیا]] " کے استعمال سے زینگوئیل کے ڈرامے ''[[ پگھلنے کا برتن (کھیل) |دی میلٹنگ پاٹ]]'' نے شہرت دی <ref>Werner Sollers, ''Beyond Ethnicity: Consent and Descent in American Culture'' (1986), Chapter 3 "Melting Pots"</ref> جو 1909-10 میں ریاستہائے متحدہ میں ایک کامیاب اور مقبول ہوا۔
 
جب 5 اکتوبر 1909ء کو واشنگٹن ڈی سی میں پگھلاتی ہنڈیا چلا تو سابق صدر [[تھیوڈور روزویلٹ]] نے اپنے خانے کے کنارے سے جھانکا اور چلایا ، "یہ ایک زبردست ڈرامہڈراما ہے ، مسٹر زینگوئیل ! یہ ایک بہت اچھا ڈرامہڈراما ہے۔" <ref>Guy Szuberla, "Zangwill's The Melting Pot Plays Chicago," MELUS, Vol. 20, No. 3, History and Memory. (Autumn, 1995), pp. 3–20.</ref>
 
اس ڈرامے کا مرکزی کردار ڈیوڈ ، [[ کیشینیف پوگوم |کیشینیو پوگروم]] کے بعد امریکہامریکا ہجرت کرتا ہے جس میں اس کا پورا خاندان مارا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کے ایک بڑا نغمہ (سمفنی) جس کا نام "دی کروسیبل" جس میں ڈیوڈ اس دنیا کے لئےلیے اپنی امید کا اظہار کرتا ہے جس میں تمام تر نسلیت ختم ہوچکی ہوتی ہے،ہے اور ڈیوڈ ویرا نامی ایک خوبصورت روسی عیسائی تارکین وطن کی طرف راغب ہوتا ہے۔ ڈرامہڈراما اپنے عروج پر اس لمحے پہنچتا ہے جب ڈیوڈ ویرا کے والد سے ملتا ہے، جو ڈیوڈ کے اہل خانہ کے فنا ہونے کا ذمہ دار روسی افسر ہوتا ہے۔ ویرا کے والد جرم کا اعتراف کرتا ہے، سمفنی کو پزیرائی حاصل ہوتی ہے، ڈیوڈ اور ویرا ہنسی خوشی رہتے ہیں،ہیں یا کم از کم پردہ پڑتے ہی بوسہ لینے پر شادی کیلئےکے لیے راضی ہوجاتے ہیں۔
 
"پگھلاتی ہنڈیا نے اپنے تارکین وطن کی شراکت سے ترقی کرنے اور امریکہامریکا کی انجذابی صلاحیت کا جشن منایا۔" <ref>Kraus, Joe, "How The Melting Pot Stirred America: The Reception of Zangwill's Play and Theater's Role in the American Assimilation Experience," MELUS, Vol. 24, No. 3, Varieties of Ethnic Criticism. (Autumn, 1999), pp. 3–19.</ref> زینگوئیل وہ یہودی بن کر لکھ رہے تھے "جو اب یہودی نہیں بننا چاہتا تھا"۔ اس کی اصل امید ایک ایسی دنیا کی تھی جس میں نسلی اور مذہبی تفریق کی پوری لغت کو پھینک دیا گیا ہو۔ " <ref>[[Jonathan Sacks]] ''The Home We build Together'', Continium Books, 2007, P. 26</ref>
 
ذیل میں ان کی "یہودی پاڑہ" کی کتابوں کی فہرست ہے۔
 
* ''پاڑہ'' ''کے بچے: انوکھے لوگوں کا مطالعہ'' (1892)
* ''پاڑہ'' ''کے پوتے'' (1892)
* ''پاڑہ'' ''کے خواب دیکھنے والے'' (1898)
* ''پاڑہ'' ''کا المیہ'' ، (1899)
* ''پاڑہ کی مزاحیات'' ، (1907)
 
=== سیاست ===
[[فائل:Israel_Zangwill_by_Walter_Sickert_Vanity_Fair_25_February_1897.jpg|بائیں|تصغیر|<center> "پاڑے کا بچہ" <br /> ونیٹی فیئر ، فروری 1897 میں والٹر سکرٹ کی زینگوِئیل کی مضحکوی خاکہ نگاری ۔ </center>]]
 
==== یہودی سیاست ====
زینگوئیل سیاست خصوصا یہودی معاملات میں بطور انجذابی، ابتدائی صیہونی اور ایک [[یہودی اقلیمی تنظیم|علاقائی]] ماہر بھی شامل رہا۔ <ref name="MJR">{{حوالہ رسالہ|title=Review of Dreamer of the Ghetto: The Life and Works of|first=Meri-Jane|last=Rochelson|date=1 January 1992|publisher=|journal=AJS Review|volume=17|issue=1|pages=120–123}}</ref> کچھ عرصہ کے لئےلیے [[تھیوڈور ہرتزل|تیوڈور ہرتزل]] کی توثیق کرنے کے بعد، بشمول مکبیین کلب کی صدارت جس میں 24 نومبر 1895 کو [[تھیوڈور ہرتزل|تیوڈور ہرتزل]] نے خطاب کیا ، اور فلسطین پر مبنی صیہونی تحریک کی تائید کرنے کے ساتھ، زینگوئیل نے اس قائم شدہ فلسفہ کو چھوڑا اور 1905ء میں اپنی الگ تنظیم یہودی علاقائی تنظیم کی بنیاد رکھی، جسکاجس کا نظریہ تھا کہ یہودی وطن کی وکالت میں دنیا میں کہیں بھی جو بھی زمین دستیاب ہوسکےہو سکے <ref>Israel Zangwill, Joseph Leftwich, Yoseloff, 1957, p. 219</ref>کینیڈا ، آسٹریلیا ، [[بین النہرین|میسوپوٹیمیا]] ، [[یوگنڈا]] اور [[برقہ|سائرینیکا]] سمیت جہاں ان کے لئےلیے وطن قائم کیا جاسکے وہ کارآمد ہے۔
 
زییو جبوتنسکی کے مطابق، زینگوئیل نے 1916ء میں اس سے کہا کہ، " آپ کو بےزمین لوگوں کو ملک دینا چاہتے ہیں، تو یہ سراسر حماقت ہے کہ انہیں ایسا ملک دیں جس پر دو قوموں کا دعوی ہو. یہ صرف پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہودی پریشان ہوں گے اور ان کے ہمسایہ بھی۔ یا تو یہودیوں کے لئےلیے یا ان کے پڑوسیوں کے لئےلیے الگ جگہ ہونی چاہئےچاہیے "۔ <ref>Cited in Yosef Gorny, Zionism and the Arabs, 1882–1948 (Oxford: Clarendon Press, 1987), p. 271</ref>
 
1917 میں انہوں نے لکھا "بے زمین لوگوں کو بے ملک لوگوں کی زمین دو ' لارڈ شفٹسبیری سے میری بڑی گزارش ہے کہ۔ ' افسوس ، یہ ایک گمراہ کن غلطی ہے۔ خدارا اس ملک میں 600،000 عرب آباد ہیں۔ " <ref>I. Zangwill, The Voice of Jerusalem, MacMillan, 1921, p. 96</ref>
 
1921ء میں زینگوِئیل نے لکھا کہ "اگر لارڈ شفٹسبری فلسطین کو بےعوام ایک ملک قرار دینے میں حقیقتاً حق بجانب نہیں، لیکن بنیادی طور پر یوں درست تھا کہ وہاں کے عرب باشندوں کا ملک کے ساتھ گہرا ادغام نہیں، اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں اور اسپر ایک خاص تاثر کے ساتھ مہر ثبت کرتے ہیں : زیادہ سے زیادہ وہ ایک عربی پڑاؤ ہے، جس کے ٹوٹنے سے یہود پر کاشتکاری کی مشقت بڑھ جائیگی جو ان کو عرب کسانوں ''کا ناجائز'' فائدہ اٹھانے سے ''روکے رکھے گا''، جن کی تعداد زیادہ اور اجرت کم ہوتی ہے - جو پولستان و دیگر یورپی مراکزِ مصائب سے آمدہ ممکنہ مہاجرین کے لئےلیے ''خاصی'' رکاوٹ کا باعث ہوگا"۔ <ref>Zangwill, Israel, The Voice of Jerusalem, Macmillan, New York, 1921, p. 109</ref>
 
زینگوئیل1926ء میں مڈہرسٹ ، مغربی سسیکس میں انتقال کر گئے.
 
زینگوئیل1926ء میں مڈہرسٹ ، مغربی سسیکس میں انتقال کر گئے.
[[زمرہ:بیسویں صدی کے برطانوی مرد مصنفین]]
[[زمرہ:بیسویں صدی کے انگریز ناول نگار]]
104,157

ترامیم