"تخت طاؤس" کے نسخوں کے درمیان فرق

105 بائٹ کا ازالہ ،  10 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
[[تصویر:Shah Jahan on The Peacock Throne.jpg|thumb|300px|left|شاہجہاں تخت طاؤس پر جلوہ افروز]]
[[تصویر:Diwan-i-Am-1.jpg|thumb|250px|left|دیوان عام کا اندرونی حصہ جہاں تخت طاؤس رکھا جاتا تھا۔ آج کل آگرہ کا قلع عالمی ثقافتی ورثہ میں درج ہے۔]]
 
مغل شہنشاہ [[شاہجہان]] نے تخت نشینی کے بعد اپنے لیے ایک نہایت قیمتی تخت تیار کرایا جو ’’تخت طاؤس‘‘ کہلاتا تھا۔ اس تخت کا طول تیرہ گز عرض ڈھائی گز اور بلندی پانچ گز تھی۔ یہ چھ پایوں پر قائم تھا۔ جو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔ تخت تک پہنچنے کے لیے تین چھوٹے چھوٹے زینے بنائے گئے تھے۔ جن میں دور دراز ملکوں کے قیمتی جواہر جڑے تھے۔ دونوں بازؤں پر دو خوبصورت مور چونچ میں موتیوں کی لڑی لیے پروں کو کھولے سایہ کرتے نظر آتے تھے۔ اور دونوں کے سینوں پر سرخ [[یاقوت]] جڑے ہوئے تھے۔ پشت کی تختی پر قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ جن کی مالیت لاکھوں روپے تھی۔ تخت کی تیاری پر ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوا تھا۔ جب [[نادر شاہ]] نے [[دہلی]] پر حملہ کیا تو دہلی کی ساری دولت سمیٹنے کے علاوہ تخت طاؤس بھی اپنے ساتھ [[ایران]] لے گیا۔
 
8,595

ترامیم