"غزوہ بنی قریظہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
Bot: Fixing redirects
م (روبالہ - بین الوکی روابط کو ترتیب دیا)
م (Bot: Fixing redirects)
جب یہودی محاصرہ سے تنگ آ گئے تو انہوں نے حضور {{درود}} سے درخواست کی کہ ان کے دیرینہ دوست ابولبابہ کو ان کے پاس مشورہ کے لیے بھیج دیں۔ ابو لبابہ اسلام لے آئے تھے۔ جب ابولبابہ بنی قریظہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم خود کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں تو ابو لبابہ نے اوپر اوپر سے کہا کہ ہاں حوالے کر دو مگر ہاتھ کو گردن پر پھیر کر اشارہ سے ان کو بتا دیا کہ وہ گردن مار دیں گے۔ اس طرح ابولبابہ نے مسلمانوں سے ایک طرح کی خیانت کی۔ انہیں اس کا احساس ہوا تو انہوں نے واپس آ کر اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ لیا اور کئی دن بندھے رہے جب تک خدا نے ان کی توبہ قبول نہیں کی اور حضور {{درود}} نے ان کی رسیاں نہ کھولیں۔حضرت ابو لبابہ {{رض مذ}} تا زندگی اپنی توبہ پر قائم رہے اور محلہ بنی قریظہ میں ساری زندگی قدم نہیں رکھا۔
<br>
اس واقعہ کے بعد بنی قریظہ کے پاس کوئی چارہ نہ رہا مگر یہ کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں۔ بنی قریظہ ہی کی مرضی سے یہ فیصلہ ہوا کہ ان کا فیصلہ سعد بن معاذ کریں گے۔ سعد بن معاذ غزوہ خندق میں لگنے والے ایک تیر کی وجہ سے زخمی تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کی ان مردوں کو قتل کر دیا جائے جو عہد شکن ہیں، عورتوں کو اسیر کیا جائے اور ان کا مال ضبط کر لیا جائے۔ یہ فیصلہ دو وجوہ سے ہوا تھا۔ ایک یہ کہ یہودیوں کی مذہبی کتاب تورات کے مطابق اس قسم کی عہد شکنی کی سزا موت تھی اور دوسرے یہ کہ بنی قریظہ اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر وہ دغا کریں گے تو ان کو قتل اور عورتوں کو اسیر کر کے ان کا مال ضبط کرنے کا اختیار حضور {{درود}} کے پاس ہوگا۔ چنانچہ 700 یہودیوں کو حضرت [[علی (ضد ابہام)|علی]] علیہ السلام، حضرت زبیر {{رض مذ}} اور قبیلہ اوس کے کچھ افراد نے قتل کیا۔ اس جنگ کے مالِ غنیمت میں بہت سی شراب بھی شامل تھی جسے زمین پر بہا دیا گیا۔
 
== حوالے ==