خرقہ خلافت تصوف کی ایک اصطلاح ہے جس میں کسی مرید کو اپنی خلافت یا جانشینی عطا کی جاتی ہے۔ اسے خرقہ درویشی بھی کہا جاتا ہے۔

خرقہ کی اصل ترمیم

خرقہ خلافت یا خرقہ درویشی کی اصل وہ گلیم سیاہ یا عبا ہے جو رسول اللہﷺ نے علی المرتضیٰ کو اوڑھائی تھی اور یہی طریقہ بعد کے مشائخ نے یکے بعد دیگرے منتقل کیا ۔

خرقہ کی حقیقت ترمیم

خرقہ کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک طہارت کا ذریعہ تزکیہ کی علامت اور شرف و عزت کاظاہری نشان ہے۔ جس میں رسول اللہ ﷺ کے اسرار نبوت اور حقائق ولایت پوشیدہ ہیں جو اس خرقہ کی صورت میں ودیعت کیے جاتے ہیں۔ جو علی المرتضی کو عنایت کیے گئے تھے۔۔ راحت القلوب اور سیر الاولیاء میں ہے کہ

’’خرقہ درویشی رسول اللہ ﷺ کو شب معراج میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا جو ایک گلیم سیاہ کی صورت میں تھا ‘‘

شاہ ولی اللہ کی ترمیم

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنے رسالہ ’’الانتباہ فی سلاسل اولیاءاللہ‘‘ میں فرماتے ہیں۔

’’ اس کی اصل تو سنت سنیہ ہے یعنی خرقہ کی اصل تو رسول اللہ کا لباس ہے جو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف کو امیر لشکر بناتے وقت عمامہ عطا فرمایا تھا اور بیعت کا وجود رسول اللہ سے ثابت ہے اور رسم خرقہ و بیعت حضرات صوفیا کا پہلے زمانہ میں اس طرح نہ تھا بلکہ یہ صحبت ِ،ربط، ادب ،تعلیم اور تہذیب نفس تھا نہ کہ خرقہ و بیعت کی صورت میں۔ خرقہ خلافت کی رسم سید الطائفہ ابو القاسم جنید بغدادی کے زمانے میں ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد رسم بیعت پیدا ہوئی۔ صوفیائے کرام کی یہ قدیم رسم ہے کہ اپنے احباب خرقہ پہناتے ہیں جوکلاہ ،عمامہ، قمیص اور چادر کی صورت میں جو اس وقت میسر ہو ‘‘

خرقہ کی اقسام ترمیم

خرقہ تین قسم کا ہے۔

  • ایک خرقہ اجازت جو تلقین و صحبت میں اپنے کسی مرید کو نائب مقرر کرنے اور طریقت کی اجازت دینے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ طالبین سے بیعت لینے کا اپنے آپ کو مجاز سمجھے یہ کئی شیوخ سے لینا جائز نہیں۔* دوسرا خرقہ ارادت جو کسی کو صوفیوں کے زمرہ میں داخل ہوتے وقت اور ان کے نقش قدم پر چلنے میں مصروف ہوتے وقت عطاکیا جاتا ہے یہ صوفیا کی علامت کے طور ہوتا ہے۔
  • تیسرا خرقہ تبرک۔ جب کوئی شیخ کسی پر مہربان ہو کر اسے خرقہ عطا کرے تاکہ صوفیا کی برکات حاصل ہوں یہ خرقہ کئی جگہوں سے لینا جائز ہے۔[1]

حوالہ جات ترمیم

  1. یادگار سہروردیہ،ابو الفیض قلندر علی سہرردی،صفحہ 51،حسیب خاور سہروردی لاہور