خواجہ سرا (Eunuch) (تلفظ: /ˈ[invalid input: 'ju:']nək/; یونانی: εὐνοῦχος)[1] ایک ایسا مرد ہے جسے خصی کر دیا گیا ہو۔

عثمانی حرم کے خواجہ سرا

لفظی بحثترميم

خواجہ‘ فارسی کا لفظ ہے اور اس کی جمع ’خواجگان‘ ہے۔ خواجہ سردار یا آقا کو کہتے ہیں۔ لغت کے مطابق توران میں سادات کا لقب جیسے خواجہ معین الدین۔ اور خواجہ سرا وہ غلام جو نامرد ہو اور گھر میں زنانہ کام کرتا ہو۔ یہ امیروں اور بادشاہوں کے زنانہ محل کی دربانی بھی کرتے ہیں اور زنانے میں آنے جانے کی انہیں اجازت بھی ہوتی ہے۔ ان کو محلّی بھی کہتے ہیں۔

اردو زبان میں اس صنف کو ہیجڑا، کھسرا، زنخا یا خواجہ سرا ء کے ناموں سے جانا جاتا ہے جبکہ عربی میں ان کو مخنث کہا جاتا ہے۔

صنفترميم

خواجہ سرا تیسری صنف ہیں۔ اگرچہ خواجہ سراؤں کے جسم مردانہ ہوتے ہیں لیکن اُن کی روش صنف نازک کی طرح ہوتی ہے۔[2] پاکستان میں سرکاری طور پر مردم شماری میں ان کی تعداد الگ شمار کی جاتی ہے، پاکستان کی کل آبادی میں 21744 ہیں،

اولین مدرسہترميم

اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک خواجہ سرا نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک مدرسہ قائم کیا ہے جہاں صرف خواجہ سراؤں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ خواجہ سراؤں کا اولین مدرسہ ہے، مدرسے کی سربراہ 34 سالہ خواجہ سرا رانی خان روزانہ تقریباً 25 خواجہ سراؤں کو قرآن مجید پڑھاتی ہیں۔

نکاحترميم

ضیا الحق نقشبندی کے مطابق 50 زائد مفتیان نے فتوی دیا ہے کہ ’ایسا خواجہ سرا جن میں جسمانی طور مردانہ علامات پائی جاتی ہوں ان کا ایسے خواجہ سرا سے نکاح جائز ہے جس میں زنانہ علامات موجود ہوں۔‘

فتویٰ کے مطابق واضح علامات والے خواجہ سراؤں سے عام مرد اور عورت بھی نکاح کر سکتی ہیں۔

اولین ڈاکٹرترميم

کراچی کی 27 سالہ ڈاکٹر سارہ گل نے پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے جنوری 2022ء میں ڈگری پاس کی

مقابلے کا امتحانترميم

لاہور ہائی کورٹ نے خواجہ سرا فیاض اللہ کو پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے تحت امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی ہے۔(5 فروری 2021ء)

سائنسی تحقیقترميم

خواجہ سراء (Kilnefelter Syndrome)

یہ زماروت ہیں۔پشاور سے تعلق ہے اور خیبر پختونخواہ کی خواجہ سراء کمیونٹی میں نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ دانائی کی وجہ سے نمایاں نام رکھتی ہیں۔ یہ Kilnefelter Syndrome کے ساتھ پیدا ہوئیں۔ ہمارے تئیسواں کروموسوم کا جوڑا جنس کا تعین کرتا ہے۔ XX ہو تو لڑکی اور XY ہو تو جسمانی خدوخال اور ساخت لڑکوں کی ہوتی ہے۔ اس سنڈروم میں تئیسویں کروموسوم کے ساتھ ایک X کروموسوم اضافی جڑ جاتا ہے۔ اگر XY کے ساتھ جڑ جائے تو اسے XXY 47 کہتے ہیں۔ یعنی ہے وہ لڑکا ہی مگر جنسی تعین والے کروموسوم میں ایک ایکس کی ایکسٹرا کاپی ہونے کی وجہ سے جسمانی ساخت اور ہارمونز میں قدرتی طور پر تقریباً 33 فیصد لڑکیوں والے کام آجاتے ہیں۔۔ یوں سمجھیں دو حصے مرد اور ایک حصہ عورت۔ ایک تو جسمانی ساخت کا مسئلہ ہوتا دوسرا نفسیات میں 33 فیصد رجحان فی میل سائیکالوجی کا ہوتا ہے۔

ان کو انگلش میں انٹر سیکس کہا جاتا ہے۔ یعنی جنسی اعضاء کا واضح نہ ہونا یا مکس ہونا۔ یا نمایاں نہ ہونا۔ ٹرانز جینڈر ایک الگ اصطلاح ہے۔ یعنی وہ لوگ جسمانی طور پر مکمل لڑکا اور لڑکی ہوتے ہیں۔۔ بس ذہنی طور پر اپنی جنس کو قبول نہیں کرتے۔ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ ہمارا موضوع وہ لوگ نہیں ہیں۔

انٹر سیکس میں ایک ایکس زیادہ ہونے کی وجہ سے ہی اس سنڈروم کا شکار Male کو X فی میل کروموسوم کی وجہ سے Shemale بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ بس ایک آپریشن کروا کر شادی بھی کر سکتی ہیں۔ مگر اسکے بعد ہارمونل بیلنس رکھنے کے لیے کچھ دوائیں کھانا ہوتی ہیں جو حمل وغیرہ اور جنسی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ چندی گھڑ کرے عاشقی ایوشمن کھرانہ کی حالیہ ریلیز ہوئی فلم اسی موضوع پر ہے۔

گذشتہ برس زماروت پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا گولیاں پیٹ میں لگیں۔ الحمدللہ ان کی جان بچ گئی مگر گھر والوں سے ملے جو زخم روح کو گھائل کر گئے وہ کبھی بھی بے درد نہ ہو سکیں گے۔

آج اکتیس مارچ کو پوری دنیا میں خواجہ سراء کمیونٹی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس کمیونٹی کو کئی نام دیے جاتے ہیں جو سب کے سب غیر انسانی اور ہتک آمیز الفاظ ہیں۔ ہیجڑہ، کھسرہ، تیسری جنس ، وغیرہ

لفظ خواجہ کا مطلب ہے افسر اور سرائے کا مطلب ہے رہنے کی جگہ۔ مغلیہ دور میں بادشاہوں نے اپنے درباروں میں اپنی بیویوں کے رہنے کی جگہوں پر اس کمیونٹی کو ملازمت دی اور ان کو سرا کا افسر یعنی خواجہ سراء کہا جانے لگا۔ تب سے اب تک ان کے لیے یہ لفظ قدرے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مگر اب یہ خواجے یعنی افسر تو نہیں ہیں۔ بس سرائے میں ہی قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

پاکستان میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ ایک تو ان لوگوں کا علاج نہیں ہو پاتا ۔ دوسرا والدین ان بچوں کے مسائل کو سرے سے سمجھ ہی نہیں پاتے ۔ XXY 47 ہوتا تو دکھنے میں لڑکا ہی ہے مگر رجحان عادات و اطوار لڑکیوں والے ہوتے ہیں۔ میک اپ کرنا بال لمبے کرنا اور لڑکیوں جیسی باتیں کرنا انکی سرشت میں ہوتا ہے جسے نظر انداز کرکے ان بچوں پر جسمانی و ذہنی تشدد و ظلم کیا جاتا ہے۔ کہ وہ ان چیزوں کا اظہار نہ کریں۔ اور خود کو مرد ظاہر کریں۔ ایک وقت آتا ان لوگوں کو گھر سے نکال دیا جاتا اور یہ خواجہ سراء کمیونٹی میں جا کر پناہ لے لیتے۔ وہاں انکی گرو انکی بڑی بہن اور ماں کا درجہ حاصل کر لیتی۔

زماروت Kilnefelter Syndrome سنڈروم کی وجہ اور آپریشن نہ ہونے کیوجہ سے گھر سے نکالی جا چکی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی وہ غلط فعل نہیں کیا جسے ہماری کمیونٹی سے جوڑا جاتا ہے۔۔ اور اکثریت ایسا دھندہ نہیں کرتی۔ جب بھوکوں مر رہے ہوں تو جان بچانے کی غرض سے اس لعنت کو قبول کیا جاتا ہے۔ کہ ہمارے ساتھ نا انصافی تو گھر سے ہی شروع ہو جاتی پھر سکول کالج یونیورسٹی اور ورکنگ پلیسز سب ہمارے لیے سرکس کا روپ دھار لیتی ہیں ۔ اور ہم اپنی شناخت ظاہر کرکے جوکر یا سیکس ورکر سمجھے جاتے۔

سنہ 2020 میں پاکستان کے 50 جید مفتیان کرام نے ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس میں یہ کہا گیا ان کو تیسری جنس کہنا حرام ہے۔ اور مردانہ یا زنانہ واضح خصوصیات والے افراد اپنی مخالف جنس سے دین محمدی کے تحت نکاح کر سکتے ہیں۔ جنکی جنس واضح نہیں وہ اپنا علاج کروا کر نکاح کر سکتے ہیں۔ اور ان کو حق حاصل ہے وہ خود کو باقاعدہ علاج کے بعد اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے لڑکا یا لڑکی کے طور پر متعارف کروا سکتے ہیں۔

اس ضمن میں شعور بہت ہی کم ہے۔ خواجہ سراء کمیونٹی کی شادی پر انکے اپنے ہی گھر والے پولیس کا چھاپا ڈلوا کر ہم جنس پرستی کی دفعہ لگوا کر ان کو ذلیل کرتے ہیں۔ یعنی ایک تو گھر سے نکال دیا اور جب وہ لوگ اپنی فیملی شروع کرنے کا سوچیں تو اسکا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔

اس بارے میں اپنی قانونی طور پر کئی سقم موجود ہیں۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت بہت ضروری ہے۔

یہ لوگ شادیوں میں ناچتے گاتے ہیں۔ تماشا کی جگہوں پر لوگوں کے سامنے ناچتے ہیں۔ ہمارے بچے پیدا ہونے پر خوشیاں بکھیرنے آتے ہیں۔ ہماری ہر خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ مگر ان کی اپنی زندگی میں خوشی دور دور تک نظر نہیں آتی۔ انکی زندگی میں سالگرہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کہ عیدوں شبراتوں اور دیگر مذہبی تہواروں پر بھی انکے اپنے ان سے نہیں ملتے۔ وہ لوگ مسجد مندر چرچ بھی جائیں تو نفرت سے دیکھے جاتے ہیں۔ پھر اپنی سالگرہ کو ہی سال بھر کی خوشی کا تہوار سمجھ کر منا لیتے ہیں۔

میں بحیثیت سپیشل ایجوکیشن ٹیچر سمجھتا ہوں۔ کہ ان لوگوں کو کسی الگ شناخت یا پہچان یا علاحدہ اداروں کی ضرورت نہیں ہے۔ مجموعی شعور اور قبولیت کے ساتھ معیاری صحت کی سہولیات انکی زندگی میں بے حد آسانیاں لا سکتی ہیں۔ والدین کی کاؤنسلنگ اور اساتذہ و علماء کا اس شعور کو عام کرنا انکے ذمے ایک قرض ہے۔۔

جرگہ ممبرترميم

خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا کو پہلی مرتبہ جرگہ ممبر منتخب کر لیا گیا ہے، پشاور سے تعلق رکھنے والے خواجہ سراء ثوبیہ خان کو شہر میں تمام ڈی آر سیز کا ممبر منتخب کیا گیا

گرو کا کردارترميم

خواجہ سرا بچپن میں ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر کسی گرو کے پاس آجاتے ہیں کیونکہ رشتے دار ان سے ہر قسم کا ناطہ توڑ دیتے ہیں مرنے کے بعد بھی ان کی میت کو گھر میں کوئی نہیں دیکھتا ،تمام تر رسومات خواجہ سرا ادا کرتے ہیں

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم