خیسور قبیلہ کوہ سرخ یا جس کو رتہ پہاڑ کہتے ہیں کہ دونوں طرف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے بلکل شمالی کونہ پر آباد ہیں جو عیسٰی خیل تحصیل کے علاقے کنڈل سے ملحقہ ہے خیسور ایک انتہائی چھوٹا سا قبیلہ ہے. جو تاریخ میں کوئی قابل ذکر جگہ بنانے میں ناکام رہا تبھی پشتون تاریخ کے اکثر مؤرخین نے اس کو نظرانداز کیا اور اس کا ذکر تک اپنی کتابوں میں نہیں کیا جبکہ چند ایک جنھوں نے ذکر کیا بھی تو انھوں نے بھی لاپرواہی اور بس خانہ ہُری کرکے جان چھڑائی. خیسور قبیلہ محدود افرادی قوت ہونے کے باوجود ایک انتہائی جری اور دلیر قبیلہ ہے ماضی قریب میں وہ اپنے علاقے کی حفاظت کیلئے اپنے پڑوسی قبائل بلخصوص بلچ اور مروتوں کے ساتھ حالت جنگ میں رہا اور کئی لڑائیاں لڑیں جن کا مختصراً ذکر گزٹیر آف ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہے. میرے پاس موجود کتابوں میں سب سے پرانا ذکر خیسور قبیلہ کا حیات افغانی میں ملتا ہے. حیات افغانی کے مطابق خیسور خود تو لودھی قبیلہ سے تعلق کے دعویدار ہیں لیکن انکا کہیں سے مستند شجرہ نہیں ملا جو ان کے اس دعویٰ کی تائید کرتا ہو. اس کے علاوہ حیات افغانی کا مصنف لکھتا ہے کہ انکے قد کاٹھ اور جسمانی وضع قطع پٹھانوں جیسی نہیں ہے. جبکہ انکی بڑی شاخ عمر خیل ہے. اس کے بعد اگلا بیان ہمیں چرن جیت لعل کی کتاب تاریخ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتا ہے مگر وہ بھی اپنے پیشرو حیات افغانی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے لودھی ہونے پر شکوک کا اظہار کرتا ہے. اور انھیں سروانی قبیلہ کی شاخ بتلاتا ہے. مسٹر ٹکر گزٹیر آف ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی یہی بات دہراتے نظر آتے ہیں کہ ان ماخذ نامعلوم ہے شاید یہ لودھی پشتونوں کے ساتھ آئے ہوں لیکن انھیں خالص پٹھانوں میں شمار نہیں کیا جاتا. درج بالا تینوں مؤرخین نے بذات خود خیسور علاقے میں کبھی قدم بھی نہ رکھا ہوگا. یقیناً ان لوگوں کو خیسور قبیلہ سے مخالفت رکھنے والے افراد نے گمراہ کن معلومات دی ہیں. ان بیانات کی نفی پشتون تاریخ پر سند کی حیثیت رکھنے والے میجر رواٹی اپنی کتاب نوٹس آن افغانستان میں کرتے ہیں. جنھوں نے باقاعدہ خیسور قبیلہ کے علاقے کا وزٹ کیا اور انکی معلومات اکھٹی کیں. دوسری تاریخ خورشیدِ جہاں میں گنڈاپور صاحب نے بھی درج بالا افراد کے بیانات کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خیسور پڑانگی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن انکا ہونا مشکوک ہے. گنڈاپور صاحب تو اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تھے مگر انھوں نے بھی خیسوروں کے ساتھ بے اعتنائی کا رویہ رکھ جان چھڑائی. میجر ریوارٹی کے مطابق خیسور پڑانگی لودھی کی شاخ ہیں. انکے مطابق پڑانگی کے نو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام خاص یار خان تھا جو رفتہ رفتہ بگڑ کر مختصراً خیسور ہوگیا.. میجر ریوارٹی نے حیات افغانی کے مصنف حیات خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پشتونوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں اور ان کے علم کی یہ حالت ہے کہ وہ افغان اور پٹھان کو دو الگ الگ اقوام سمجھتے ہیں. انھوں نے ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جو خیسوروں کو لوہانی کی شاخ بتاتے ہیں. انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سروے کے مطابق تو خیسوروں کی تعداد چھ تا سات ہزار درج ہے لیکن درحقیقت خیسور پھر بھی کمزور قبیلہ ہے. ہمارے عزیزم جناب محترم اقبال خان نیازی صاحب نے بھی خیسور کو تتور قبیلہ کی ذیلی شاخ لکھ کر لوہانیوں میں شامل کر دیتے ہیں. جس کو ڈیڑھ سو سال پہلے ہی میجر ریوارٹی غلط کہہ چکے ہیں جبکہ عمر خیل قبیلہ کو شیر علی خان بنوچی کے شجرہ کے توسط سے نیازی لکھ دیتے ہیں. ویسے شیر علی خان بنوچی کی کتاب میں مجھے ایسا کوئی حوالہ نہیں ملا. مسٹر ٹکر عمر خیل اور ملی خیل کا بیان خیسور سے جدا کرکے لکھتا ہے یعنی اس کے مطابق یہ دونوں خیسور کی شاخیں نہیں ہیں. اور یہ بات درست ہے کہ ملی خیل، عمر خیل اور لکی مروت چھوڑ جانے والے خان خیل خیسور نہیں ہیں. بلکہ وہ کس پشتون شاخ سے ہیں معلوم نہیں لیکن جناب امان اللہ خان بلچ صاحب جو کہ موجودہ دور میں پنیالہ و گردونواح کی پشتون تاریخ پر عمیق نظر رکھتے ہیں انکے مطابق یہ تینوں یعنی عمر خیل، ملی خیل اور خان خیل پڑنگی لودھیوں کی شاخیں ہیں جو اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں. پس ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خیسور نا صرف کھرے پٹھان ہیں بلکہ پڑانگی لودھی کی شاخ ہیں. چونکہ وہ ایسے علاقے میں ا کر آباد ہوئے جو کسی زمانے میں جٹ و بلوچ اقوام کا تھا جن کی تعداد آج بھی زیادہ ہے تو ان اقوم سے رشتہ براری کے سبب انکی شکل و شباہت میں کچھ فرق آگیا جس کا ذکر حیات افغانی نے کیا ہے. جبکہ زبان تبدیلی قدرتی عمل ہے جس کے متاثرین میں ہم نیازی بھی شامل ہیں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے گنڈاپور، کٹی خیل، دولت خیل، میاں خیل بھی بیک وقت پشتو اور سرائیکی بولتے ہیں جوکہ معاشرے کی ضرورت ہے. بہرحال چرن جیت لعل کے مطابق شروع شروع میں خیسور ٹانک میں رہتے تھے. جب ہمایوں بادشاہ تخت دہلی کے ہندوستان واپس آیا تو اس نے پڑنگی لودھیوں پر غصہ نکالنے کیلئے لوہانیوں کو ابھارا. جس کی وجہ سے دیگر پڑانگی لودھیوں کے ساتھ خیسور بھی ٹانک سے نکل کر موجودہ موضعات رحمانی خیل وغیرہ کے قریب سکونت اختیار کی. بعد میں دیگر لودھی شاخوں کے ساتھ ملکر جٹ اقوام کو یہاں سے بیدخل کرکے قبضہ کرلیا. جبکہ خان خیل پٹھانوں کے علاقوں پر عیسٰی خیل نیازیوں کی مدد سے چڑھائی کرکے قبضہ کیا اور انھیں یہاں سے بیدخل کیا. خیسور قبیلہ کے لوگ بھی پانی پت کی لڑائی میں شامل ہوئے تھے. جب زمان شاہ درانی میں ایک مخصوص رقم کی ادائیگی کے عوض سوار فراہم کرنا موقوف ہوا. قادر داد خان گنڈاپور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب عیسٰی خیل نیازیوں کا سکھوں سے تنازعہ چل رہا تھا تو لکھی مل جو کہ اس وقت یہاں کا سکھ نمائندہ تھا کی اعانت سے حسن خان خیسور کو عیسٰی خیلوں سے جبری لگان وصولی کا حکم دیا گیا.[1]

حوالہ جاتترميم

  1. اس آرٹیکل کو ترتیب دینے میں جناب محترم سر امان اللہ خان بلچ صاحب نے خصوصی تعاون اور راہنمائی فرمائی. جس پر ہم انکے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں.. تحقیق و تحریر؛ نیازی پٹھان قبیلہ Www.niazitribe.org