قنوت اصطلاح میں، نماز کے اندر قیام کی مخصوص حالت میں دعا کرنے کو کہا جاتا ہے، سنت یہ ہے کہ دعائے قنوت صرف وتر اور پنجگانہ نمازوں میں ہی پڑھی جائے، پنجگانہ نمازوں میں دعائے قنوت مخصوص حالات (جب مسلمانوں پر عام مصیبت آ جائے) میں ہی پڑھی جائے گی۔ اور وتر میں دعائے قنوت عام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخصوص حالات کی قید نہیں لگائی ہے، اس لیے ہمیشہ تمام حالتوں میں پڑھی جا سکتی ہے۔

لغوی معنیترميم

قنوت کے لغت میں کئی معانی آتے ہیں، بات کرنے سے رک جانا، نماز میں دعا کرنا، عبودیت میں خشوع و خضوع اختیار کرنا، اطاعت و فرماں برداری کرنا وغیرہ، اسی طرح کھڑے ہونے کا بھی معنی دیتا ہے، قیام لمبا کرنا کرنا۔ قنوت سے متعدد معانی مراد ہوتے ہیں، اطاعت، خشوع،نماز، دعا، عبادت، قیام، طول قیام، سکوت وغیرہ۔

دعا قنوتترميم

اَللَّهُمَّ إنا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ وَنُثْنِئْ عَلَيْكَ الخَيْرَ وَنَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ ئَّفْجُرُكَ اَللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّئ وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعأئ وَنَحْفِدُ وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشآئ عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالكُفَّارِ مُلْحَقٌ۔

الہی ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور تجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور تجھ پر بھروسا کرتے ہیں اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری نا شکری نہیں کرتےاور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس سخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔

اہل سنتترميم

حنفی

حنفی کے نزدیک صرف وتر میں قنوت پڑھا جائے گا۔ مخصوص حالات میں دیگر نمازوں میں بھی پڑھا جا سکتا ہے، اس صورت میں امام زور سے قنوت پڑھے اور مقتدی آمین کہے گا۔ منفرد نہیں پڑھ سکتا۔[1]

مالکی

مالکی کے نزدیک صرف فجر میں قنوت ہے۔ وتر وغیرہ میں قنوت نہیں ہے۔[1]

شافعی

شافعی کے نزدیک وتر میں قنوت صرف رمضان میں ہے، رمضان کے علاوہ صرف فجر میں قنوت پڑھا جائے گا۔ فجر کے علاوہ بقیہ نمازوں میں مخصوص حالتوں میں پڑھا جائے گا۔[1]

حنبلی

حنبلی کے نزدیک صرف وتر میں قنوت پڑھا جائے گا، خاص حالات میں وتر کے علاوہ نمازوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ جمعہ میں نہیں پڑھا جا سکتا۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت "ما رأي المذاهب الأربعة في القنوت؟ - محمد بن صالح العثيمين". ar.islamway.net.