وتر طاق کوکہتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں عشاء کی نماز میں فرائض اور سنتوں کے بعد وتر کی نماز پڑھی جاتی ہے۔

فقہ حنفی

ترمیم

نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدئہ اولیٰ واجب ہے۔ یونہی ہر رکعت میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب ہے۔ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہو، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے اور تیسری رکعت میں قرات سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں، پھر ہاتھ باندھ لے ور دعائے قنوت آہستہ پڑھے، اس میں امام مقتدی اور منفرد سب کا حکم یکساں ہے اور دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے۔

دلیل ِحدیث

حدیث نبوی ﷺ سے وتر نماز کا وجوب ثابت ہے۔ عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تم پر ایک اور نماز کا اضافہ کیا ہے، اور وہ وتر ہے، اس لیے اس کی حفاظت کرو۔ (متفق علیہ؛ ابوداؤد، نسائی)
  • کتاب الصلاة : بدایة المجتهد و نهایة المقتصد

مزید دیکھیے

ترمیم