جب افراد یا کمپنیاں یہ دیکھتی ہیں کہ وہ اپنے قرضہ جات کی ادائیگی سے قاصر ہیں تو قانون درمیان میں آجاتا ہے اور خود قرض دار یا اس کے قرض خواہوں میں سے کوئی ایک عدالت میں دیوالیہ ہونے کی درخواست دے دیتا ہے اور سول جج وصولیابی کا حکم صادر کر دیتا ہے۔ اس کی رو سے ایک افسر Reciever مقروض کی جائداد اپنے اختیار میں لے لیتا ہے۔ قرض دار اپنے حالات کے متعلق بیان حلفی دیتا ہے اور اس کے معاملات کی باقاعدہ جانچ پڑتال شروع ہو جاتی ہے۔ قرض خواہ اجلا منعقد کرکے مقروض کو اس میں بلاتے ہیں۔ اس میں سمجھوتے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ ادائی قرض کا راضی نامہ منظورکرا لیا جاتاہے۔ راضی نامے کی صورت میں قرض دار اقرار کر لیتا ہے کہ وہ مثال کے طور ر روپے میں پندرہ آنے یا بارہ آنے اپنے قرض خواہوں کو ادا کر دے گا۔ جسے یہ لوگ منظور کر لیتے ہیں۔ البتہ راضی نامہ نہ ہونے کی صورت میں عدالت قرض دار کو ازروئے قانون دیوالیہ قرار دے دیتی ہے۔ اور قرض خواہ اس کی جائداد کے لیے کسی شخص کو متولی مقرر کرتے ہیں۔ دیوالیہ متولی کو تمام جائداد سے آگاہ کرتا ہے متولی حساب کتاب کا جائزہ لیتا ہے۔ حساب میں دھوکے بازی سے اور جائداد کو فروخت کرکے قرض خواہوں کے مطالبات جس حد تک پورے کیے جا سکتے ہوں، پورے کرتا ہے۔ ایسے مقروض کو دیوالیہ کہا جاتا ہے۔

وجہ تسمیہ ترميم

قدیم ہندؤوں میں کوئی بیوپاری اگر کنگال ہو جاتا اور اپنے قرض ادا نہ کرسکتا تو وہ اپنے دکان کے آگے ایک دن صبح سویرے دو دیے جلا کر رکھ دیتا جس سے دوسرے بیوپاری اور لوگ سمجھ جاتے کہ یہ شخص کنگال ہو چکا ہے ہمدردی کے تحت دوسرے بیوپاری چند دن اپنے دکانیں بند کر لیتے تاکہ گاہک ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی نقد امداد بھی کرد یتے تھے ۔۔

لفظ دیوالیہ دو دبے سے ہی نکلا ہے (دو دیوں والا) چنیوٹ صرافہ بازار میں دیے رکھنے کے نشانات آج بھی پرانے دکانوں میں موجود ہیں۔۔۔ منقول

حوالہ جات ترميم