راہب (جمع رہبان) اس عبادت گزار کو کہتے ہیں جو دنیا کے ہنگاموں سے الگ تھلگ خانقاہوں اور حجروں میں مصروف ذکر و فکر رہتا ہے۔

اس سے فعل رھب اللہ یرھبہ ہے یعنی وہ اللہ سے ڈرا۔ رھبا ورھبا ورھبۃ الرھبانیہ والترھب، گرجا میں عبادت کرنا۔ جو لوگ تارک دنیا ہو کر جنگلوں میں گرجے بنالیتے تھے اور وہیں زندگی گزارتے تھے انہیں راہب کہا جاتا تھا۔الرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو۔

دیگر ادیان میںترميم

یہود اپنے مذہبی راہنماؤں کو ”ربی“ اور ” احبار “ کہتے تھے اور جبکہ مسیحی قسیس اور راہب کے الفاظ سے ان کو یاد کرتے تھے ۔ یہ الفاظ اہل کتاب ہی کی وساطت سے عربی زبان میں آئے اور قرآن کریم نے بھی ان کو انہی ناموں سے یاد کیا جو خود استعمال کرتے تھے۔[1] پہاڑوں کے غاروں یا دریا کے کنارے یا صحراؤں کی خانقاہوں میں جا بیٹھتے ہیں اور تمام لذات دنیا سے دشت کش ہوجاتے ہیں۔

اسلام میںترميم

اسلام نے اس رہبانیت اور قطع تعلق کی اجازت نہیں دی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے۔[2][3]بعض مسلمانوں نے بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ لذیذ کھانا چھوڑ دیا تھا۔ لوگوں سے ملنا جلنا ترک کردیا تھا یہاں تک کہ اپنی ازواج سے ہم بستری بھی نہیں کرتے تھے۔ جب حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلا کر فرمایا ، ایسا ہرگز نہ کرو ، خدا ایسی زندگی کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ [حوالہ درکار]

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر عروۃ الوثقی،عبدلکریم اثری،المائدہ 83
  2. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 18 : 87
  3. فتح الباری، 9 : 111