ریحانہ جباری ایک ایرانی خاتون تھی۔ وہ بین الاقوامی سرخیوں میں اس وقت آگئ تھی جب اس نے ایرانی انٹلی جنس اہل کار مرتضٰی سربندی کا 2007ء میں قتل کر دیا تھا۔

مقدمہ

ترمیم

ریحانہ جباری پر مقدمہ سات سال تک چلتا رہا۔ اس کا دعوٰی تھا کہ سربندی اس کی عزت لوٹنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے یہ اقدام قتل اٹھایا۔ تاہم ایرانی عدالت نے اس کی دلیلوں خارج کر دیا۔ اس کے بعد 25 اکتوبر 2014ء کو اسے پھانسی دے دی گئی تھی۔

آخری خواہش

ترمیم

ریحانہ نے مرنے سے پہلے خواہش کی کہ اس کے جسم کے اعضاء کا عطیہ دیا جائے۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. "منی لانڈرنگ کی دوسری بڑی ہیرا پھیری پکڑی گئی – Daily Qudrat"۔ 20 دسمبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2014