سام وید تیسرا وید ہے جو ایک ہزار آٹھ سو دس اشعار پر مشتمل ہے، اس میں شیریں نغمے اور دُھنیں شامل ہیں، اس وید کے تمام منتر گائے جانے والے ہیں، قربانی کے موقع پر ان منتروں مناسب آواز یا راگ میں گا کر مخصوص یا مطلوب دیوتا کو بلایا جاتا ہے۔ اس کے راگ یا گیت دیکھتے ہوئے نہرو نے کہا ہے کہ ”اس وید کو ہندوستانی موسیقی کی قدیم ترین مصدر و ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔“[1][2]

قربانی کی اہمیت کے پیش نظر ان منتروں کو علاحدہ طور پر نظم و ترتیب کا جامہ پہنایا گیا ہے، زیادہ تر اشعار اندر دیوتا کی تعریف میں لکھے گئے ہیں، مخصوص موقعوں پر پڑھنے کی وجہ سے ان کو الگ کر لیا گیا ہے۔ ان کو پڑھنے کے لیے الگ سے پروہت ہوتا جسے اوگاتر کہتے ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. سہ روزہ دعوت کی خصوصی پیش کش، ہندوستانی مذاہب ص 29
  2. پروفیسر توقیر عالم ”عظیم ہندوستانی مذاہب“، ص 27، ایس۔ کے۔ انٹرپرائزز علی گڑھ