سَبکِ عراقی  فارسی اشعار کہنے کا ایک خاص اسلوب ہے۔ سبک عراقی کا آغاز چھٹی صدی ہجری کے اواخر سے ہوا اور نویں صدی ہجری تک یہ اسلوب رائج رہا۔ اس سبک (اسلوب) کا  نام، عجمی عراق  کی وجہ سے سبک عراقی پڑا۔ لیکن یہ سبک صرف عجمی عراق تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے نواح میں بھی اس کا اثر پڑا۔  ابوالفرج رونی، سید حسن غزنوی و جمال الدین اصفهانی  اس سبک کے بنیاد گر تھے۔ اور  کمال الدین اصفهانی، سعدی، عراقی و حافظ  سبک عراقی کے نمائندہ شاعر ہیں۔

خصوصیات سبکترميم

  •  سبک عراقی اور سبک خراسانی  میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس میں عربی الفاظ کا استعمال بہت زیادہ ہے۔
  • اس سبک میں سادگی، سلاست، آہنگ اور استحکام اہم جزو ہیں۔ عرفانی، متصوفانہ اور اخلاقی مضامین کی کثرت ہے۔
  • اس سبک میں فکری و فلسفیانہ مضامین زیادہ ہیں۔ اور غزل اس سبک کا اہم حوالہ ہے۔

حوالہ جاتترميم

  • بهار، محمدتقی۔ سبک شناسی، چاپ دوم، تهران، 1337
  • بهار، محمدتقی۔ تاریخ تطور شعر فارسی، تهران، 1334
  • سعدی، مطلح ابن عبد الله. گلستان، 1384
  • شمیسا، سیروس۔ سبک شناسی، چاپ نهم، تهران، 1382