ستی راولپنڈی میں پہاڑی قبائل میں سب سے بڑا اور اہم ترین قبیلہ ہے۔
ستی مری تحصیل میں پہاڑیوں پر دھوندوں کے جنوب میں آباد ہیں اور کہوٹہ تحصیل کے شمال مغربی کونے میں بھی ہیں غالبا ان کا ماخذ دھوندوں والا ہی ہے جو انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں دونوں کی جسمانی خصوصیات ایک جیسی ہیں وہ اچھے سپاہی بنتے ہیں ستیوں کے بارے میں دھوند کا کہنا ہے کہ ایک دھوند کلو رائے نے ایک غلام لڑکی سے شادی کی اور ستی اسی کی اولاد ہیں ہیں اس لڑکی کا بیٹا نرار پہاڑ کے دامن میں پیدا ہوا ماں باپ راستہ بھول کر اسے بھی کھو بیٹھے تین روز بعد وہ ایک برہمن کو مل گیا جس نے اسے ست قرار دیا بلا شبہ ستی سلسلہ نسب کو پسند نہیں کرتے اور بالعموم انہیں ساہو یا gentle تسلیم کیا جاتا ہے خلوص اور دیگر کرداری خصوصیات میں وہ دھوندوں سے برتر ہیں ان میں قبائلی احساسات قوی ہیں اور اپنے سرداروں کی زیادہ قدر کرتے ہیں کریکفورٹ کے مطابق وہ نوشیروان کی اولاد ہونے کے دعوے دار ہیں غالبا اس کا مقصد خود کو ایرانی النسل بتانا ہے [1]

حوالہ جاتترميم

  1. ذاتوں کا انسائیکلو پیڈیا، ایچ ڈی میکلگن/ایچ اے روز(مترجم یاسر جواد)، صفحہ 257،بک ہوم لاہور پاکستان