سر کو ہونے والے درد کو دردِ سر یا سردرد کہتے ہیں۔ کبھی کبھی گردن یا پیٹھ کے اوپر ہونے والا درد بھی سردرد میں شمار ہوتا ہے۔ سر درد سب سے زیادہ ہونے والی تکلیف ہے۔ عام طور پر سردرد کی کوئی سنجیدہ وجہ نہیں ہوتی۔ لیکن کبھی کبھار سردرد مہلک بیماریوں کا بھی سبب ہو سکتا ہے۔ اس مرض میں سر کے اعضاء میں درد اور الم ہوتا ہے اور مریض مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے۔ سر درد کی مختلف اقسام ہیں جن میں یہ قابل ذکر ہیں:

Migraine.jpg
Woman with a headache
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
خاصیتاعصابیات
آئی سی ڈی-10G43.-G44., R51.
آئی سی ڈی-9339, 784.0
بنیادی معلومات19825
میڈ لائین پلس003024
ای میڈیسنneuro/517 neuro/70
پیشنٹ یو کےسر درد
عنواناتD006261

صداع حارساذجترميم

اِس میں بغیر کسی مادہ کے محض حرارت پہنچنے یا تفرقِ اتصال سے سر درد پیدا ہوتا ہے۔ اِس کی علامت یہ ہے کہ سر کی جلد چھونے سے گرم محسوس ہوتی ہے، پیاس کا غلبہ ہوتا ہے، منہ اور نتھنے خشک ہوتے ہیں۔ سرد اشیاء کے استعمال یا سرد تدابیر سے سکون ملتا ہے۔ گرم دواؤں کے استعمال سے اضطراب اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ فہم و عقل متاثر ہوتی ہے۔ نیند کم ہوجاتی ہے اور حواس میں کسی قدر تکدر پیدا ہوجاتا ہے۔

صداع بارد ساذجترميم

اِس قسم میں کسی مادہ کے بغیر محض برودت سے درد سر پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس میں کسی حد تک انسان مخبوط الحواس بھی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے درد سر کی اِس قسم کو "خبط" بھی کہتے ہیں۔ اِس میں سر کی جلد چھونے سے سرد یعنی ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔ حواس میں تکدر، پراگندگی اور سستی ہوتی ہے۔ درد عام طور پر سر کے پچھلے حصہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ سرد تدابیر و اغذیہ کے استعمال سے روائیداد ملتی ہے اور گرم تدابیر و ادویہ سے سکون ملتا ہے۔

صداع دمویترميم

اِس قسم میں عروق دماغیہ خون سے پُر ہوجاتی ہیں اور مرضی عوارض کا سبب بن جاتی ہیں۔ علامات یہ ہیں کہ:  چہرہ اور آنکھوں میں سرخی پیدا ہوتی ہے، پپوٹوں میں تہج ہوتا ہے۔ سر میں شدید گرانی، تمام سر میں خفیف یا شدید نوعیت کا درد ہوتا ہے۔ یہ درد عام طور پر گدی یعنی سر کے انتہائی عقبی جانب کے زیریں حصہ میں یا پیشانی میں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اِس میں نبض عموماً سریع ہوتی ہے۔ مریض پر نیند کا غلبہ بہت ہوتا ہے تاہم مریض گہری نیند نہیں سوسکتا بلکہ غنودگی سے مشابہہ ایک کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اِس میں پیشاپ غلیظ ہوتا ہے۔ نازک مزاج افراد اور دماغی مشاغل والے لوگوں اور رنج و غم کی صورت میں شریانوں کی تڑپ میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ کانوں میں مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں جبکہ ضعف اور رِقت کی صورت میں چہرہ زرد پڑجاتا ہے۔ ہونٹ پھیکے، بے رونق اور اطراف سرد محسوس ہوتے ہیں۔ خفقان کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ کنپٹیوں کی شریانیں زیادہ درد سے متاثر ہوتی ہیں۔

مزید دیکھیےترميم