ہندو مت میں دنیا کو ترک کرنے اور بری عادتوں کو چھوڑ کر جوگ اور فقیری اپنانے کو سنیاس کہا جاتا ہے۔ اور اس عمل کو کرنے والے مرد کو سنیاسی اور عورت کو سنیاسنی یا سنیاسن کہا جاتا ہے

شخص جو قدرتی جڑی بوٹیوں کے مرکب سے نسخہ جات بنا کر لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے یا مختلف دھاتوں کو کشتہ کر کے علاج کرتا ہے، سنیاسی کہلاتا ہے اور اس طریقہ علاج کو سنیاس کہتے ہیں۔ سنیاس کے علم کے لیے کسی مذہب یا زبان کی کوئی قید نہیں، یہ علم برصیغر پاک و ہند میں بہت مقبول ہے۔ جہاں تک سنیاسی نسخہ جات کی افادیت کی بات ہے تو انتہائی زوداثر اور بہت ہی خطرناک بیماریوں کی شفایابی کا باعث بنتے ہیں، اگر وہ نسخہ کسی حقیقی سنیاسی کا ہی ہو، کیونکہ سنیاس ایک انتہائی کٹھن شعبہ طب جس میں سنیاسی کی زندگی بوٹیوں کی تلاش اور تجربات میں جنگلوں بیابانوں اور ویرانوں میں گزرتی ہے، مگر اب یہ عظیم فن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آپ میں کسی کے پاس کوئی سنیاسی مستند نسخہ ہو تو آپ اس کو یہاں ضرور شیئر کریں تاکہ کسی کی فلاح ہو سکے۔

گرو اور چیلا:

کوئی بھی نو آموز بذات خود سنیاسی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ کسی سنیاسی کی شاگردی اختیار نہ کرلے۔ پرانے بوڑھے تجربہ کار سنیاسی کا چیلا بننے کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، چیلا اپنے گرو کی سیوا کرتا ہے اور اس کا ہر حکم بلا چوں و چرا بجا لانے کا پابند ہوتا ہے۔ چیلا گرو کے ساتھ رہ کر گرو کی کہی اور کری ایک ایک بات کو پلو سے باندھتا رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنیاسیوں کو جڑی بوٹیوں اور ٹوٹکوں کے بارے میں کیسے علم ہوتا ہے؟ سنیاسی جنگلوں میں گھومتے ہیں جس سے ان پر فطرت کے کئی راز آشکار ہوتے ہیں

۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم