اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف

سوہانجنا


صورت حال   ویکی ڈیٹا پر (P141) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
! colspan = 2 | حیثیت تحفظ
کم تشویشناک انواع[1]
اسمیاتی درجہ نوع  ویکی ڈیٹا پر (P105) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بندی
جنس: Moringa
نوع: oleifera
سائنسی نام
Moringa oleifera[2]  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Jean-Baptiste de Lamarck ، 1785  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرادفات [3]
* Guilandina moringa L.
  • Hyperanthera moringa (L.) Vahl
  • Moringa pterygosperma Gaertn. nom. illeg.‏
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوہانجنا (انگریزی: Moringa) ’حکیم درخت (ڈاکٹر ٹری)‘ بھی کہا جاتا ہے سوہانجنا کے پتے، پھول، پھلیاں اور شاخیں قدرتی نباتاتی اجزاءکا بیش بہا خزینہ اور انتہائی کارآمد ہیں یہ خودرو ہے اور گھروں کھیتوں میں کاشت بھی کیا جاتا ہے۔ سوہانجنا کا درخت اونچا اور پتے کسی حد تک املی کی شکل کے ہوتے ہیں۔ اس درخت پر چھوٹے اور سفید پھول لگتے ہیں اور سبز رنگ کی لمبی لمبی پھلیاں نکلتی ہیں۔سہانجنا گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے۔ بہاول پور کے علاقے میں خودرو درختوں کے جنگل ہیں۔ اس درخت کی اونچائی 25 تا 40فٹ تک ہوتی ہے۔ پھل اور پھول بکثرت سال میں 2 ۔ 3 دفعہ لگتے ہیں لکڑی نرم و نازک اور پھلیاں تقریباً ً ایک فٹ لمبی اور انگلی کے برابر موٹی ہوتی ہیں۔

اس کادرخت بہت آسانی سے کاشت ہوجاتا ہے اس درخت کی ٹہنی کو توڑ کر زمین میں لگا دیں اور پانی لگا دیں تو خود بخود افزائش شروع کردیتا ہے

سہانجنا بہت مفید چیز ہے اس کے پتوں کو کو چھاؤں میں پیس کر سفوف بنالیں اور کیپسول میں بھر کر صبح نہار منہ پانی کے ساتھ کھانے سے کئی بیماریوں سے شفاءملتی ہے

ں

۔

حوالہ جات ترمیم

  1. بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت ٹیکسن شناخت: https://apiv3.iucnredlist.org/api/v3/taxonredirect/61890232 — اخذ شدہ بتاریخ: 3 جنوری 2023 — عنوان : The IUCN Red List of Threatened Species 2022.2
  2.    "معرف Moringa oleifera دائراۃ المعارف لائف سے ماخوذ"۔ eol.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2024ء 
  3. Olson, M. E. (2010)۔ مدیر: Flora of North America Committee۔ eFlora summary: Moringaceae: Drumstick Family۔ Flora of North America, North of Mexico۔ 7۔ New York and Oxford۔ صفحہ: 167–169