سید احمد بن موسی بن طاووس

سید احمد ابن طاؤوس معروف شیعہ عالم اور محدث سید ابن طاؤوس کے بڑے بھائی ہیں۔ اور شیعہ مسلمانوں کے ہاں بہت ہی محترم شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ سید احمد بن طاوس مجتہد، محدث اور فقیہ تھے۔

نام وپیدائشترميم


سید ابو الفضائل احمد بن سعد الدین ابی ابراہیم موسی ہیں ان کا نسب امیر المومنین علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو الفضائل اور لقب جمال الدین تھا۔ ان کے والد سیدموسی ابن جعفر کے چار بیٹے تھے ابوالفضائل احمد، رضی الدین علی، شرف الدین محمد اور عزا لدین حسن اور آپ سب سے بڑے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ شیخ ورام بن ابی فراس حلی کی دختر تھیں ،آپ کی دادی شیخ الطائفہ شیخ طوسی کی دختر تھیں اس اعتبار سے شیخ طوسی ان کے دادہ بنیں گے ۔

اساتذہترميم


، شیخ نجیب الدین بن بنا، شیخ یحیی بن محمد بن یحیی السوراوی، سید فخار بن معد موسوی، سید احمد بن یوسف بن احمد العریضی العلوی الحسینی، شیخ سعید الدین ابو علی الحسین بن خشرم الطائی۔

شاگردترميم

علامہ حلی حسن بن یوسف، شیخ تقی الدین حسن بن داود الحلی صاحب کتاب الرجال۔[1]

تصانیفترميم

آپ کے شاگرد حسن ابن داود نے ان کی تصانیف کی تعداد 82 بیاسی کے قریب ذکر کی ہے اور سب کتب کے نام ذکر نہیں کیے بلکہ ان میں سے بعض کو ذکر کیا ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں: 1)بشری المحققین ؛فقہ میں (چھہ6 جلدیں ) 2)ملاذ علما الامامیہ ؛ فقہ میں (چار 4 جلدیں) 3)کتاب الکرم ؛ ایک جلد 4)السہم السریع فی تحلیل المدانیہ او المنایعہ مع القرض ؛ ایک جلد 5)الفوائد العدۃ فی اصول الفقہ ؛ ایک جلد 6)الروح فی النقض علی ابن ابی الحدید 7)شواہد القرآن 8)دیوان شعرہ 9)حل الاشکال فی معرفۃ الرجال۔ اس کے علاوہ کتابیں بھی ذکر کی گئی ہیں جیسا کہ اعیان الشیعہ میں محسن امین نے مذکورہ کتب کے علاوہ دیگر کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

سید احمد کے بارے میں علما کے اقوالترميم


سید محسن الامین لکھتے ہیںترميم

آپ مجتہد اور وسیع علم کے مالک تھے۔ علم رجال، ادب، اصول فقہ اور فقہ کے امام تھے۔ آپ اپنے زمانے کے علما وفضلاء میں سے متقی ترین، قوی ترین، ثابت قدم اور عظیم مقام کے حامل افراد میں سے تھے ۔
[2]

صاحب روضۃ الجناتترميم


صاحب روضات الجنات نے آپ کو سید ،جلیل القدر اور فاضل کامل کے اوصاف سے یاد کیا[3]

سید احمد بن طاووس اور علم حدیثترميم


آپ شیعہ امامیہ میں سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اخبار کو چار مشہور اقسام میں تقسیم کیا : صحیح، موثوق، حسن او رضعیف۔ ان کے شاگرد علامہ حلی نے بھی انہیں کی اقتداء کی اور ان کے بعد میں آنے والے حتی کہ آج تک کے علما نے بھی انہیں کی ہی پیروی کی۔ ان کے بعد مجلسی علما کے زمانے میں ان اقسام میں اور اضافہ ہوا حدیث کی معروف اقسام بیان کی گئیں :مرسل، مضمر، معضل، مسلسل، مضطرب، مدلس، مقطوع، موقوف، مقبول، شاذ اور معلق وغیرہ۔ سید حسن صدر اپنی کتاب تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام میں لکھتے ہیں: (للسید ابی الفضائل اثنین وثمانین کتابا فی فنون العلم وھو اول من اخترع تنویع الاخبار الی اقسامھا الاربعۃ الشھورۃ فی الطبقۃ الوسطی، اخذ عن الشیخ نجیب الدین بن نما، والسید الجلیل فخار ابن معد الموسوی وغیرھما من الاجلۃ ۔ علم کے مختلف شعبوں میں سید ابو الفضائل کی 82 کے قریب کتب ہیں آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے شیعوں میں درمیانی طبقہ میں مشہور اخبار کی چار اقسام کو دریافت کیا۔ آپ کے شیوخ میں شیخ نجیب الدین بن نما او رسید فخار ابن معد موسوی اور علاوہ اور بھی شخصیات ہیں )
[4]

نقابت اور آل طاووسترميم


نقابت: علویوں کے امور کو چلانے کے لیے امارت کا عہدہ تھا ان کے امور کو منظم کرنا او رحملے کی صورت میں دفاع کرنا اس عہدے کے سربراہ کی ذمہ داری تھی۔ آل طاووس خاندان کے پہلی شخصیت ابو عبد اللہ محمد ملقب بہ طاووس تھے جو سوراء نامی جگہ کے نقیب بنے جو احمد بن موسی کے اجداد میں سے تھے۔ محمد طاووس سورا نامی جگہ کے نقیب بنے جو حلہ کے قریب بابل کے اطراف میں واقع تھا۔ ان کے بعد خود احمد بن موسی اس شہر کے نقیب بنے۔ پھر ان کے بھتیجے محمد بن عزالدین حسن بن ابی ابراھیم موسی امیر بنے۔

حوالہ جاتترميم

  1. حلی، حسن بن داوود، کتاب الرجال
  2. امین، محسن، اعیان الشیعۃ
  3. خوانساری، سید محمد باقر، روضات الجنات
  4. تاسیس الشیعۃ لعلوم الاسلام، سید حسن الصدر، فصل چہارم، فی التاریخ والسیر ص270