سید شاہ فرید الحق عمادی

قطب عالم سید شاہ فرید الحق عمادیبہار کی مشہور خانقاہ، خانقاہ عمادیہ قلندریہ(منگل تلاب، پٹنہ سیٹی، پٹنہ) کے نویں سجادہ نشیں ہیں۔

ولادتترميم

یکم جمادی الاول 1347ھ بمطابق 16؍اکتوبر 1928ء کو آپ خانقاہ عمادیہ میں متولد ہوئے۔ تاریخی نام محمد نظام الحق اور فرید الحق نام رکھا گیا۔

تعلیمترميم

چار سال کی عمر میں دادا حافظ سید شاہ حبیب الحق قدس سرہٗ نے بسم اللہ خوانی کرائی۔ ابتدائی تعلیم دادا سے حاصل کی۔ عربی وفارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے خالو مولانا شاہ عبد المنان گیاوی سے، متوسطات والدگرامی اور ملک العلما مولانا ظفرالدین قادری عظیم آبادی سے پڑھیں، دار العلوم منظر اسلام، بریلوی شریف سے تکمیل فرما کر 1954ء میں سند فضیلت سے نوازے گئے۔ قرأت و تجوید قاری سردار محمد خاں بیناذہن سے سکھی۔ علوم متداولہ اسلامیہ کے علاوہ علوم فلکیات، ریاضی و علم جفر و غیر ہ جناب امیرالدین صاحب وکیل سے حاصل فرمائے۔ علم رمل و علم تکسیر وعلم نجوم میں مہارت تھی۔ ہومیوپیتھک میڈیکل کالج (پٹنہ) سے ایچ۔ ایم۔ ڈی۔، بی۔ ایچ۔ آئی کی سند حاصل کی۔ نیز بمبئی سے عالم و منشی فاضل کیا۔ تصوف و سلوک کی تعلیم والد گرامی سید شاہ صبیح ا لحق عمادی سے حاصل فرمائی اور آپ سے بیعت ہو کر سلسلہ قلندریہ اور قادریہ قُمیصیہ کی تعلیم حاصل فرمائی اور تمام خاندانی سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔ آپ کو آپ کے والد نے اپنا مجاز کل و خلیفہ مطلق بنایا ۔

سجادہ نشینیترميم

1975ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد آپ سجادۂ عمادیہ پر جلوہ افروز ہوئے۔ سجادگی سے قبل محمڈن اینگلو عربک ہائی اسکول، پٹنہ سیٹی میں عربی مدرس اور ہیڈمولوی تھے۔ آپ نے سجادگی کے ساتھ ہی نوکری سے دستبردار ہو کر فقر و توکل اختیار فرمایا اور سلوک الی اللہ اور خدمت خلق و دعوت الی الحق میں مشغول ہو گئے۔

تصنیفاتترميم

آپ نے تحریری شکل میں کافی کتابیں چھوڑی ہیں۔

* 1۔ حالات فخرالزماں شہاب الدین پیر جگجوت مع حالات مخدوم آدم صوفی، 
* 2۔ سفر آخرت، 
* 3۔ میلادرسول پر اعتراض اور اس کا جواب، 
* 4۔ کب کھڑے ہوں نماز میں، 
* 5۔ عربی کی پہلی،
* 6۔ حزب البحر کلاں (ترتیب)۔ اس کے علاوہ شعر و نظم میں
* 7۔ تنویر حرم،
* 8۔ مناقبات اولیاواصفیا، 
* 9۔ مثنوی گوہر کمال۔ (یہ تمام کتابیں ادارۂ رشیدیہ کے ذریعہ طبع ہو چکی ہیں)

آپ کو تبلیغ و اشاعت کے لیے طباعت و اشاعت کی اہمیت کا بھی احساس تھا۔ آپ نے ایک اشاعتی ادارہ "مکتبۂ رشیدیہ" کے نام سے قائم کیا جس میں اپنی تصنیفات و تالیفات کے علاوہ دیگر کتابوں کی بھی اشاعت عمل میں آئی۔

شعرو شاعریترميم

آپ کو شعر وشاعری کا ذوق خاندانی ورثہ میں ملا تھا۔ خاندان میں ہمہ وقت شعر و ادب کاچرچا رہتا ہے، اس لیے طبیعت خودبخود موزونیت کی طرف راغب تھی مگر فکر کی بلندی اور گہرائی کے اظہار بیان کے نکھار کے لیے مبارک حسین مبارک ؔ عظیم آبادی سے اصلاح لی پھر عبد الحمید حمید شاگرد شاد عظیمؔ آبادی سے اصلاح لی۔

وفاتترميم

17؍مارچ 2001ء بروز سوموار دورہ قلب کے سبب آپ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ دوسرے دن 18؍مارچ کو لعل میاں درگاہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ [1]

حوالہ جاتترميم

  1. انوار الاولیاء ،حسیب اللہ مختار،صفحہ 150،بساط ادب کراچی پاکستان 2000ء