سید ظہور شاہ قادری

پیر سید ظہور شاہ قادری مجمع جمال صوری و معنوی صاحب کمال ظاہری و باطنی عارف حق مردخدا تھے۔

ولادتترميم

مولانا پیر سید ظہور شاہ 1309ھ بمطابق 1838ء میں مولانا پیر سید امیر شاہ قادری کے گھر جلالپور جٹاں ضلع گجرات میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی۔ آپ کے جد امجد کشمیر سے ہجرت مکانی کر کے جلال پور شریف میں تشریف لے آئے تھے۔

تعلیم و تربیتترميم

آپ جب سن شعور کو پہنچے تو قرآن پاک مولانا حافظ نور الدین سے پڑھا اور کچھ درسی کتابیں بھی انہی سے پڑھیں۔ بعد ازاں کچھ عرصہ اپنے برادر مکرم جناب مولانا پیر سید محمد اعظم شاہ کے پاس جموں کشمیر جا کر پڑھتے رہے اس کے بعد کچھ عرصہ تک پشاور اور بعد ازاں بریلی شریف جا کر اکتساب فیض کیا اور سند فراغت حاصل کی۔

بیعت و خلافتترميم

ظاہری اور علوم دینیہ کی تکمیل کے بعد آپ اپنے والد مولانا سیدمحمد امیر شاہ قادری کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور مجاہدہ و ریاضت اور سلوک کی منزلیں طے کرانے کے بعد آپ کے مرشد اور والد مولانا پیر سید امیر شاہ قادری نے آپ کوخرقہ خلافت سے نوازا اور اجازت بیعت دی اس کے علاوہ آپ نے میاں شیرمحمد شرقپوری سے بھی استفادہ کیا۔

سیرت و کردارترميم

آپ اپنے دور کے مقبول ترین مقرر وخطیب تھے۔ آپ جہاں کہیں بھی خطاب فرمانے کے لیے تشریف لے جاتے ہزاروں کی تعداد میں سامعین آپ کی تقریر سننے کے لیے پہنچ جاتے۔ آپ خدا پاک کی دی ہوئی نعمت خوش الحانی سے جب تقریر فرماتے تو مجمع میں سحر طاری ہو جاتا۔ آپ اپنے خطاب کے اندر عوام الناس کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی اصلاح بھر پور طریقے سے فرماتے اور اس دوران میں کلمہ طیبہ کا ذکر بھی کراتے۔ جس کا حاضرین کے دل پر گہرا اثر پڑتا اور بہت سے لوگ راہ راست پر آجاتے۔ آپ کو زور بیان کے ساتھ ساتھ حسن سیرت وصورت کا حصہ وافر عطا فرمایا تھا۔ آپ نے خطابات میں مسلک اہل سنت کی حقانیت کو بڑے مدلل طریقے سے بیان فرماتے تھے اور عقائد باطلہ کا رد بڑی خوبصورتی سے فرماتے تھے آپ شریعت مطہرہ پر بڑی ہی پابندی سے عمل کرتے تھے اگر کوئی شخص آپ کے سامنے خلاف شریعت کام کرتا تو آپ سختی سے منع فرمادیتے تھے۔

شعروشاعریترميم

آپ ایک کامیاب مقرر اور بہترین خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے بہترین شاعر بھی تھے۔ آپ کے کلام میں بلا کا اثر تھا آپ کے منظوم کلام کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ دیہاتی عورتیں دودھ پلاتی اور آٹا پیستی ہوئیں آپ کے اشعار پڑھا کرتی تھیں۔

تصنیف و تالیفترميم

آپ نے واعظ تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی نہایت خوش اسلوبی سے جاری رکھا اور عوام اہل سنت کے لیے نہایت مفید و مقبول عام تصانیف کا ذخیرہ بطور یادگار چھوڑا۔ جن میں اصلاح اعمال کے علاوہ عقائد باطلہ خاص طور پر مرزائیت اور اہل تشیع کی مدلل طریقہ سے تردید کی ہے۔ آپ کی چندشہرہ آفاق تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔

  • ظہور صداقت در ردمرزائیت،
  • قهر یزدانی بر سر دجال قادیانی،
  • نور ہدایت،
  • ظہور ہدایت،
  • شمشیر پیر برگردن شرير،
  • وظائف حضوری،
  • چرخہ ظہوری،
  • خطبات ظہوری،
  • سیف مرید برفرقہ یزید
  • صمصام حنفیہ،
  • سیف الخادمين على رؤوس الفاسقین،
  • مرغوب الواعظین المعروف بمحبوب العاشقین،
  • ظہور کرامت۔

اولاد و امجادترميم

آپ کی چار بیٹیاں اور چار بیٹے سید قمرالزمان شاہ، سید فخرالزمان شاہ، سید محبوب زماں شاہ اور سید خالد مسعود شاہ ہیں جن میں سیدفخر الزماں شاہ آپکے سجادہ نشین ہیں۔

وفاتترميم

آپ کا وصال با کمال 22 جمادی الاول 8 فروری 1953ء اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہوا۔ آپ کا مزار منارہ ضلع چکوال میں مرجع خاص و عام ہے [1]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوارصفحہ 556 صاحبزادہ مقصود احمد صابری، ہاشمی پبلیکیشنز راولپنڈی