احمد شوقی ضیف ( (عربی: أحمد شوقي ضيف)‏؛ 13 جنوری 1910 – مارچ 13، 2005) ایک عربی ادبی نقاد اور مورخ تھے۔ ان کا شمار 20ویں صدی کے سب سے بااثر عرب دانشوروں میں ہوتا ہے۔ [8]

شوقی ضیف
معلومات شخصیت
پیدائش 13 جنوری 1910[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمیاط[4]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 مارچ 2005 (95 سال)[1][5][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر[6]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
صدر   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1996  – 2005 
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ادیب،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[7]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ضیف شمالی مصر کے گاؤں ام حمام میں 1910ء میں پیدا ہوئے تھے [8] انہوں نے اپنی بی اے اور پی ایچ ڈی فواد الاول یونیورسٹی سے حاصل کی، [8] جو بعد میں قاہرہ یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد ازاں وہ کئی دہائیوں تک اپنے مادر علمی میں عربی ادب کے استاد رہے۔ [8] وہ مصری اکیڈمی آف سائنسز کے رکن تھے اور چند سال قاہرہ میں عربی زبان کی اکیڈمی کے صدر کے عہدہ پر فائز بھی رہے۔ [8]

تخلیقاتترميم

وراثتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12550027c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ایس یو ڈی او سی اتھارٹیز: https://www.idref.fr/034782451 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جنوری 2022 — عنوان : Identifiants et Référentiels
  3. ^ ا ب General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/19765 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جنوری 2022
  4. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12550027c — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جنوری 2022 — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n83051312 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جنوری 2022 — ناشر: کتب خانہ کانگریس
  6. BnF catalogue général — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12550027c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  8. ^ ا ب پ ت ٹ Professor Ahmad Shawqi Daif at the King Faisal International Prize website.