شکاری قرضوں predatory lending سے مراد ایسے قرضے ہیں جو دھوکا دینے کی نیت سے دیے جاتے ہیں اور قرض دیتے وقت ہی طے ہونے والی شرائط بد دیانتی پر مبنی ہوتی ہیں۔ امریکا میں شکاری قرضوں کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں ہے۔ کم پڑھے لکھے لوگ ،غریب افراد، اقلیتی طبقے اور عمر رسیدہ لوگ زیادہ تر اس کا شکار ہوتے ہیں۔

ان شکاری قرضوں کے لیے کوئی چیز رہن (گروی) رکھی جاتی ہے مثلاً کار یا مکان۔ قرض دینے والے ادارے یہ اچھی طرح جانتے ہوئے بھی کہ قرض لینے والا یہ قرض ادا نہیں کر سکے گا اسے قرض دے دیتے ہیں۔ جب مقروض بروقت قسطیں ادا نہیں کر سکتا تو گروی شدہ چیز کو بیچ کر قرض دہندہ بینک یا کمپنی اپنا تو منافع حاصل کر لیتی ہے جبکہ قرض لینے والا اکثر کنگال ہو جاتا ہے۔ شکاری قرضوں میں پھنسانے کے بے شمار طریقے ہیں مثلاً قرض کی شرائط کو غیر واضح رکھنا یا چھپانا، شرح سود کو نہایت مناسب بتانا، خفیہ معاوضوں کو بعد میں ظاہر کر کے انکا مطالبہ کرنا، دستاویزات میں ردو بدل کرنا وغیرہ۔* امریکا کے مشہور بنک HSBC Finance پر شکاری قرضے دینے کا الزام لگایاگیا تھا جس کے بعد اس مالیاتی ادارے نے اپنی پالیسیوں میں کچھ تبدیلی کی۔ * امریکہ میں sub-prime mortgages اسکینڈل میں ایسے لوگوں کو قرض پر مکانات دیے گیئے جن کے بارے میں قرض دینے والوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا قرضہ نہیں چکا سکتے۔ * Ameriquest Mortgage نامی ایک ادارے پر جب یہ ثابت ہو گیا کہ اسنے دھوکا دہی سے کام لیتے ہوئے قرض خواہوں کو شکاری قرضوں میں پھنسایا ہے تو اس کمپنی نے 32.5 کروڑ ڈالر ہرجانہ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

آئی ایم ایف

ترمیم

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے قرضے ایسی شرائط سے وابستہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے قرض لینے والے ممالک کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور ان ممالک میں غربت بڑھ جاتی ہے۔ 1991 میں جون پلگر نامی ایک جرنلسٹ نے اپنی ڈوکومنٹری "جنگ کے دوسرے طریقے" میں بتایا کہ

“Remember Live Aid in 1985, that symbol of concern and generosity? Did you know that during that year, the hungriest countries in Africa gave twice as much money to us in the developed world as we gave to them? There was another famine last year. Perhaps you are one of those who took part in Red Nose Day. Did you know that before that day was over, the equivalent of all the money that comic relief had raised in Britain, about 12 million pounds, had come back to the rich countries? For every day this amount is given by the poorest to the rich on interest payments on loans that most of them never asked for or knew existed. In other words, contrary to a myth long popular in the West, it has been the poor of the world who have financed the rich, not the other way around.”[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی ربط

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم