آسٹریلیا کے دار الحکومت کینبرا میں دسمبر 2014 میں ایک ایرانی نژاد پچاس سالہ مسلح باشندے شیخ ہارون مونس نے سولہ گھنٹوں تک ایک ہوٹل میں کئی افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل جدو جہد کے بعد پولیس نے یرغمال بنائے گئے لوگوں کو کے قبضہ سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسی کی وجہ سے آسٹریلیا میں ہائی الرٹ کا ماحول بنا ہوا تھا ۔

فہرست

اختتامترميم

اس یرغمال بنانے کے معاملے میں شیخ ہارون مونس مڈبھیڑ میں مار دیا گیا۔ دو اور افراد بھی مارے کئے تھے۔ آسٹریلیائی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے سڈنی کے اس کیفے پہنچ کران دو افراد کو خراج پیش کیا تھا۔ [1]

دہشت گردی کی پرزور حمایتترميم

شیخ ہارون مونس کی اہلیہ نے اا/ستمبر کے امریکہ پر ہوئے دہشت گرد حملوں، 2002 کے بالی حملوں اور جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام کی حمایت میں انٹرنیٹ پر کئی ویڈیوز زبراثقال کیے تھے۔

آسٹریلیائی مسلمانوں کا ردعملترميم

آسٹریلیائی مسلمانوں نے سانحہ میں مارے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کچھ مسلمانوں نے تو موقع واردات پر گلدستے رکھ کر مرنے والے افراد کو کے تئیں اپنے دلی رنج کا اظہار کیا۔ [2]

حوالہ جاتترميم